پاکستان نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو مسترد کردیا

پاکستان نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو مسترد کردیا
پاکستان نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو مسترد کردیا

  



اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے بھارتی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں سٹیٹس کو میں تبدیلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدات بالخصوص شملہ معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے، بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی بھی اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا، یہ تبدیلیاں غیرقانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کالعدم ہیں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے خودارادیت کے حق کو متاثر نہیں کرتیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے بھارتی اقدام کو مسترد کردیا ہے۔جمعرات کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہاگیا کہ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں سٹیٹس کو میں تبدیلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدات بالخصوص شملہ معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی بھی اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ یہ تبدیلیاں غیرقانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کالعدم ہیں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے خودارادیت کے حق کو متاثر نہیں کرتیں۔پاکستان زوردیتے ہوئے خاص طورپر قراردیتا ہے کہ پانچ اگست دوہزار انیس کوبھارت کے اعلان کردہ غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام پر بندوق کی نوک پرمسلط کئے گئے ہیں جہاں نو لاکھ سے زائد بھارتی افواج داخل کرکے اس خطہ کو کھلی جیل میں تبدیل کیاجاچکا ہے۔ جہاں سیاسی رہنما، سول سوسائیٹی کے ارکان، خواتین اور بچوں سمیت عام شہری غیرقانونی قید وبند کی صعوبتوں میں ہیں۔ اسی لاکھ کشمیری عوام پر ایک آہنی چادرتان کر ان کا رابطہ دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔ مسلسل کرفیونافذ اور عوام کی نقل وحرکت پر پابندی عائد ہے۔عوام خصوصا خواتین اور بچوں کو قابض بھارتی افواج جبروتشدد کا نشانہ بنارہی ہیں۔غیرقانونی اور یک طرفہ بھارتی اقدامات کسی طورپر بھی بھارت کا داخلی معاملہ نہیں جس کا بین ثبوت جموں وکشمیر تنازعہ کا سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہنوز موجود ہوناہے۔

مزید برآں بھارتی حکام کے جھوٹے دعوں کے برعکس بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں غیرقانونی تبدیلیوں کا مقصد نہ ہی خطے کی ترقی ہے نہ ہی کشمیری عوام کی فلاح ہے بلکہ اس چالبازی کا اصل مقصد انتہاپسندہندتوا کے نظریہ کے تحت ریاست کی غالب مسلم اکثریتی آبادی کا  تناسب تبدیل کرنا ہے۔ بین الاقوامی برادری صورتحال کا نوٹس لے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے اندرباہر سے لا کر آبادکاری عالمی قانون بالخصوص پانچویں جینیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام جابرانہ، طاقت کی بنیاد پر اس غیرقانونی قبضہ کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ بھارت کی طرف سے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو مزید بدتر بنائیں گے اور جنوبی ایشیااور دنیا کے امن، استحکام اور سلامتی کوسنگین خطرے سے دوچار کریں گے۔بھارت معصوم کشمیریوں پر جبروتشدد بند کرے جو سات دہائیوں سے غیرقانونی قبضہ کے تحت تکالیف اور مصائب برداشت کررہے ہیں۔ بھارت فوری طورپر خطہ سے افواج نکالے، ظالمانہ قوانین ختم کرے، عوام کے بنیادی انسانی حقوق بحال کرے، تمام قیدیوں کورہا کرے، نقل وحرکت اور کمیونیکشن پر عائد قدغنوں سمیت تمام پابندیاں ختم کرے، اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کے مبصرین اور بھارت میں آزاد غیرملکی میڈیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل اور بلارکاوٹ رسائی دے۔ ناگزیر تقاضا ہے کہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر بلاتاخیر عمل درآمد کیاجائے۔پاکستاناس وقت تک کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت مل نہیں جاتا۔

مزید : قومی