صحت ِ زبان کا مسئلہ

صحت ِ زبان کا مسئلہ
صحت ِ زبان کا مسئلہ

  



ہر ماہ جب مجھے اسلام آباد سے ”اخبار اردو“ موصول ہوتا ہے تو مجھے وہ اسرائیلی پیغمبر بہت یاد آتے ہیں جو دو عشرے سے زائد عرصہ تبلیغ کرتے رہے، مگر کسی نے ان کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی۔ ان سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ کو خوب علم ہے کہ لوگ آپ کی باتوں پر توجہ نہیں دیتے تو آپ تبلیغ سے باز کیوں نہیں آتے؟ اس پر اس اسرائیلی پیغمبر نے جواب دیا کہ اب مَیں سچ کی تبلیغ اس لئے کرتا ہوں کہ کہیں مَیں خود اس سچ کو نہ بھول جاؤں۔ جناب افتخار عارف کی سربراہی میں نکلنے والے ”اخبار اردو“ میں ایسے مضامین ہوتے ہیں جو ان تحقیقی اور علمی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں جنہیں اب ہم فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ اس جریدے کے مدیر اعلیٰ سردار احمد پیرزادہ ہیں۔ پیرزادہ صاحب کی آنکھیں نہیں، بلکہ دِل روشن ہے۔

ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے ان کے علم کی وسعت پر حیرانی ہوتی ہے۔ ”اخبار اردو“ کے حالیہ شمارے میں پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا ایک مضمون ”صحت ِ زبان“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے زبان کی غلطیوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ہمارے ہاں طوطا ”ط“ سے لکھا جاتا ہے، مگر فاضل مضمون نگار کا خیال ہے کہ توتا خالصتاً مقامی یعنی دیسی (اردو یا ہندی کہہ لیجئے) کا لفظ ہے۔ اس میں طوئے لکھنے کا جواز نہیں ہے۔ اسے تے سے یعنی توتا لکھنا چاہیے۔ اردو کی کئی مستند لغات کے مولفین متفق ہیں کہ درست املا توتا ہے اور طوطا غلط طور پر مشہور ہو گیا۔ یہ ضرور ہے کہ مشتاق احمد یوسفی کے بقول طوئے سے طوطا لکھا جائے تو نہ صرف یہ کہ زیادہ ہرا لگتا ہے بلکہ طوئے کی (شکل) کی وجہ سے چونچ بھی نظر آنے لگتی ہے۔ توتے یا طوطے کا ذکر ہو تو پھر توتی یا طوطی پر بھی توجہ دینا ہو گی۔

پروفیسر پاریکھ کے بقول سبز رنگ کے پرندے کے مفہوم میں ایک لفظ ”توتا“ ہے (تے سے) اور اس کی تانیث کے طور پر توتی (تے سے) کا لفظ رائج ہے، لیکن ایک دوسرا لفظ بھی لغات میں استعمال ہوا ہے اور یہ طوطی یا توتی ہے،جو ہرے رنگ کے پرندے،یعنی توتا کی تانیث نہیں ہے،بلکہ ایک الگ لفظ ہے اور اس کا تلفظ بھی الگ ہے۔ فرہنگ آصفیہ میں ”توتی“ (واؤ معروف سے) کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک خوش آواز چھوٹی سی سبز یا سرخ رنگ کی چڑیا کا نام ہے جو توت کے موسم میں اکثر دکھائی دیتی ہے اور شہتوت کمال رغبت سے کھاتی ہے،چنانچہ اسی وجہ سے اس کا نام توتی رکھا گیا ہے۔ اہل دہلی اس کو مذکر بولتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ مولوی سید احمد دہلوی نے اپنی کتاب ”محاکمہ مرکز اردو“ کے علاوہ اپنی لغت ”فرہنگ آصفیہ“ میں بھی درج کیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ استاد ابراہم ذوق دہلوی نے ایک لکھنوی شاعر کی زمین میں غزل کہی جس میں ایک شعر یہ بھی تھا:

ہے قفس سے شور اک گلشن تلک فریاد کا

خوب طوطی بولتا ہے ان دنوں صیاد کا

ایک لکھنوی شاعر نے یہ سن کر اعتراض کیا کہ آپ نے طوطی کو مذکر باندھا ہے، حالانکہ اس میں یائے معروف (یعنی چھوٹی ی) بطور علامت تانیث موجود ہے۔ ذوق نے جواب دیا کہ محاورے میں توتی مذکر ہی ہے اور محاورے میں کسی کا اجارہ نہیں ہوتا، پھر انہیں اپنے ساتھ دہلی کی جامع مسجد کے قریب لگنے والے پرندوں کے بازار میں لے گئے۔ ایک دہلی والے صاحب طوطی کا پنجرہ لئے آ رہے تھے۔ لکھنوی شاعر نے پوچھا: ”بھیا تمہاری طوطی کیسی بولتی ہے“؟۔اس دہلوی نے جواب دیا: ”میاں تمہاری بولتی ہو گی، یاروں کا طوطی تو خوب بولتا ہے“۔ لکھنوی شاعر بہت خفیف ہوئے اور اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔پروفیسر پاریکھ صاحب نے فرمایا ہے کہ اخبارات میں جو لفظ ضبطگی شائع ہوتا ہے،وہ غلط ہے۔ درست لفظ ضبطی ہے۔ آج کل کے اخبار نویسوں نے اکبر الٰہ آبادی کا یہ مشہور شعر شاید نہیں سنا:

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں

کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ہراسگی کوئی لفظ نہیں ہے،اس کی بجائے ہراسانی استعمال ہونا چاہئے۔ اسی طرح وضاحت کی گئی ہے کہ ماخذ اور مآخذ دونوں درست ہیں،لیکن مفہوم میں فرق ہے۔ ماخذ واحد ہے اور مآخذ اس کی جمع ہے۔ پروفیسر پاریکھ صاحب کے مطابق پی ایچ ڈی کے مقالوں اورعلمی کتابوں کے آخر میں ایسی کتابوں اور مقالات وغیرہ کی فہرست دی جاتی ہے جن سے اس مقالے یا کتاب کا مواد حاصل کیا گیا ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ اکثر اس ”مآخذ“ (یعنی جمع) کی بجائے ”ماخذ“ (یعنی واحد) کا لفظ لکھا جاتا ہے حالانکہ کئی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہوتا ہے۔پروفیسر صاحب نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک پروفیسر صاحب جو ماشااللہ ایک جامعہ میں صحافت کا مضمون پڑھاتے ہیں،ایک ادبی کانفرنس میں یوں گویا ہوئے: فلاں نقاد کا انتقال 8ستمبر 2011ء ”میں“ ہوا تب سمجھ میں آیا کہ آج کل اردو کے اخبارات میں اتنی خراب اردو کیوں لکھی جاتی ہے۔ جب صحافت کا استاد ہی غلط زبان بولے گا تو اس کے شاگرد اخبارات میں بطور صحافی بھرتی ہو کر اسی طرح اردو کی مٹی پلید کریں گے۔ اب بعض ٹی وی چینلوں پر بھی عام طور پر وفات یا پیدائش کی تاریخ غلط طور پر یوں ہی بتائی جاتی ہے کہ فلاں صاحب پانچ جنوری 1928ء ”میں“ پیدا ہوئے، حالانکہ یہاں ”میں“ کا نہیں ”کو“ کا عمل ہے۔

پروفیسر رؤف پاریکھ صاحب کے اس علمی مضمون کو پڑھتے ہوئے باربار یہ خیال آیا کہ وہ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا سے دوردور رہتے ہوں گے۔ وگرنہ انہیں زبان کی جو غلطیاں پہاڑ دکھائی دیتی ہیں وہ چوہا بھی نظر نہ آتیں۔ سوشل میڈیا پر جو زبان لکھی جاتی ہے، اس میں صحت زبان کا خیال رکھنے سے خاصا پرہیز کیا جاتا ہے۔ اردو میں انگریزی کے الفاظ کثرت سے استعمال کئے جاتے ہیں،مگر انگریزی کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے،اس پر بجاطور پر محسوس ہوتا ہے کہ انگریزوں سے ان کی دو سو سالہ حکمرانی کا انتقام لینے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹی وی چینل پر خاتون اینکر کو صحت زبان کی بجائے اس کے حسن کے زیادہ نمبر دیئے جاتے ہیں، جبکہ مرد کے لئے بدتمیز اور جھگڑالو ہونا ضروری ہے۔

پروفیسر پاریکھ جیسے لوگ اب بہت کم رہ گئے ہیں، جو محبت سے دوسروں کی اصلاح کرتے تھے۔ اب ایسے خودسر اور احمق لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے،جو اپنی حماقتوں کو بھی ادب اور صحافت کے شاہکار قرار دیتے ہیں۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کا المیہ محض اتنا نہیں ہے کہ وہاں صحت زبان کا خیال نہیں رکھا جاتا، بلکہ دکھ کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے ہماری سوچنے کی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب اکثر لوگ حقائق کی بجائے عام زندگی میں سنسنی خیز سرخیاں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاملات کو صبروتحمل کی بجائے لڑائی اور جھگڑے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں بہرحال یہ سوچنا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔ کانٹوں کی کاشت کر کے پھولوں کی پیداوار کی امید کو حماقت کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔

مزید : رائے /کالم