ایک کروڑ نوکریوں سے حکومت کا یو ٹرن

ایک کروڑ نوکریوں سے حکومت کا یو ٹرن
ایک کروڑ نوکریوں سے حکومت کا یو ٹرن

  



موجودہ حکومت کے پلے کیا ہے، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اس کا ایک بار پھر پول کھول کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک کروڑ سرکاری نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔حکومت پچھلے سوا سال سے جو کچھ کر رہی ہے،عوام کو اِس سے ویسے بھی کوئی امیدیں اور توقعات باقی نہیں رہ گئیں،لیکن مذکورہ وفاقی وزیر نے تو جیسے ”کھوتا ہی کھوہ میں ڈال دیا ہے“۔اب عوام کس سے فریاد کریں اور کہاں جا کر دہائی دیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے،ہاتھ ہو گیا ہے۔لوگ جسے سونا سمجھے تھے،وہ تو پیتل بھی نہیں ہے۔انہیں سنہرے مستقبل کے سہانے خواب دکھائے گئے تھے اور اب ناامیدی اور یاسیت کی کالی رات کے اندھیروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ہمارے وزیراعظم یو ٹرن لینے میں کوئی عار نہیں سمجھتے،بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں،اب وزراء نے بھی وہی رنگ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے عوام کو مایوسی کی یہ خبر سنائی تھی،بلکہ اعتراف ناکامی کیا تھا کہ بیرون ملک بھیجی گئی رقم واپس پاکستان نہیں لائی جا سکتی،یعنی بیرون ملک بھیجے گئے سرمائے کو واپس پاکستان لانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ1990ء کی دہائی سے ہی پیسہ بیرون ملک جانا شروع ہو گیا تھا۔ گزشتہ20برسوں میں 6ارب ڈالر سالانہ بیرون ملک منتقل ہوئے۔لوگوں نے پیسہ باہر بھیج کر جائیدادیں بنائیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور غالباً بعد میں بھی متعدد بار بیرون ملک موجود پاکستانیوں کا پیسہ واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا،لیکن اب چیئرمین ایف بی آر نے اعتراف کر لیا ہے کہ پیسہ واپس نہیں لایا جا سکتا،یعنی اس حوالے سے بھی عوام کو ایک طرح سے دھوکا ہی دیا گیا۔یو ٹرن تو حکمرانوں پر ختم ہے، چنانچہ اب کسی دن کوئی اور وزیر آگے آئے گا اور یہ اعلان کر دے گا کہ موجودہ صورتِ حال میں حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ عوام کے لئے پچاس لاکھ گھر بنائے،اِس لئے عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے لئے گھر کا بندوبست خود ہی کر لیں۔یہاں صورتِ حال تو یہ ہے کہ لوگ اپنے کاروبار بند کر رہے ہیں،مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور لوگوں کی آمدنی کے ذرائع سکڑتے جا رہے ہیں۔ وہ جو گزرے کل میں دال روٹی کھا لیتے تھے،بازار سے سستی سی سبزی لے آتے تھے کہ ایک دن کا پورے گھر کا گزارہ ہو جائے،آج ان کو وہ بھی نہیں مل رہی۔بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے اور حکمران ہیں کہ نئی نئی ”خوشخبریاں“ سنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے۔

ان وزیر صاحب کو سامنے لایا جائے،جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ،جونہی عمران خان اقتدار میں آئیں گے بیرون ملک پاکستانیوں کے200 ارب ڈالر واپس آ جائیں گے،سو ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ساہو کاروں کے منہ پر ماریں گے اور سو ارب ڈالر سے ترقیاتی کام انجام دیئے جائیں گے۔ان سے پوچھا جائے کہ کہاں ہیں وہ 200 ارب ڈالر، کہاں ہیں ان کے دعوے اور کہاں ہیں عمران خان کے وعدے؟ سرکاری نوکریاں دینے سے انکار کرنے والے وفاقی وزیر نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے یہ دلیل دی کہ سرکاری نوکری کل افرادی قوت کا 6فیصد ہیں،اگر سرکاری نوکریاں 12فیصد بھی کر دی جائیں تو تمام سرکاری ادارے بیٹھ جائیں گے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے تمام سرکاری اداروں میں میرٹ کے خلاف بھرتیاں کیں،جس کی وجہ سے اداروں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ ان کی یہ بات درست ہے،

لیکن کس نے کہا ہے کہ ماضی کی طرح پرانے اداروں میں ہی مزید لوگوں کو کھپا کر ان پر بوجھ بڑھاتے جاؤ۔اس کے لئے نئے منصوبے شروع کرنے پڑتے ہیں،نئی سرگرمیوں کا آغاز کرنا پڑتا ہے،لیکن یہاں تو بیان بازی سے ہی کسی کو فرصت نہیں ہے، عوام کے مسائل حل کرنے پر کون اور کیسے توجہ دے اور پھر عوام ترجیحات میں شامل ہوں تو ان کی طرف کوئی دیکھے؟وزیر موصوف نے اسی پر بس نہیں کی،یہ بھی فرمایا کہ حکومت اپنے ماتحت 400اداروں کو بند کرنے پر غور کررہی ہے۔ان کے اس بیان پر عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بجا طور پر سخت ردعمل سامنے آیا اور اسے تحریک انصاف کا ایک اور یوٹرن قرار دیا گیا تھا۔یہ ردعمل بہت تھوڑا ہے۔ حکومت اگر چار سو ادارے بند کر دے گی تو نظام حکومت کیسے چلے گا اور ان اداروں سے فارغ ہونے والے کہاں نوکریاں تلاش کرتے پھریں گے؟یعنی نوکریاں یہ دے نہیں سکتے اور جو برسر روزگار ہیں،انہیں بھی نکالنے کا سوچا جا رہا ہے۔کیا اسی کو گڈ گورننس کہتے ہیں؟

مزید : رائے /کالم