ڈاکٹرز کی کمی‘ مریضوں کا رش‘ برن یونٹ اموات میں اضافہ کا سبب

  ڈاکٹرز کی کمی‘ مریضوں کا رش‘ برن یونٹ اموات میں اضافہ کا سبب

  



ملتان (وقا ئع نگار) جنوبی پنجاب میں برن سنٹرز کی کمی مریضوں کے لئے اموات میں اضافے کا سبب بننے لگی ہے۔نشتر ہسپتال کا ماڈرن برن یونٹ جنوبی پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے مختلف حادثات میں جلے ہوئے مریضوں کے لئے امید کی آخری کرن ہے۔67 بستروں پر مشتمل ماڈرن برن یونٹ نشتر ہسپتال تاحال مکمل فعال نہیں ہے اور ڈاکٹروں کی کمی سمیت مختلف سہولیات کی کمی کا سامنا کر(بقیہ نمبر44صفحہ7پر)

رہا ہے۔تقریبا سوا دو سال قبل(جون 2017) میں احمد پور شرقیہ(بہاولپور)میں آئل ٹینکر حادثہ میں 200 کے لگ بھگ قیمتی جانوں کا ضیاع بھی حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھول سکا۔جنوبی پنجاب کے تمام بڑے اضلاع بہاولپور،ڈیرہ غازی خان،رحیم یارخان،وہاڑی،خانیوال،بہاولنگر،لودھراں،لیہ،راجن پور،مظفرگڑھ برن یونٹ جیسی اہم طبی سہولت سے محروم ہیں۔حالانکہ اس خطے میں خواتین پر تیزاب پھینکنے جانے کے واقعات بھی ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ ہیں۔اور تعلیم کی کمی،جاہلانہ رسومات،شعور کا فقدان تیزاب پھینکے جانے کے واقعات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے لیاقت پور سانحہ پر انتہائی دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔اور کہا ہے کہ سال 2017 میں احمد پور شرقیہ کے سانحے کے بعد لیاقت پور کا سانحہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ھے۔مگر افسوس کا مقام ہے کہ واقعات در واقعات اور انسانی جانوں کے ضیاع پر بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔پورے جنوبی پنجاب میں سرکاری سطح پر مکمل فنکشنل برن سنٹر کا نہ ھونا انتہائی تشویش کا باعث ھے۔برن سنٹرز کے نہ ہونے سے اموات میں اضافہ ھوا۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پھر اپنے مطالبات کو دہراتی ہے۔ برن سنٹرز کے قیام کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سرکاری سطح پر مکمل فنکشنل برن سنٹرز نہ ھونے پر اموات کے اضافے کی وجہ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو قرار دیتے ہوئے ان کے استعفےٰ کا مطالبہ کرتی ہے۔

ڈاکٹرز

مزید : ملتان صفحہ آخر