محکمہ محنت کی لیبر کانفرنس آئندہ سال فروری میں منعقد کی جائے گی،سعید غنی

محکمہ محنت کی لیبر کانفرنس آئندہ سال فروری میں منعقد کی جائے گی،سعید غنی

  



کراچی( اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ محکمہ محنت سندھ کے تحت لیبر کانفرنس آئندہ سال فروری میں منعقد کی جائے گی اور اس سلسلے میں تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر کو 18 ویں ترمیم کے بعد بھی ابھی تک صوبہ سندھ کو منتقل نہ کیا جانا قابل تشویش ہے اور اس سے صوبہ سندھ کے ملازمین اور محنت کشوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ صوبے کے صنعتی زونز میں بنائی گئی سہ فریقی کمیٹیوں کو مزید فعال کیا جائے گا اور ان کے اجلاس جلد سے جلد بلائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعرات کے روز اپنے دفتر میں منعقدہ لیبر اسٹیڈنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محنت عبدالرشید سولنگی، وائس کمشنر سیسی محمد آصف میمن، ڈائریکٹر لیبر سرفراز اعوان، شہلا کاشف، نورالہدی سمیت دیگر افسران کے علاوہ مزدور رہنما جن میں پائلر کے کرامت علی، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب جنیدی، لیاقت ساہی، قمر الحسن، زہرہ خان، فرحت پروین، شفیق غوری، لیاقت مگسی اور دیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے بنائی گئی لیبر پالیسی اور اس حوالے سے کی جانے والی قانون سازی کو ملک کی بہتر پالیسی اور قانون سازی قرار دیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بنائے جانے والے قوانین کے رولز و ریگولیشن کو جلد سے جلد مکمل کرکے اس کے اطلاق کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں مزدور رہنماﺅ ں کی جانب سے 18 ویں ترمیم کے بعد بھی اب تک ای او بی آئی اور ورکرز ویلفئیر کو صوبہ سندھ کو منتقل نہ کئے جانے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملے کو وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے سی سی آئی میں اٹھایا جائے۔ اجلاس میں ٹریڈ یونیز پر این آئی آر سی کی جانب سے پابندیوں کے باعث درپیش مشکلات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت سندھ این آئی آر سی کے حوالے سے ترجیعی بنیادوں پر وفاق سے بات کرے۔ اجلاس میں مائنس اینڈ منرل کے محنت کشوں کے مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت واحد صوبائی حکومت ہے، جس نے مزدوروں اور محنت کشوں کے حوالے سے نہ صرف سب سے پہلے لیبر پالیسی کا اعلان کیا بلکہ ہم نے اسمبلی سے اس حوالے سے قانون کو بھی منظور کرایا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر صوبے میں سوشل سیکورٹی یونیورسلائزیشن کے لئے کام کا آغاز کرچکی ہے اور اس حوالے سے بھی قانون سازی کی جارہی ہے تاکہ صوبے بھر کا وہ مزدور اور محنت کش چاہے وہ کسی صنعتی یونٹس میں ہو، فیکٹری میں ہو، کسی کارخانے یا دکان میں ملازمت کرتا ہو یا پھر وہ رکشہ یا ٹیکسی چلاتا ہو، ان سب کو سوشل سیکورٹی کی سہولیات بالخصوص تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر