شانگلہ ،سرکاری سکولوں میں ڈی وارمنگ گولیاں کھانے سے طلباءکی حالت غیر

  شانگلہ ،سرکاری سکولوں میں ڈی وارمنگ گولیاں کھانے سے طلباءکی حالت غیر

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر )شانگلہ سر کاری سکولوں میں ڈی وارمنگ گولیاں کھانے سے 38طلباءکی حالت غیر ہوگئی ۔دیگر علاقوں سے بھی طلباءکی حالت غیرہونے کی اطلاعات ۔ہسپتال داخل۔علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ ہسپتال میں عوام ،والدین کارش۔کئی سکولوں کو ہنگامی بنیادوں پر چھٹی کر دیا گیا۔کیڑوں کی دوا کھانے سے طلباءحالت غیر ہونے لگی،الٹیاں شروع ہوئی،سر چکرانے لگے جبکہ بیشتر بے ہوش بعض کانپ رہے تھے اور کچھ بچے تڑپ تڑپ رہے تھے۔ اساتذہ طلباءکے ہاتھ پاﺅں مل رہے تھے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیم کو بائی پاس کرکے اساتذہ کی خدمت لی گئی جو میڈیکل سے واقف نہیں تھے،طلباءکی بے ہوشی زیادہ ڈوز دینے سے بھی ہوسکتا ہے،ان گولیوں کی کھانے سے ری ایکشن ہوتا ہے خطرے کی کوئی بات نہیں ۔ڈاکٹروں کی وضاحت۔ادھر اساتذہ کرام کا کہنا ہے کہ طلباءکو گولیہاں دینے کا ٹریننگ دیا گیا جس میں ماہرین نے کمزوربچوں کو اچانک الٹیاں یا سر چکرانے کا کہا تھا ٹریننگ لے کر طلباءکوڈی وارمنگ کی گولیاں دی۔سکولوں میں طلباءکے حالت خراب ہونے کے بعد ایمبولنسوں کے ذریعے فوری طورپر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال الپوری پہنچائے گئے والدین کو جب اطلاع ملی تو بچوں کے مائیں بھی سکولوں کودوڑ ائی اور اپنے بچوں کی خیرت معلوم کی۔علاقے میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔سکولوں میں لوگوں کا رش اساتذہ کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی اساتذہ اور والدین سب پریشان تھے۔ ایمبولنسوں کی گن گرج نے بھی لوگوں میں خوف وہراس پیداکیا۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ خدا کیلئے اساتذہ کا جوکام ہے ان سے لے جو دوسرے محکموں کاکام ہے وہ اساتذہ سے نہ لے۔والدین کہتے ہیں کہ اپ کوئی ڈاکٹر ہو جو ہمارے بچوں کو دوائیاں دے رہے ہے۔اپ سبق پڑھائے ڈاکٹر مت بنے۔حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے لیکن خدا کیلئے جوکام اساتذہ کی ہے ان سے وہ کام لیا جائے آج جب یہ خبر چلی تو بعض سکولوں میں ڈی وارمنگ گولیوں کی وجہ سے بعض بچوں پر ری ایکشن کیا ۔طلباءکے والدین اور ان کے مائیں تشویش میںمبتلا ہوئے اساتذہ ہر ایک کو مطمئن کررہے تھے ۔اساتذہ کرام توہرفن مولا نہیں ۔اساتذہ کو طلباءکو ترغیب دینا کافی تھا کہ ڈی وارمنگ گولیاں کھا لو اور یہ ادویات ہسپتالوں میں مفت ملتے ہیں۔یہ قوم کا فرض بھی ہے کہ اچھے برے میں تمیز کریں۔بعداذاں ہسپتالوں میں داخل بچوں کو ڈریپ اور انجکشن لگا کر فارغ کردیا ڈاکٹروں نے طلباء۔والدین اور عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں بچوں کیلئے یہ گولیاں لازمی ہیں اور خاص طور پر ہمارے جیسے علاقوں میں پیٹ کے کیڑے زیادہ اس لئے ہوتے ہیں کہ یہاں صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔انھوں نے بچوں کی ماﺅں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبح سکول جانے والے بچوں کا ناشتے کا خاص خیال رکھا کرے اور نہار منہ ہرگز سکول نہ بھیجے۔ادھر ڈپٹی کمشنر شانگلہ نے ہسپتال کا دورہ کیا اورمتاثرہ طلباءسے ملے۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پانچ سال سے سترہ طلباءکو گولیاں کھلائی جائے گی،خطرے کی کوئی بات نہیں ،والدین مطمئن رہیں۔متاثر طلباءسے ڈسٹرکٹ افسر شانگلہ ملک اعجاز ودیگر انتظامی افسران سمیت سول سوسائٹی ہسپتال پہنچے اور بچوں کی عیادت کی۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر