خانز ادہ خان کا استعفی ، بیٹے کی پی ٹی آئی میں شمولیت ، مردان کی سیاسی فضاءمیں گہما گہمی

خانز ادہ خان کا استعفی ، بیٹے کی پی ٹی آئی میں شمولیت ، مردان کی سیاسی ...

  



مردان(بیورورپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر حاجی خانزادہ خان کے سینٹ سے استعفیٰ اور ان کے بیٹے ذیشان خانزادہ کی تحریک انصاف میں شمولیت سے مردان کی سیاسی فضا میں گہماگہمی پیداہوگئی ہے ،پی پی کے بانی رہنما نے اپنی پارٹی کو ایسے وقت میں داغ مفارقت دیا جب پارٹی انہتائی مشکل اور لیڈرز جیل میں ہیںایسے میں حاجی خانزادہ خان کے سپورٹرز اور جیالے کارکن تذبزب کا شکار ہوگئے ہیں کہ وہ پارٹی میں رہیں یا پھرحاجی خانزادہ خان کے سیاسی مستقبل کے فیصلہ کا انتظار کریں اس حوالے سے سیاسی فضا میں چہ میگوئیاں جاری ہیں سینیٹر حاجی خانزادہ خان پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما سینئر صوبائی وزیر محمد عاطف خان کے قریبی رشتہ دار ہیںتاہم ان کے بیٹے کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے موقع پر سینئر وزیر محمد عاطف خان کی بجائے وزیرداخلہ پرویز خٹک وہاں موجود رہے اورشواہد پتہ دے رہے ہیں کہ ذیشان خانزادہ کی شمولیت وزیرداخلہ پرویز خان خٹک کے توسط سے ہوئی ہے جس سے یہ بحث اورچہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں کہ دونوں رشتہ داروں حاجی خانزادہ خان اور محمد عاطف خان کے درمیان سیاسی درویاں پیداہوگئی ہیں دوسری طرف سینئر سیاستدان حاجی خانزادہ خان نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دیکر تمام پارٹی ورکرز اور مقامی قائدین کو حیریت میں ڈال دیاہے سابق سینیٹر حاجی خانزادہ خان کا تعلق پیپلز پارٹی کے بانیوں میں ہوتاہے وہ پیپلز پارٹی کے ہر سیاسی جدوجہد میں پیش پیش رہے ہیں ان کے بے نظیر بھٹو شہید کے ذاتی مراسم تھے جبکہ آصف علی زرادی کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات رہے ہیںوہ 2008اور 1993کے عام انتخابات میں پی پی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں جبکہ 2015میں وہ پی پی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوگئے اورلگ بھگ چارسال کے عرصے کے بعدگذشتہ روز اچانک استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی سے اپنے راہیں الگ کردیں پی پی کے ذرائع کے مطابق حاجی خانزادہ خان ایک عرصے سے پارٹی لیڈر شپ سے نالاں تھے گزشتہ انتخابات میں وہ اپنے بیٹے اورسیاسی جانشین ذیشان خانزادہ کے لئے پارٹی ٹکٹ کے حصول میں ناکامی پران کے پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے افواہیں گرم ہوئی تھیں حاجی خانزادہ خان کی پی پی چھوڑنے کے بعد ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کے امکانات زیادہ ہیںاورانہوںنے اپنے قریبی دوستوں اور سیاسی ساتھیوں سے مشاورت شروع کردی ہیں

مزید : پشاورصفحہ آخر