فیڈریشن کے زونل آفس کی اپنی بلڈنگ ہو گی

فیڈریشن کے زونل آفس کی اپنی بلڈنگ ہو گی
 فیڈریشن کے زونل آفس کی اپنی بلڈنگ ہو گی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے زونل آفس میں مدعو کیا گیا تو اس موقعہ پر پنجاب بھر سے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندے بھی موجود تھے۔ بزنس کمیونٹی کے ہر دل عزیز لیڈر افتخار علی ملک بھی بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ شریک تھے۔

تقریباً دو گھنٹے انتہائی خوشگوار ماحول میں بزنس کمیونٹی کے لیڈروں نے اپنے مسائل گورنر پنجاب کی خدمت میں پیش کئے خوشی کی بات ہے کہ گورنر پنجاب کو بزنس کمیونٹی کے مسائل سے پہلے بھی آگاہی تھی لیکن اس نشست میں جو مسائل اٹھائے گئے انہیں حل کروانے کے سلسلہ میں ملک محمد رفیق رجوانہ نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

آغاز میں ہی یونائیٹیڈ بزنس گروپ کے چیئرمین نے جو گورنر پنجاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، مطالبہ کیا کہ لاہور میں فیڈریشن کا دفتر ایک طویل مدت سے کرائے کی بلڈنگ میں قائم ہے۔ فیڈریشن کا ہیڈ آفس کراچی اور کیپٹل آفس اسلام آباد بنانے کے علاوہ انہوں نے سارک چیمبر آف کامرس کی بلڈنگ بھی تعمیر کی ہے۔ لاہور زبردست بزنس سینٹر ہے لیکن لاہور کے شایان شان فیڈریشن کی اپنی کوئی بلڈنگ نہیں ہے۔

اگر حکومت مہربانی کرے اور فیڈریشن کے زونل آفس لاہور کے لئے ایک مناسب پلاٹ عطا کر دے تو میں گارنٹی دیتا ہوں کہ بزنس کمیونٹی اپنے خرچے پر زونل آفس لاہور تعمیر کر کے دکھا دے گی۔

یہ مطالبہ سن کر گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ حیران ہوئے کہ زونل آفس کی اپنی کوئی بلڈنگ نہیں ہے پھر انہوں نے افتخار علی ملک سے کہا کہ وہ اپنی تجویز تحریری طور پر تفصیل سے انہیں بھیجیں جس میں بتایا گیا ہو کہ اس قسم کے منصوبے کے لئے وفاقی یا صوبائی حکومت ان کی مدد کیسے کر سکتی ہے؟

مختلف چیمبرز سے آئے ہوئے نمائندوں نے گورنر کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ سرمایہ اور سرمایہ کاری تو موجود ہے لیکن اس وقت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ایسے پراجیکٹس میں ہے جو بے روز گاری ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔ رئیل سٹیٹ میں منصوبہ بندی کے ساتھ سرمایہ کاری بھی ضرور ہو لیکن اس وقت پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو چاہئے کہ وہ پیداواری شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کریں اس وقت اپنے کارخانے قائم کرنے کے بجائے چائنا سے بنی بنائی مصنوعات منگوانے کا رجحان زیادہ ہو چکا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے بارے میں بھی چھوٹی چھوٹی شکایات پیش کی گئیں۔ خصوصاً حال ہی میں ہونے والے اقدام کا تذکرہ ہوا جس کے تحت 713 در آمدی مصنوعات پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے اس اضافہ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ڈالر کو مزید مہنگا ہونے سے بچایا جائے اور ان مصنوعات کی حوصلہ شکنی کی جائے جو پہلے ہی پاکستان میں سستے داموں دستیاب ہیں لیکن فیڈریشن نے ان درآمدی منصوعات کے ساتھ خام مال پر بھی ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا ہے جو انصاف کے خلاف ہے اس لئے خام مال پر زائد ڈیوٹی کو ختم کیا جائے۔

گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے ویسے آتے ہی پوچھا تھا کہ یہاں کوئی ایف بی آر کا نمائندہ موجود ہے تو گورنر کو بتایا گیا کہ کوئی نہیں ہے اس پر گورنر نے کہا کہ اگر ہوتا تو پھر ان کے سامنے بات ہوتی اور مسئلہ حل کرنے میں آسانی رہتی۔ لاہور کے انڈسٹریل ایریا سندر کے بارے میں بھی نئی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ خطوط جاری کئے جا رہے ہیں کہ جو افراد انڈسٹریل پلاٹوں کے مالک ہیں وہ انڈسٹری لگائیں۔

سندر انڈسٹریل سٹیٹ کے نمائندوں نے بتایا کہ اس وقت جو صنعتکار پیداواری یونٹس قائم کر چکے ہیں انہیں گیس اور بجلی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں ہے ایکسپورٹرز میں سے ایک صاحب نے نکتہ اٹھایا کہ کراچی ڈرائی پورٹ سے مال کی ترسیل کا خرچہ کم ہے جبکہ لاہور اور سیالکوٹ سمیت دوسری ڈرائی پورٹس پر خرچہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے نیز پنجاب اور کراچی کے پیداواری یونٹس کے لئے گیس اور بجلی کے نرخ بھی مختلف ہیں پنجاب میں یہ ریٹس زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں تو بعد میں مقابلہ کے قابل ہوں گی۔

خود اپنے ہی ملک میں پیداواری اخراجات مختلف ہونے کی وجہ سے مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ کاری پاکستان کا رخ کر رہی ہے لیکن سب سے بڑی رکاوٹ ٹیکسیشن کی پالیسیاں ہیں اگر ایف بی آر سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر ان کے مسائل حل کر دے اور ٹیکس کی پالیسی حقیقت پسندانہ بنا لے تو بیرون ملک سے بہت زیادہ سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔

فیروز پور روڈ کی انڈسٹری کے ایک سنگین مسئلہ کا ذکر کیا گیا کہ ایل ڈی اے وہاں اپنی رہائشی سکیم بنانا چاہتاہے جس کی وجہ سے پیداواری یونٹس کی کارکردگی نہ صرف متاثر ہو رہی ہے بلکہ نت نئے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ایک دوسرے انڈسٹریل سٹی میں چند رہائشی مکان بنے ہوئے ہیں جہاں ایک ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جس سے انڈسٹری کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے البتہ مشکل سے تین گھنٹے کی الگ لوڈشیڈنگ کی اجازت حاصل کی گئی ہے۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے میٹنگ ختم ہونے کے بعد بتایا کہ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے جس ہمدردی کے ساتھ بزنس کمیونٹی کے مسائل سنے ہیں انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

فیڈریشن کے زونل آفس کی نئی بلڈنگ کے پلاٹ سے لے کر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی بقا اور دوسرے مسائل حل ہونے سے پاکستان میں بے روز گاری کا خاتمہ ہوگا۔ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کی وجہ سے اکیڈیمیہ انڈسٹری سے تعلقات خوشگوار ہوں گے۔

دنیا نے اس طرح سے ترقی کی ہے کہ اپنی یونیورسٹیوں سے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کروائے ہیں۔ امید ہے تجاویز کی آخری تاریخ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن دو ماہ کی توسیع ضرور کر دے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ انڈسٹری فائدہ اٹھا سکے۔

مزید :

کالم -