جنرل یحیٰی خان کی جان جس ماتحت جنرل کی مٹھی میں بند تھی،کیا آپ جانتے ہیں پاکستان توڑنے میں اسکا کتنا بڑا ہاتھ تھا ؟ 1971میں پاکستان ٹوٹنے کے بعد اس جنرل کے ساتھ حکومت نے کیا سلوک کیا تھا ،جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے 

جنرل یحیٰی خان کی جان جس ماتحت جنرل کی مٹھی میں بند تھی،کیا آپ جانتے ہیں ...
جنرل یحیٰی خان کی جان جس ماتحت جنرل کی مٹھی میں بند تھی،کیا آپ جانتے ہیں پاکستان توڑنے میں اسکا کتنا بڑا ہاتھ تھا ؟ 1971میں پاکستان ٹوٹنے کے بعد اس جنرل کے ساتھ حکومت نے کیا سلوک کیا تھا ،جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے 

  

لاہور(ایس چودھری)1971ء کی جنگ کے بعد مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کا ذمہ دار جنرل یحیٰی خان ا ور ذوالفقار علی بھٹو دونوں کو قرار دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی انا کی خاطر پاکستان کے دوٹکڑے کردئیے ۔ذوالفقار علی بھٹو پر سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے شیخ مجیب کی جیت کو قبول نہیں کیا تھا اور ہوس اقتدار میں مبتلا ہوکر ’’اُدھر تم اِدھر ہم ‘‘ کا نعرہ لگا کر ملک توڑنے کا راستہ ہموار کردیا تھا جبکہ اس وقت کے صدر اور کمانڈر انچیف یحٰیی خان نے غلط جنگی حکمت عملی سے مشرقی پاکستان میں رسوا کن حالات پیدا کردئیے جس کے بعد فوج کو انتہائی شرمناک انداز میں ہتھیار ڈالنا پڑے اور نوے ہزار سے زائد فوج کو بھارت نے قیدی بنالیا تھا ۔تاہم جنگ کے خاتمہ کے بعد جب حمود الرحمن کمیشن بنا کر فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت اوراکہتر کی جنگ میں اسکی ذمہ داریوں کا تعین کیا جانے لگا تو عقدہ کھلا کہ جنرل یحیٰی خان کے علاوہ بھی ایک لیفٹینٹ جنرل تھا جس کی مٹھی میں یحییٰ خان کی جان بند تھی اور وہ اسکی ہدایات پر عمل کرتے تھے ۔ یہ لیفٹنٹ جنرل عبدالحمید خان تھے جو چیف آف آرمی سٹاف تھے مگر حیققت میں ا نہیں ہی ڈی فیکٹو کمانڈر انچیف کہا جاتا تھا کیونکہ یحییٰ خان اپنی عیاشیوں میں مست رہتے ہوئے اہم قومی فیصلوں کی صلاحیت کھوچکے تھے ۔

جنرل عبدالحمید خان کا براہ راست فوج پر اثر تھا اور قومی فیصلوں پر اثر انداز بھی وہی ہوا کرتے تھے ۔یہ وہی جنرل تھے جنہوں نے 1965کی جنگ میں قصور سے آگے بھارتی علاقہ کھیم کرن تک فتوحات حاصل کرلی تھیں۔ یحییٰ خان نے جب مارشل لا لگایا تو جنرل عبدالحمید خان کو ڈپٹی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر لگادیا گیا تھا ۔اکہتر کی جنگ کے بعد حمود الرحمن کمیشن کی 1972 میں جو پہلی رپورٹ صدر ذوالفقار علی بھٹو کو فراہم کی گئی اس میں جنرل عبدالحمید خان کا نام بھی شامل تھا کہ جن سے جسٹس حمود الرحمن کمیشن نے سخت ترین انٹرویو کرکے ان کی اکہتر کی جنگ میں حیثیت کو واضح کیا تھا۔ بھٹو کو جنرل عبدالحمید خان کے بارے میں کسی قسم کا مغالطہ نہیں تھا لہذا اکہتر کی جنگ کے بعد جب انہوں نے بیس دسمبر انیس اکہتر کواقتدار سنبھالا تو اسی روز جنرل عبدالحمید خان کو بھی برطرف کردیاتھا ۔ ان پر کڑی تنقیدی بھی کی گئی کہ جنرل یحییٰ خان کو غلط پٹیاں پڑھانے میں جنرل عبدالحمید خان مختار کل تھے اور جنرل یحییٰ خان ان پر انحصار کرتے تھے ۔جنرل عبدالحمید خان نے بعد ازاں گمنامی کی زندگی اختیار کرلی اور لاہور کینٹ میں ان کا انتقال ہوا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ پاکستان کو دو لخت کرنے والا ایک اہم کردار دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ۔

مزید : دفاع وطن