ایف بی آر، ٹیکس اصلاحات، کسٹم اتھارٹی اورمدینہ ریاست (2)

ایف بی آر، ٹیکس اصلاحات، کسٹم اتھارٹی اورمدینہ ریاست (2)
ایف بی آر، ٹیکس اصلاحات، کسٹم اتھارٹی اورمدینہ ریاست (2)

  



ایمان کی ایسی کیفیت بنانے کے لئے قرآن حکیم کے ساتھ تمسک پیدا کرنا ہوگا۔ گویا ہماری زندگی کے اندر ”قرآن و سنت“ کی تعلیم کے ذریعے، اللہ رب العزت کی ذات کا استحضار پیدا ہوگا۔مدینہ ریاست کی خصوصیات میں سے، سب سے اہم یہ خصوصیت تھی کہ اپنے مالک و خالق کے ساتھ…… ایسا تعلق پیدا ہو کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اور اس کی غلامی (بندگی) ہی اس کی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کلید ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر افراد کی ایمانی کیفیت یہ ہو گی…… تو پھر پورے کا پورا معاشرہ بھی ایسا ہی تشکیل پائے گا، کیونکہ افراد ہی معاشرہ بناتے ہیں، اگر افراد صالح ہوں گے تو معاشرہ بھی صالح ہو گا، پھر بیت المال کو پاک مال سے بھرنا ہوگا۔ سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ہو گی اور صحیح معنوں میں مدینہ ریاست کو وجود ملے گا۔ علاوہ ازیں مدینہ ریاست کی خصوصیات میں سے ایک اور ہمارے سامنے آئی ہے کہ وہاں پر قانون سب کے لئے یکساں تھا۔

چھوٹے بڑے، امیر غریب کی تمیز نہیں تھی، با اثر لوگوں کو قانون کے سامنے سر جھکانا پڑتا تھا۔ آپؐ کے زمانے میں، فاطمہ نامی ایک عورت سے چوری کی غلطی ہوئی تو اس کو سزا دی گئی اور آپؐ نے فرمایا: ”اگر میری بیٹی فاطمہ ؓ (خدانخواستہ) ہوتی تو وہ بھی سزا سے نہ بچ سکتی“۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جہاں پر انصاف کی یہ کیفیت ہو گی، وہاں، امن، چین اور سکون ہوگا اور معاشرہ فساد فی الارض سے پاک ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی جماعت کا تو نام ہی پاکستان تحریک انصاف ہے۔ اس حکومت کے اندر انصاف کا بول بالا ہونا نا گزیر ہے، وگرنہ دوسری سیاسی پارٹیوں اور پاکستان تحریک انصاف میں کیا فرق ہوگا؟ بہر کیف مدینہ ریاست میں قانون کی نظر میں سب برابر تھے۔ یہاں پاکستان میں بھی ”مدینہ ریاست“ کی طرح قانون کی نظر میں سب کو برابر ہونا چاہئے۔

ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے بیت المال کو فعال بنانے کے علاوہ خواہ مخواہ کے کاموں سے نجات حاصل کی جائے۔ ایف بی آر،جس کے افراد 22 ہزار ہیں، ان کے اندر کمی کرنے کی ضرورت ہے۔ کم از کم 250 فیصد افراد کو دیگر محکموں میں کھپایا جائے اور ایف بی آر میں ان کی یہ آسامیاں ختم کی جائیں۔ اس سے ملکی معیشت پر صحت مند اثرات پڑیں گے۔ اسی طرح جہاں پر پانچ وزارتیں ختم کی جا رہی ہیں اور 428 وزارتوں کو یا تو اتھارٹی میں بدلا جا رہا ہے یا کسی اور وزارت میں ضم کیا جا رہا ہے، یہ بھی ایک خوش آئند بات ہے۔ اس سے بھی خراجات میں آہستہ آہستہ کمی ہو گی، جس سے قومی معیشت میں بہتری آئے گی۔ اسی میں کسٹم ڈائریکٹوریٹ بطورکسٹم اتھارٹی کے کام کرے گی، جس کی معاونت کے لئے آرمی اور ایف سی کی خدمات کا شامل ہونا بھی لازم ہو تاکہ اس سے مثبت نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ جس سے سمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی اور ملکی بارڈر پر نگرانی کڑی ہو گی، جس سے ملکی صنعت پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی برتن کے نیچے چھید ہوگا تو آپ اس میں جتنا بھی پانی ڈالتے جائیں گے، وہ ساتھ ہی ساتھ نیچے سے خارج ہوتا جائے گا اور آپ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔ گویا سمگلنگ کی روک تھام سے مقامی، ملکی انڈسٹری ترقی کرے گی اور ایکسپورٹ کے ذریعے سے زر مبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ جب سینکڑوں محکموں کو یا تو ضم کیا جا رہا ہے یا دوسری محکموں میں تقسیم کیا جا رہا ہے یا ان کو اتھارٹی کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ مزید براں غیر منافع بخش (خسارہ میں چلنے والے اداروں) سے بھی نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ان کو بھی کسی اتھارٹی کے سپرد کر دیا جائے۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب اتنے محکمہ جات اِدھر ُادھر ہو جائیں گے تو پھر بہت سارے وزیروں اور مشیروں کی چنداں ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ ان میں بھی خاطر خواہ کمی کی جانی چاہئے، تاکہ ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔

یاد رہے! نوجوانوں کو روز گار مہیا کرنے کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ ان کو مناسب ٹیکس چھوٹ اور دیگر سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی۔ نوجوانوں کو قرضہ حسنہ پروگرام بھی نہایت ہی مستحسن اقدام ہے۔ اس سے نوجوانوں (مرد و خواتین) کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا اور وہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اس کو فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کئے جائیں، جس کے لئے ”ٹیوٹا اور سمیڈا“ کی خدمات لی جائیں۔ گویا یوتھ انیشیٹیو پروگرام کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ اس کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہو گی۔ مزید براں! کسٹم اتھارٹی کا ڈیٹا سینٹریلائز بھی ایک نا گزیر ضرورت ہے تاکہ قومی سطح پر اس کو عملی جامعہ پہنانے میں آسانی ہو۔ اس اتھارٹی کوجدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا۔ٹیکس اصلاحات میں ملازمین (فیڈرل، صوبائی، لوکل گورنمنٹ) کے صرف ان ملازمین کی ٹیکس ریٹرن کی ضرورت ہو گی جن کا ملازمت کے علاوہ کوئی کاروبار ہو، یا زمین وغیرہ سے آمدن ہوتی ہے…… تو وہ اپنی ٹیکس ریٹرن میں ان کو ہر طرح کی آمدنی، ظاہر کرنا ہو گی۔

ایسے ملازمین جو صرف ملازمت سے ہی متعلق ہیں، ان سے نئے ٹیکس ریٹرن لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اس سے بہت سے قومی وسائل کی بچت ممکن ہو گی، کیونکہ ملازمین کا انکم ٹیکس تو پہلے ہی اگر منہا کر دیا جائے…… تو اس سے باقی ایکسرسائز سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے سادہ سی مثال پیش ہے۔ ایک شخص اپنے گھر یا فارم یا دکان یا کاروبار میں دس، پندرہ ملازم رکھتا ہے تو وہ ہر ماہ انہیں مکمل تنخواہ دینے کے بعد، سال کے بعد، یہ کہے کہ آپ کی سالانہ آمدنی اتنی ہوئی…… اب مجھے انکم ٹیکس کی مد میں اتنی رقم واپس کرو…… تو یہ کتنا مضحکہ خیز ہوگا۔ ملازم کو وہ اتنی ہی تنخواہ دیں، جس سے اسے کچھ واپس لینا، دینا نہ ہو۔ اس طرح بھی لاکھوں ملازمین سے انکم ٹیکس ریٹرن لی جا سکتی ہے۔

آخر میں، ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ جہاں پر قانون کی بالا دستی ہو گی، وہاں پر جرائم میں کمی بھی واقع ہو گی۔ قانون کا بڑا مقصد، اسلام کی نظر میں بھی یہی ہے کہ اس سے خوف پیدا ہوتا ہے، اسی لئے اسلام میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سزا کے نفاذ کے وقت لوگوں کی ایک جمعیت اس کو دیکھنے کے لئے موجود ہو، تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔ گویا ایمان کے استحضار کے بعد، قانون کا خوف بھی قانون شکنی سے باز رکھنے میں ممدو معاون ثابت ہوگا۔یاد ہے! حکومت کو قانون کے نفاذ کے لئے بھی قانون کا ہی سہارا لینا ہوگا اور قانون کا سخت ہونا بھی لازم ہے، کیونکہ حکومتی کاروبار کو چلانے کے لئے قانون کا نفاذ ہی حکومت کو استحکام دیتا ہے۔ زیادہ قانون سازی حکومت کے لئے تو مفید ہو سکتی ہے، لیکن معاشرے کو بہتر کرنے کے لئے اخلاقیات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ حسن اخلاق حسین معاشرہ کی ضمانت ہے۔ آپؐ کا اخلاقِ حسنہ ہی تو تھا، جس نے عرب جیسے قبائل کو ایک خوبصورت معاشرے میں تبدیل کیا۔ یاد رہے! حسن اخلاق، حسین معاشرت بنانے میں ممدوو معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسی سے پاکستان میں مدینہ ریاست کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم