تیز گام میں قتل ِ عام

تیز گام میں قتل ِ عام

  



ریل کا سفر دُنیا بھر میں محفوظ تر تصور کیا جاتا ہے۔ اس ذریعے سے مسافر زیادہ تعداد میں منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں،مہذب دُنیا میں اسے محفوظ اور آرام دہ بنانے کے لئے کوششیں جاری رہتی ہیں،اسی لئے وہاں حادثات بھی کم ہوتے ہیں،پاکستان میں ریلوے کا نظام بھی عرصہ دراز سے بگڑا ہوا ہے۔گزشتہ دورِ حکومت میں اصلاح کا جو لائحہ عمل بنایا گیا تھا، لگتا ہے اس کی تدفین کی جا چکی ہے۔ فرزند ِ راولپنڈی شیخ رشید ریلوے وزیر ہیں وہ روزانہ دعوے کرتے ہیں،لیکن خسارہ بھی موجود ہے اور نظام بھی مخدوش ہے۔ آج ہی ایک بڑا حادثہ پیش آیا، کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام کی تین بوگیوں میں آگ لگ گئی،اب تک کی اطلاع کے مطابق اس آگ سے70سے زائد افرادجاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں،ان میں سے بھی اکثر کی حالت خراب ہے۔بتایا جاتا ہے کہ تیز گام اپنی رفتار سے جا رہی تھی،صبح ناشتے کے وقت اکانومی کلاس کی ایک بوگی نے آگ پکڑ لی۔گاڑی کی رفتار کے باعث اس میں جلد ہی شدت پیدا ہو گئی،اجتماع کے شرکا کے لیے مختص اکانومی کلاس کی دو بوگیاں شدید متاثر ہوئیں اور ساتھ ہی تیسری بوگی(بزنس کلاس) کو بھی زد میں لے لیا گیا،بعض مسافروں نے جان بچانے کے لیے چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگا دیں۔یوں قریباً 70 جاں بحق اور کئی درجن لوگ زخمی ہوئے انہیں رحیم یار خان اور ملتان تک کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔شیخ رشید کہتے ہیں کہ گیس کے چولہے ممنوعہ اشیاء میں شامل ہیں۔یہ حضرات جو اجتماع میں شرکت کے لئے آ رہے تھے،انہوں نے دو بوگیاں محفوظ کرائی تھیں۔تاہم چولہے کہاں سے لائے اور ان کی پڑتال کیوں نہ ہو سکی۔ اس سوال کا جواب لازماً ملنا چاہئے،اس بڑے حادثے پر وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر وزراء نے دُکھ کا اظہار کیا اور تحقیقات کا عندیہ دیا تو کچھ غلط نہیں ایسا ہونا چاہئے۔یوں بھی شیخ رشید کے دورِ وزارت میں حادثات بہت ہوئے وہ ابھی تک پچھلے حادثات کا حساب بے باق نہیں کر سکے تو نئے حادثات کو کیسے روک سکتے ہیں۔وزیر موصوف کو سیاسی بیان بازی کے بجائے اپنے محکمہ پر توجہ دینا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ