نوازشریف کی بیماری پر سیاست کون کررہا ہے؟

نوازشریف کی بیماری پر سیاست کون کررہا ہے؟
نوازشریف کی بیماری پر سیاست کون کررہا ہے؟

  



یہ بات تو اب سمجھ میں آ گئی ہے کہ نوازشریف کو ضمانت پر رہا کرنے کا معاملہ بھی اتنا آسان نہیں رہا۔ اس کی وجہ قانونی سے زیادہ وہ فضا ہے جس سے ہر کوئی بچنا چاہتا ہے، یعنی یہ الزام کہ ضمانت کسی ڈیل کے تحت ہو رہی ہے یا عدالتوں کا نوازشریف کے لئے نرم گوشہ موجود ہے…… اور تو اور خود مسلم لیگ (ن) یا شریف فیملی بھی یہ الزام اپنے سر لینے کو تیار نہیں کہ اس نے کوئی ڈیل کی ہے۔ حکومت کی اپنی مجبوری ہے، وہ این آر او دینے کے الزام سے بچنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ سوال بار بار پوچھا کہ یہ معاملہ تو وزیراعلیٰ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، پھر اسے عدالت میں کیوں لایا گیا ہے؟اپیل عدالت تو صرف سزا کو بحال یا ختم کر سکتی ہے، طبی بنیادوں پر ریلیف دینا تو انتظامیہ کا اختیار ہے۔ سو اس فضا میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے یہی حل نکالا کہ نوازشریف کو آٹھ ہفتے کی ضمانت دے کر علاج کے لئے رہا کر دیا جائے۔

ساتھ ہی حکم میں یہ بھی لکھ دیا کہ آٹھ ہفتے کے اندر اگر علاج مکمل نہ ہو تو نوازشریف پنجاب حکومت سے رجوع کر سکتے ہیں، جو ضمانت میں توسیع کا فیصلہ کرے گی۔ دوران سماعت جب یہی بات جسٹس عامر فاروق نے کی تھی تو نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا تھا:”پنجاب حکومت کے پاس جانے سے مر جانا بہتر ہے“۔ یہ بات کیوں کہی گئی؟ اس کی وجہ انتظامی یا عدالتی نہیں سیاسی ہے۔ ایک تو ضمانت میں توسیع کے لئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے سامنے دست سوال دراز کرنا پنجاب کو اپنی راجدھانی سمجھنے والے شریف خاندان کے لئے بڑی ہزیمت کی بات ہے، تاہم اس سے بھی زیادہ مشکل بات یہ ہے کہ نوازشریف کے لئے ان آٹھ ہفتوں کے درمیان علاج کی بجائے دیگر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا دشوار ہو جائے گا، کیونکہ انہیں پہلے جب سپریم کورٹ نے علاج کے لئے چھ ہفتے کی ضمانت دی تھی تو علاج کی بجائے وہ سیاست پر توجہ دیتے رہے تھے، جسے پی ٹی آئی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب تو ان کی ضمانت میں توسیع کا فیصلہ ہی پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ نے کرنا ہے، جو خود ان کی صحت کا جائزہ لینے کے لئے میڈیکل بورڈ بنائیں گے۔

ابھی تو یہ مرحلہ بھی آنا ہے کہ نوازشریف اگر اپنی خرابیء صحت کی وجہ سے پاکستان کی بجائے بیرون ملک علاج کرانا چاہتے ہیں تو وفاقی کابینہ انہیں اس کی اجازت دے گی یا نہیں، کیونکہ اب ای سی ایل سے نام نکالنا بھی وفاقی محکمہ داخلہ کا اختیار نہیں رہا، بلکہ سپریم کورٹ کے حکم سے یہ فیصلہ اب کابینہ ہی کر سکتی ہے۔ بیرون ملک بھیجنے کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ضمانت ہوتی ہے کہ جانے والا وقتِ مقررہ کے بعد واپس بھی آجائے گا؟ جب سے الطاف حسین، پرویز مشرف، اسحاق ڈار باہر جا کر واپس نہیں آئے، خاص طور پر، پرویز مشرف کو باہر بھیجنے کی ذمہ داری آج تک کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ سیاستدان اسے عدلیہ سے منسوب کرتے ہیں اور عدلیہ کے فیصلے میں یہ اختیار حکومت کو دیا گیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کو باہر بھیجنا چاہتی ہے تو بھیج دے۔ اب بھی یہ معاملہ، کچھ اسی قسم کا ہو گا۔

اس کے لئے بھی شائد نوازشریف کے وکلاء کو عدالت سے رجوع کرنا پڑے، کیونکہ حکومت تو کہہ چکی ہے کہ نوازشریف ملک میں جہاں بھی علاج کرانا چاہتے ہیں، کرائیں اور بیرون ملک سے ڈاکٹر بلانے کے خواہش مند ہیں تو حکومت ہر سہولت فراہم کرے گی۔ عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جاتا ہے تو معاملہ پھر وہیں اٹک جائے گا کہ واپسی کی ضمانت کس شکل میں لی جائے اور واپسی کا تعین کیسے کیا جائے؟ مسلم لیگی حلقے اس حوالے سے یہ دلیل دیتے ہیں کہ نوازشریف قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کو بسترِ مرگ پر چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے، اب بھی وہ صحت یاب ہوتے ہی پاکستان واپس آجائیں گے، انہیں بیرون ملک رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔

سب کہتے تو یہی ہیں کہ نوازشریف کی بیماری پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس پر سیاست کی جاتی رہی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے۔ نوازشریف کی بیماری کے بارے میں شاید ملک میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو یقین سے کہہ سکے، انہیں بیماری کیا ہے؟ جب ان کی طبیعت بگڑی تو حسین نواز نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً ٹویٹ کر دیا کہ انہیں زہر دیا گیا ہے، پھر ان کے معالج نے دوسری کہانی سنائی۔ مسلم لیگی رہنماؤں بشمول شہبازشریف نے الزام لگایا کہ نیب حراست میں نوازشریف کو باوجود علم ہونے کے بروقت علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ اُدھر حکومتی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کر دی کہ نوازشریف کی بیماری کا ڈرامہ منصوبے کے تحت رچایا گیا اور پہلے سے لوگ ان کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔

باقی وزراء نے بھی پلیٹ لیٹس کی بیماری بارے مضحکہ اڑانے والی باتیں کیں، یہ تو اچھا ہوا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزراء کو نوازشریف کی بیماری پر بیان بازی سے روک دیا، وگرنہ یہ سلسلہ تو چلتا ہی رہنا تھا۔ جب ایسی غیر سنجیدہ فضا بنتی ہے تو افواہوں کا بازار بھی گرم ہو جاتا ہے، پھر ڈیل اور ڈھیل کی باتیں بھی ہوتی ہیں، جب معاملہ عدالتوں میں جاتا ہے تو وہ بھی اس فضا کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ تو اس معاملے میں خاصے سنجیدہ نظر آئے۔ انہوں نے ڈیل کی خبریں دینے والے پانچ اینکرز کو عدالت میں طلب بھی کیا اور ان سے پوچھا کہ جب معاملہ عدالت میں ہے تو وہ کس طرح یہ کہتے ہیں کہ ڈیل ہو رہی ہے، ان کے پاس شواہد کیا ہیں؟ انہوں نے پھر وہی بات دہرائی کہ معاملہ تو انتظامیہ کے اختیار میں ہے، وہ جب حل نہیں کرتی تو عدالت میں لایا جاتا ہے،پھر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے ڈیل عدالت کے ذریعے ہو رہی ہے۔

مَیں سمجھتا ہوں نوازشریف کے معاملے پر ان کی جماعت کو بھی سوچنا چاہیے اور حکومت کو بھی کہ اس طرح سے اس مسئلے کو متنازعہ بنا کر وہ نواز شریف کے لئے مشکلات کھڑی کر رہی ہیں۔ یہ سیدھا سادہ ایک تکنیکی معاملہ ہونا چاہیے، جسے طبی ماہرین کے ذریعے حل کیا جائے۔ حالات اس قدر پیچیدہ بنا دیئے گئے ہیں کہ میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹر حضرات بھی کھل کر رائے دینے سے کتراتے ہیں۔ وہ بھی کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ اس سے نقصان کسے ہو گا؟ ظاہر ہے مریض کو، جسے علاج کراناہے،مگر اسے اجازت نہں مل رہی۔

اب یہ بھی نوازشریف کی بیماری پر سیاست کی ایک شکل ہے، جب آپ یہ کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کے پاس جانے سے مر جانا بہتر ہے، یا احسن اقبال کہیں کہ نوازشریف پر آٹھ ہفتے کی تلوار لٹکا دی گئی ہے، اگر عدالت نے ایک راستہ معین کیا ہے تو اس میں سیاسی ہاتھ تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پنجاب حکومت آئین کے تحت ایک انتظامی باڈی ہے۔ اسے اگر ریلیف کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو یہ سوچنا احمقانہ بات ہو گی کہ اس پر تو تحریک انصاف کی حکمرانی ہے یا عثمان بزدار وزیراعلیٰ بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ پھر آٹھ ہفتے کی مدت کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، بیماری کا جاری رہنا اس میں اضافے کا مضبوط جواز بن سکتا ہے۔

پھر یہ بھی کیسے ممکن ہے کہ میڈیکل بورڈ نوازشریف کا علاج جاری رکھنے کی سفارش کرے اور پنجاب حکومت اسے رد کر دے۔ پھر تو یہی کہا جائے گا کہ نوازشریف سے انتقام لیا جا رہا ہے، جو ظاہر ہے کوئی بھی اپنے سر لینے کو تیار نہیں ہوگا۔ مَیں نے پہلے بھی اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ایک بار نوازشریف کو بیرونی ملک علاج کے لئے جانے دیا جائے، وگرنہ یہ سوئی قومی سیاست میں ایک سوئی بن کر اٹکی رہے گی اور اگر خدانخواستہ اس دوران کوئی سانحہ رونما ہوا، نوازشریف کو کچھ ہو گیا تو آج جو بار بار یہ کہتے ہیں کہ ذمہ داری عمران خان نیازی پر عائد ہو گی، پھر واقعی ان پر ڈال دیں گے۔ اصل معاملہ تو یہ ہے کہ نوازشریف کی سزا ختم نہیں ہوتی اور ان پر کیسز بھی موجود ہیں۔ وہ پرویز مشرف کی طرح اگر باہر جا کر واپس نہیں آتے تو درحقیقت اپنی زندگی بھر کی سیاست کو داغدار کر بیٹھیں گے۔ انہیں آٹھ ہفتے کی جو رہائی ملی ہے، اسے سیاست کی نذر نہ کریں، بلکہ جم کر اپنا علاج کرائیں، تاکہ یہ تاثر دور ہو سکے کہ نوازشریف سزا کے خوف سے بیمار پڑ جاتے ہیں، کیا وہ ساری زندگی بیمار رہنے کا رسک لے سکتے ہیں؟

مزید : رائے /کالم