گندم کا نقصان اور بھارتی پالیسی

گندم کا نقصان اور بھارتی پالیسی
 گندم کا نقصان اور بھارتی پالیسی

  



گندم کے کاروبار سے وابستہ فریقوں کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ بھارت آخر کارچاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کو گندم اور آٹے کے میدان میں فتح کر چکا ہے۔ راقم الحروف نے اس چیلنج کا پتہ چار سال پہلے اپنے انہی کالموں میں دے دیا تھا۔

پرویز مشرف دور میں جب بھارت کے ساتھ تجارت کے لئے آئٹمز کی فہرست مرتب کی گئی تو فلور ملنگ انڈسٹری کے شدید احتجاج پر گندم اور آٹے کو نکال دیا گیا۔

راقم الحروف نے بھارتی گندم کو واہگہ کے ذریعے افغانستان بھجوانے کی اجازت دینے پر بھی شدید مزاحمت کی،جس کی وجہ سے معاملہ ٹل گیا۔ پاکستان الحمد للہ گندم کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہے، بلکہ گندم کی اضافی مقدار بھی ہوتی ہے۔

افغانستان کی ضروریات ہم قیام پاکستان کے بعد سے دو سال پہلے تک سرکاری اجازت کے ساتھ پوری کر رہے تھے۔ افسران کو ہر قسم کی سہولتیں دی جاتی ہیں، مگر اسلام آباد میں جاتے ہی وہ نیند کی گولیاں کھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے گندم برآمد کرنے کی کوئی پالیسی خود اپنے ذہن سے نہیں بنائی،اس کے باوجود کہ بھارت ایران کے ساتھ چاہ بہار سے لے کر افغانستان تک سڑک بنا رہا ہے، جو پاکستان کو معاشی طور پر کچلنے کے مترادف ہے۔

ہمارے افسران اپنی سہولتیں بڑھاتے رہے اور پالیسی کے میدان میں مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میل ملاپ کے ذریعے حکومت پاکستان کو اور اسحاق ڈار صاحب کو ایکسپورٹ ری بیٹ کی بنی بنائی پالیسی دے دی، جس پر 85فیصد فلورملنگ انڈسٹری کے اعتراضات کے باوجود بے ہنگم ایکسپورٹ کو جاری رکھا گیا، جو ایکسپورٹ نہیں ،بلکہ افسرا ن اور مافیا کا ہنی مون تھا، جس کے ذریعے ملکی مفادات کو نقصان پہنچایا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گندم بھی ایکسپورٹ نہ ہوئی اور دوسری طرف اضافی گندم کا حجم بڑھتا ہی چلا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ بھارت کے پالیسی سازوں نے اپنے ملک کی معیشت کا سوچا، جبکہ ہمارے پالیسی سازوں نے 18فیصد فلور انڈسٹری کے ساتھ مل کر ’’اپنی‘‘ معیشت کا سوچا، بس ملک سے محبت کا فرق ہے۔

یہاں اپنے ملک میں گندم ضائع ہو رہی ہے اور اس سال بھی پنجاب میں وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی گڈ گورننس کو چیلنج کرنے پر ایشو پالیسی جاری کر دی گئی ہے، جس کا مقصد ہی یہ ہے کہ سرکاری گندم کا اجرا نہ ہو سکے اور 10فیصد لوگ مارکیٹ سے کھیلتے رہیں۔

موجودہ حالات میں پندرہ دن ہو گئے ایشو پالیسی کو جاری ہوئے کسی نے سرکاری گندم نہیں اٹھائی، جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومت پنجاب کو بتانا ہے کسی کو یہ فکر ہی نہیں کہ بڑھتی ہوئی ا ضافی گندم سے بینکوں کا قرضہ اور سود بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اضافی گندم کا فائدہ یہ بھی ہے کہ بڑھتا ہوا سٹاک محکمہ خوراک کے اہلکارو ں کا ہنی مون ثابت ہوتا ہے۔

پالیسی سازوں کو ’’ملک سے محبت کرنے‘‘ کے ٹریننگ کورسز پر بھارت بھیج دیا جائے تاکہ واپس آ کر وہ کم از کم ملک کے فائدہ والی پالیسیاں بنائیں۔ آئندہ برس الیکشن میں اور موجودہ حکومت کو کاشت کاروں کو خوش کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹارگٹ کے ساتھ گندم خرید کریں گے، چاہے اِس کے لئے جگہ ہو نہ ہو، میاں شہباز شریف صاحب کو اِس سلسلے میں مکمل مس گائیڈ کیا جا رہا ہے اور ہمارے محترم وزیر خوراک سکندر بوسن اور بلال یٰسین صاحب کی انتھک کوششوں کو ضائع کیا جا رہا ہے، حالانکہ اس کا سید ھا حل یہ ہے کہ مصنوعی ایکسپورٹ کی بجائے گندم کے اضافی سٹاکس کو کلیئر کیا جائے اور اس سلسلے میں عوام کو فائدہ پہنچائیں۔ری بیٹ کی جگہ ریلیف پر آ جائیں اور گندم کے نرخوں کو ملک بھر میں کم کر کے سرکاری گندم کے نقصانات سے بچایا جائے، تین چار سالہ پرانی گندم کو دُنیا بھر میں کوئی نہیں خریدے گا، لہٰذا میاں صاحب ابتدا کریں، اضافی گندم کم ہو گی توکوئی بھوکا نہیں مر جائے گا،بلکہ اربوں روپے کے سود کی بچت حکومت ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں پر خرچ کر سکے گی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی گزارش ہے کہ وہ محکمہ خوراک کی ان بے سمت پالیسیوں کی تحقیق کریں اور اگر ہم گندم خریدتے اور اس کی نکاسی کا بندوبست نہیں کر سکتے تو پھر گڈ گورننس کیا ہے؟ اور پھر سرکار گندم کی خریداری سے نکل کیوں نہیں جاتی، ہمارے سفارت کار بھی نیند کی گولیاں کھا کر سوتے رہے ۔ بیماری انڈسٹری کی نمائندگی کرنے والے بھی ری بیٹ کی گولی کھا کر سوتے رہے اور بھارت افغانستان کی مارکیٹ لے اڑا۔خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

مزید : کالم