فرینکلی مائی ڈیئر

فرینکلی مائی ڈیئر
فرینکلی مائی ڈیئر

  



جب یہ کالم چھپے گا،ریل گاڑی کے حادثے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کا صحیح تعین کیا جا چکا ہو گا۔ وزیر ریلوے نے ذمہ داری مسافروں پر ڈال دی۔ مسافروں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، مگر سیکیورٹی کی نا گفتہ بہ صورتِ حال کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر موصوف کی زبان نہ لڑکھڑائی۔ ریل کے کئی حادثے ہو چکے۔ اپوزیشن کے زمانے میں چھوٹے سے چھوٹے حادثے پر بھی اس وقت کے وزیر سے استعفا طلب کرنے والے اب کان لپیٹے بیٹھے ہیں۔ ملتان اور کھاریاں کے برن یونٹ گنواتے ہوئے بھی وزیر صاحب کو یاد نہیں آیا کہ پچھلے حادثے میں بھی یہی صورتِ حال تھی اور حکومت کو اب تک اگلے برن یونٹ پر کام تو شروع کر ہی دینا چاہیے تھا۔

بہرحال، ترجیحات کا تعین اس حکومت کے لئے ایک مشکل کام ہے۔جب یہ کالم چھپے گا، مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جے یو آئی اور حلیف جماعتوں کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچ چکا ہو گا۔ اس وقت کیا صورتِ حال ہو گی، کیا تقاریر ہو چکی ہوں گی، مولانا صاحب اپنی اگلی حکمتِ عملی کیا بتائیں گے، واللہ اعلم۔مگر حکومت کا رویہ کسی بھی طور پر حکومتی رویہ نہیں لگ رہا۔ جب سے یہ حکومت بنی ہے، تب سے اب تک کسی بھی صورتِ حال میں اس بات کی سمجھ ضرور آئی ہے کہ حکومتوں کے یہ رویے نہیں ہوتے۔ جب حکومت بنی، بنامِ قوم پہلے پیغام میں وزیرِ اعظم نے فرمایا تھا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنایا جائے گا۔ پھر اس منصوبے پر عمل کے پہلے اور آخری قدم کے طور پرایوانِ وزیرِ اعظم کی گاڑیاں اور بھینسیں ایک ساتھ بیچی گئیں۔ پھر بنی گالہ سے پچاس روپے فی کلومیٹر چلنے والے ہیلی کاپٹر کی پہلی پرواز نے ہی غالباََ یونیورسٹی بنانے کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ ایوانِ صدر کو عام عوام کے لئے کھولا گیا اور ہر اتوار ٹیلی وژن سکرینوں پر باغات میں چہل قدمی کرتے ہوئے بڑے اور بچے کھیلتے ہوئے دکھائے گئے:

’اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق‘ کے مصداق، محرومی کو قریب سے دکھا کر، ایوان کے اندرونی حصوں کی یاترا سے محروم رکھ کر اور صدرِ مملکت کو بھی پہنچ سے دور رکھ کر، یہ تماشا بھی تمام ہوا۔ اس دوران ساہیوال واقعہ میں قتل کئے گئے خاندان کے لواحقین کو گھنٹوں ایوانِ صدر کے باہر صدر سے ملاقات کا جھانسا دے کر اسلام آباد بلا کر، انتظار کرتے دکھایا گیا۔ پھر ایک سہانی صبح، لاہور کے گورنر ہاؤس کی اونچی چاردیواری کو توڑنے کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس چار دیواری کو دہشت گردی کی بڑی لہر کے دوران بنایا گیا تھا اور بہت سی عمارتوں کے لئے یہ اقدام کیا گیا تھا۔ اس وقت کی دہشت گردی جن لوگوں کو یاد ہے، وہ جانتے ہیں کہ ان کے احساسِ جمال کو پریشان کرنے والی یہ چاردیواریاں، کس قدر ضروری تھیں۔ بہرحال، اس پر عدالت کی طرف سے روکنے کے بعد کرنے والوں، کروانے والوں اور بھگتنے والوں، سب نے سکون کا سانس لیا۔ اس کے بعد ایوانِ وزیرِ اعظم، ایوانِ صدر، اور صوبوں کے گورنر ہاؤس، کئی بڑے وفود اور شخصیات کی میزبانی فرما چکے ہیں۔ ان میں وزارتِ خارجہ کے میٹنگ روم میں ”ٹک ٹاک“ ویڈیو بنانے والی خاتون کو ازراہِ کرم، شامل نہ کریں۔

یہ تو چند عمارتوں سے متعلق معاملات تھے۔ انڈے، مرغی، کٹے وغیرہ کی قوم کے بے روزگار سپوتوں اور سپتریوں کوسستے داموں فراہمی بھی ایک ایسا شوشا تھا جو غالباََ معیشت کو سونے کے انڈے دینے والی مرغی بنا سکتا تھا۔ اسی طرح بے گھروں کے لئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے خواب بھی کہیں ہوائی قلعے بن رہے ہیں۔ انیل مسرت تواکیس اکتوبر 2019کی خبر کے مطابق فرما چکے کہ وہ اس پراجیکٹ کے لئے کوئی پیسے نہیں دینے والے۔ پیسوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ ایک سال مکمل نہیں ہوا اور حکومتی قرضے ریکارڈ بن چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے وزراء جب عمران خان کے انداز کی ہو بہو نقالی کرتے ہوئے استہزائیہ انداز میں فرماتے ہیں کہ ہم نے پچھلے قرضے واپس کرنا تھے تو ان کی باتوں پر آمنا وصدقنا پڑھنے والے معتقدین بھول جاتے ہیں کہ پچھلے قرضے تو سب نے واپس کرنا ہوتے ہیں، پر ایک سال میں یوں قرضے لینے کا ریکارڈ بھی کسی نے قائم نہیں کیا،بلکہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں قرضے لئے گئے تو ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ اب ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں۔ پشاور میٹرو،جو لاہور، اسلام آباد اور ملتان میٹرو کو طعنے دینے والوں نے بالآخر شروع کی تھی، وہ تقریباََ سات برس گزر جانے کے بعد بھی مکمل نہیں ہو پائی۔ دوسروں کے آڈٹ کروانے والے یہ بھول گئے ہیں کہ اتنے برس، اتنے پیسے، اتنا وقت اورپشاور میں اتنے کھڈے……خدارا اس کو مکمل ہی کر دیں۔ مگر انہیں ویسے بھی سڑکیں،سترہ سو کلومیٹر طویل موٹر وے،تین میٹرومنصوبے، ایک اورنج ٹرین اور دیگر ترقیاتی کام پسند نہیں تھے، بلکہ کہتے تھے کہ کچھ اور کرنا ہے۔ وہ کچھ اور بھی ہو نہیں پایا۔کوئی نیا ہسپتال نہیں، ماسوائے ایک ”روحانیاتی جامعہ“ کے افتتاح کے، کوئی نئی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ بھی نہیں۔

بجلی کے نئے منصوبے بھی نہیں، سی پیک پر کام بند، ہاں ہماری تنخواہوں سے بڑے ڈیموں کے لئے پیسے ضرور کاٹے گئے تھے۔ ان ڈیموں کی زمین پچھلے دورِ حکومت میں خریدی جا چکی تھی۔ اس کے بعد پانی کی شدید اور خطر ناک کمی وغیرہ کا دوبارہ کوئی ذکر نہیں ہوا۔ ڈیم کی حفاظت کا ٹھیکہ لینے والے بھی منظر سے غائب ہوئے۔ ہاں کبھی کبھی کسی دور کے دیس میں کچھ دوسرے غائب شدگان کے ساتھ فوٹو وغیرہ دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ اس سب صورتِ حال کو یاد کروانے کا مقصد یہ ہے کہ اس حکومت کا ایک خاص رویہ ہے۔ یہ حکومتی نمائندے شاید یہ سوچ کر آئے تھے کہ حکومت شاید خود بخود چلتی ہے۔ بلانے والے بھی یقینا یہی سمجھتے رہے کہ ہمارا حصہ بھتہ ملتا رہے، باقی تو شاید خود بخود چلتا ہے۔ گو ایک کام، یعنی واپس امریکہ سرکار کی خدمت میں گھٹنے ٹیکنے کا سہرا، یقینا انہی کو جاتا ہے۔

اب اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ اس حکومت اور ہماری ریاست کو درپیش ہے، یا درپیش ہونا چاہیے، وہ کشمیر کی صورت حال ہے۔ ہم نے مل جل کر وزیرِ اعظم کی تقریر پر تالیاں پیٹیں۔ تقریرمیں نعرے بازی کے سوا کیا تھا؟ کیا کوئی ایجنڈا یا لائحہ عمل تھا؟ کیا کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی طرف اشارہ تھا؟ ٹھوس قدم سے مراد صرف جنگ نہیں ہوتی۔ ہم تو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں پٹیشن داخل کرنے کے لئے سولہ ووٹ اکٹھے نہیں کر سکے۔ ہاں جو ٹھوس قدم اٹھایا جا رہا ہے، وہ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے معاملات ہیں، جس میں وزیرِ اعظم پاکستان نے خاص طور پر نوجوت سدھو کو دعوت بھیجی ہے۔ یعنی ہمیں کشمیر میں محصور، لڑتے، مرتے، دنیا سے کٹے ہوئے، پیلٹ گن کی گولیاں کھاتے اور عزت لٹاتے لوگوں سے یہ ہمدردی ہے کہ ہم پاکستان بھارت سرحد پر، بھارت کے سکھوں کو ایک راہداری فراہم کرنا کچھ عرصہ کے لئے موخر نہیں کر سکتے۔

ہم نے ابی نندن کو پورے پروٹوکول کے ساتھ واپس لوٹایا۔ ہمارے لوگ شہید ہوئے، پاکستانی فضائی حدودمیں داخل ہوا گیا، مگر ہم نے دنیا کو اپنا نرم چہرہ دکھانے کا بہانہ کیا اور بھارت کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا…… آخر اس حکومتی رویے کا دفاع کیسے کیا جائے؟ ”گون وِد دی وِنڈ‘مارگریٹ مچل کا شہرہ آفاق ناول ہے اور اس پر بنائی گئی فلم بھی شاندار تھی۔ناول کی ہیروئن سکارلٹ او ہارا کو آخری سین میں ریٹ بٹلر کا ایک لازوال مکالمہ ہے۔ وہ کہتا ہے: ”فرینکلی مائی ڈیئر، آئی ڈونٹ گِو اے ڈیم“۔ یہی رویہ اس حکومت، حکومتی نمائندوں اور معتقدین کا ہے۔ دے جسٹ ڈونٹ گِو اے ڈیم۔

مزید : رائے /کالم