ڈاؤ یونیوسٹی میں وومن ورک پلیس ہراسمنٹ پر آگہی پروگرام کا انعقاد

ڈاؤ یونیوسٹی میں وومن ورک پلیس ہراسمنٹ پر آگہی پروگرام کا انعقاد

  



کراچی (پ ر)وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسمنٹ کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ جنسی ہراسانی کے واقعات کہیں بھی ہوسکتے ہیں، اصل میں سدباب اس وقت ہوسکتا ہے جب اس قسم کے واقعات رپورٹ ہونگے، رپورٹنگ نہیں ہوگی تو کرنے والوں کے حوصلے بلند ہونگے، ہمیں لوگوں کا خوف دور کرنا ہے تاکہ ملزمان کے حوصلے پست ہوں یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیرِ اہتمام ڈاؤ میڈیکل کالج کے آراگ آڈیٹوریم میں کام کی جگہ پر وومن ہراسمنٹ پر  منعقدہ آگہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کی قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن، ڈاکٹر فریال شیخ نے بھی خطاب کیا،جبکہ کہ اس موقع پر ڈاؤ میڈیکل کالج کی وائس پرنسپل ایسوایٹ پروفیسر شمائلہ خالد، پروفیسر صفیہ ظفر، پروفیسر نصرت حسین سمیت سینئر فیکلٹی ممبرز اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی،  کشمالہ طارق نے کہا کہ دوہزار انیس میں اب تک 330جبکہ 2018میں جنسی ہراسانی کے 272واقعات رپورٹ ہوئے تھے، اس سے پہلے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد بہت کم تھی،کشمالہ طارق نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، اور اس کے سدباب کا طریقہ واضح کیا گیاہے،اس مقصد کے لئے حکومت نے "FOSPHA"فاسپا کا ادارہ قائم کیا ہے، جس کا مقصد ایسے کیسز کو مدد فراہم کرنا ہے، انہوں نے طالبات سے کہا کہ اگر وائیوا، تھیوری یا امتحان کے درمیان کسی بھی نوعیت کا واقع پیش آئے تو اس کو فوری رپورٹ کیا جائے، اس مقصد کے لیے ہر یونیورسٹی میں ایک کمیٹی بھی ہونی چاہیے، جو ایسے واقعات کا سدباب کر ے،  ہراسمنٹ کیمیٹی ڈاؤ یونیورسٹی میں قائم ہے،اگر کام کی جگہ شکایت کرنے کے باوجود تشنگی دورنہ ہوتو وہ ہمارے پاس شکایت درج کرائے، ان شکایات کو آن لائن بھی درج کرایا جاسکتا ہے اور ہم تین منٹ کے دوران کال کے ذریعے ان سے رابطہ کرکے، قانونی مدد فراہم کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ قانون موجود ہیں ِ، مگر لوگوں کو اس کا علم نہیں، انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی سے متاثرہ لوگ قانون کا دروازہ کھٹکھانے سے ڈرتے ہیں، جنسی ہرانسگی کا سامنا اسکول، کالج، یونیورسٹی، اسپتال، آفس یاکسی بھی کام کی جگہ رونما ہو سکتاہے،  انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس مختلف یونیورسٹی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں اکثرکیسز ٹیچر اور طلبہ کے مابین تھے، جن پر ہم نے ان ٹیچر کو معطل یا نوکری سے برطرف کرانے کی سزائیں دلوائیں، انہوں نے کہا کہ مگر شکایت کا مرکز پہلے ادارے کی کمیٹی ہی ہوگی، اگر اس پر اعتماد نہ ہو یا کیس میں سپورٹ نہ کرے توہمارے دروازے ہر ایسے شخص کے لیے کھلے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ ہم اس مقصد کے لیے خاتون نے خاتون، مرد سے خاتون، مرد سے مرد، خاتون سے مرد اور مرد سے مرد کی شکایت کے کیسز وصول اور ان پر کام کرتے ہیں، انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ جہا ں ہم برابری کی حقوق کی بات کرتے ہیں، ہمیں کام بھی برابری کی بنیاد پر ہی کرنا ہوگا، انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے کیسز میں ہم نے ڈاکٹروں کے لائسنز، ٹیچروں کی ملازمت اور پولیس آفیسر وں کی ملازمت سے بے دخل کرایا، اسلیے طلبہ بھی نہ ڈریں وہ کسی بھی ہونے والی  زیادتی سے نمٹنے کے لیے آگے آئیں، انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی میسجز، کال، ای میل، یا کچھ کہے تو کیس داخل کیا جاسکتا ہے، انہو ں نے بتایا کہ ہمارا ادارہ قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر