یہ نہیں ہے کہ ہم سرنڈر ہو جائیں گے،ہم نے استعفیٰ لینا ہے اور لڑ کر لینا ہے :مولانا فضل الرحمان

 یہ نہیں ہے کہ ہم سرنڈر ہو جائیں گے،ہم نے استعفیٰ لینا ہے اور لڑ کر لینا ہے ...
 یہ نہیں ہے کہ ہم سرنڈر ہو جائیں گے،ہم نے استعفیٰ لینا ہے اور لڑ کر لینا ہے :مولانا فضل الرحمان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت رخصت نہ ہوئی تو ملک میں افراتفری ہو گی، مسکن ڈی چوک یا شاہراہ دستور ہو فیصلہ اب عوام نے کرنا ہو گا، شاید یہ اب میرے اختیار سے بھی باہر نکل گیا ہے۔

اسلام آباد پہنچنے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کراچی سے شروع ہونے والا پُرامن آزادی مارچ کا قافلہ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہو چکا ہے، دوران سفر عام شہریوں کے تمام حقوق کا مکمل خیال رکھا گیا، ہم نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ ہم امن پسند  لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہیہ نہیں ہے کہ ہم سرنڈر ہو جائیں گے، ہم نے حتمی طور پر ان سے استعفی لینا ہے اور لڑ کر لینا ہے، آرام سے نہیں لینا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں دو تین روز انھیں اسلام آباد میں بیٹھ کر بھی مہلت دینی چاہیے۔اس سوال کے جواب میں کے دو تین کے بعد کیا ان کا مسکن ڈی چوک یا شاہراہ دستور ہو گا؟ مولانا کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ اب عوام نے کرنا ہو گا، شاید یہ اب میرے اختیار سے بھی باہر نکل گیا ہے،دھرنا مارچ سب کچھ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم 25جولائی 2018 کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے، ہم نے اول دن سے حضرت حسینؓ کی پیروی کرتے ہوئے اس حکومت کو مسترد کیا تھا، اس لئے اس کے خلاف نکل چکے ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد