بارہ وفات سے عید میلادؐ تک، ایک تاریخ!

بارہ وفات سے عید میلادؐ تک، ایک تاریخ!
بارہ وفات سے عید میلادؐ تک، ایک تاریخ!

  



ماہ مقدس اور طیبہ کے چاند، رسول مقبول، حضرت محمد مصطفےٰ، احمد مجتبیٰﷺ کی آمد کے ماہ مبارک کا چاند طلوع ہو چکا، آج ربیع الاول کی دو تاریخ ہے، امت مسلمہ کے فرزند ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ عیدمیلاد النبیؐ اگلی اتوار کو ہو گی۔ تیاریاں اب سے شروع، چراغاں بھی شروع ہو گیا۔ عاشقان رسولؐ اپنی عقیدتوں کا اظہار کر رہے اور کرتے رہیں گے، آج ایک عاشق رسولؐ غازی علم الدین کا یوم شہادت بھی ہے اور اسی مناسبت سے ہمیں ایک اور عاشق کا کردار یاد آ گیا۔ غازی علم الدین شہید اور یہ شخصیت ایک ہی محلے کے ہیں۔ دونوں کے گھروں میں تھوڑا فاصلہ تھا اور ہے۔الحاج عنائت اللہ قادری (مرحوم) تکیہ سادھواں کے رہنے والے اور غازی علم الدین شہید قریبی علاقے کیسرا بازار کے رہائشی تھے۔ غازی علم الدین شہید نے لعین راجپال کو جہنم واصل کرکے رتبہ شہادت پایا اور وہ غازی بھی کہلائے جبکہ الحاج عنایت اللہ قادری نے عید میلاد النبیؐ کا جلوس شروع کرکے اظہار عقیدت کی راہ اپنائی وہ علم الدین شہید سے متاثر تھے وہ تو کیا اس دور میں سبھی نوجوان غازی و شہید کو سلام کرتے تھے۔

یہ بھی برصغیرکی تقسیم اور قیام پاکستان سے کئی سال پہلے کا احوال ہے کہ تب ہندو حضرات اپنے روائتی تہوار مناتے اور دسہرہ وغیرہ کا جلوس بھی نکالتے تھے اسی دوران راج پال کی گستاخی سامنے آئی اور علم الدین نے غازی اور شہید کا رتبہ پایا تو نوجوانوں میں جذبہ بیدار ہوا، یہی وہ کشش تھی جس کے تحت الحاج عنایت اللہ قادری نے اپنے ہم عمر ساتھیوں کو جمع کیا اور رسالت مآبؐ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جلوس کا اہتمام کیا، چند لڑکے جمع ہوئے۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس، سروں پر ٹوپیاں لے کر جامع مسجد تکیہ سادھواں سے پیدل نکلے ان میں خوش الحان بھی تھے اور یوں یہ درود پاک پڑھنے کے ساتھ ساتھ نعت خوانی بھی کرتے رہے،یہاں سے چوہٹہ مفی باقر اور بازار نوہریاں سے ہوتے ہوئے اکبری دروازہ سے باہر آئے اور دہلی دروازہ سے کشمیری بازار، تالاب پانی والا اور اندرون بھاٹی سے ہوتے ہوئے مرکز تجلیات حضرت علی ہجویریؒ کے مزار مبارک پر آئے اور دعا کے ساتھ یہ پہلا جلوس اختتام پذیر ہوا، اس دور میں بارہ ربیع الاول یوم وصال (وفات) کے حوالے سے منایا گیا تو اس جلوس کو بھی ”بارہ وفات کا جلوس“ کہا گیا۔

یوں چند سال ایسا ہی ہوا، تاہم تعداد بڑھتی گئی اور شریک جلوس زیادہ ہو گئے، راستے میں پذیرائی ملی اور استقبال بھی ہوا، سبیلیں بھی لگنا شروع ہو گئیں، یہ سب لوگ پیدل ہی جاتے تھے۔

اسی دوران علماء کرام بھی متوجہ ہوئے اور عنائت اللہ قادری کی درخواست پر علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری نے جلوس میں شرکت کی وہ جامع مسجد وزیر خان کے خطیب تھے ان کے لئے تانگے کا انتظام کیا گیا، راستے میں ان کا خطاب بھی ہوتا رہا وہ صفات رسولؐ بیان کرتے، یوں نہ صرف جلوس باقاعدہ ہوا بلکہ اس کی رونق بھی بڑھ گئی۔ علامہ ابوالحسنات نے ابتدائی دو تین سالوں ہی میں محسوس کیا اور پھر لاہور کے علماء اہل سنت کا اجلاس بلایا گیا۔ اس میں تمام علماء کرام نے آپس میں گفتگو اور دلائل کے بعد یہ طے کیا کہ حضورؐ کا یوم وصال اور یوم آمد کی ایک ہی تاریخ بارہ ربیع الاول ہے۔

آپؐ رحمت کائنات بن کر آئے اور ہدایت کی روشنی پھیلائی تو کیوں نہ انؐ کی تشریف آوری کا جشن منایا جائے۔ چہ جائیکہ یوم وصال، چنانچہ یہ فیصلہ ہوا اور بارہ وفات کا یہ جلوس، جلوس عید میلادالنبیؐ ہو گیا اور آج اسی مناسبت سے یوم پیدائش عید میلاد النبیؐ کے طور پر منایا جاتا ہے اور آج اس ایک جلوس کے سبب صرف لاہور ہی میں بیسیوں جلوس نکلتے ہیں۔ ہماری پیدائش و پرورش پرانے لاہور کے محلہ باغیچی صمدو اندرون اکبری دروازہ کی ہے۔ ہم نے ذرا ہوش سنبھالا تو جلوس عید میلاد النبیؐ ہی تھا اور جوش بھی زیادہ تھا، آمد رسولؐ کے سلسلے میں چراغاں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا، ہم لڑکے بالے والدین سے پیسے لے کر موم بتیاں اور مٹی کے دیئے لاتے،سرسوں کے تیل والے یہ دیئے اور موم بتیاں سینکڑوں سے ہزاروں ہوئیں اور ہر گھر پر چراغاں ہوتا، پھر نیازیں پکتی تھیں، حلوہ، کلچہ، پلاؤ زردہ، نان دال، تقسیم کئے جاتے۔ محلے میں ہر گھر میں نیازکا اہتمام ہوتا تھا اور کبھی کوئی محروم نہ رہتا، جلوس والوں کے لئے تو راستے میں مشروبات کی سبیلیں اور کھانے کے لئے دیگیں پکتی تھیں یوں یہ سلسلہ بڑھتا اور پھلتا پھولتا رہا۔

قیام پاکستان کے بعد اس کی اہمیت اور بڑھی، شاہدرہ سے جلوس نکلا تو وسن پورہ سے بھی زندہ دلوں نے اسی صورت خراج عیقدت پیش کیا، تاہم یہ دونوں جلوس اس مرکزی جلوس میں آکر ضم ہوتے جو تکیہ سادھواں سے الحاج عنایت اللہ قادری کی قیادت میں نکلتا تھا۔دوسرا اضافہ باغبانپورہ اور صدر (کینٹ) سے ہوا، باغبان پورہ میں سابق پارلیمانی سیکرٹری میاں معراج دین (مرحوم) اور ان کے والد نے ایک روز قبل گیارہ ربیع الاول کی شام کے بعد جلوس نکالنا شروع کیا جو دربار مادھولال حسین پر اختتام پذیر ہوتا ہے اسی طرح صدر بازار سے زینت القراء قاری غلام رسول نے ابتدا کی اور یہ جلوس 13ربیع الاول کو اگلے روز نکالا گیا یوں اضافہ ہوا تو دن بھی بڑھ گئے۔

جوں جوں آبادی بڑھتی گئی ویسے ویسے جشن میلاد النبیؐ کی اہمیت بھی بڑھی پھر ہر علاقے سے جلوس نکالا جانے لگے۔ مرکزی جلوس عید میلاد النبیؐ بھی تقسیم ہوا، ریلوے مزدور یونین کے رہنما ملک آفتاب ربانی (مرحوم) نے الحاج عنایت اللہ قادری کے ساتھ اختلاف کے بعد خود جلوس شروع کر دیا میڈیا کوریج سے آشنا آفتاب ربانی نے جلوس کا مقام ریلوے سٹیشن اور وقت صبح کا رکھ لیا، چنانچہ لاہور میں یہ ایک اور جلوس بن گیا، اس طرح علاقائی جلوس بھی بنتے رہے اور آج پورا شہر ہی سڑکوں پر ہوتا ہے۔

دور جدید آیا، بجلی کی فراہمی بہتر ہوئی تو موم بتیوں اور دیووں کی جگہ جدید لائٹوں نے لے لی اور اب بارہ ربیع الاول سے پہلے ہی روشنیاں جگمگانا شروع کر دیتی ہیں جو عید میلاد النبیؐ کے بعد بھی جلتی رہتی ہیں، ہم نے ان جلوسوں اور تقریبات میں عقیدت سے شرکت اور اسی طرح کوریج بھی کی ہے اور آج مطمئن اور خوش ہیں کہ ولادت باسعادت مصطفےٰ ؐ کے جشن کی شان ہی بڑھ گئی ہے اور سرزمین پاک درود و سلام سے گونجتی رہتی ہے۔ اب پوری دنیا میں یہ جشن منایا جاتا ہے۔ ہمارے پاک وطن میں تیاریاں شروع ہیں، کئی عقیدت مند گھرانوں نے چراغاں بھی شروع کر دیا ہے۔

مزید : رائے /کالم