یورپ، خلیجی ممالک کا پاکستان سے گوشت در آمد کرنے کا فیصلہ 

یورپ، خلیجی ممالک کا پاکستان سے گوشت در آمد کرنے کا فیصلہ 

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین بالخصوص فرانس، سپین، کینیڈا، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے پاکستان سے گوشت کی درآمد کا فیصلہ کیاہے تاہم برآ مدات کے ضمن میں قوانین و ضابطے مقرر نہ ہونے سے گوشت کے ایکسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا حکومت اس جانب فوری توجہ مبذول کرے تاکہ پاکستان سے گوشت کی زیادہ سے زیادہ ایکسپورٹ یقینی بنا کر حلال فوڈ کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم حلال فوڈ کی عالمی مارکیٹ میں 2 فیصد حصہ سے بھی شروع کریں تو یہ 50سے 60 ارب ڈالر بنتا ہے جس سے کثیر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اس سیکٹر کو مراعات دے۔انہوں نے کہا کہ پولٹری سیکٹر کیلئے ضروری ہے کہ پولٹری فیلڈ کے اہم ترین جزو سویا بین کی درآمد سے امپورٹ ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کو ختم کیا جائے کیونکہ پولٹری فیڈ 15فیصدسے زائد سویا بین پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ پولٹری کی مجموعی پیداواری لاگت میں فیڈ کا خرچ 70فیصدہے۔انہوں نے کہا کہ پولٹری سیکٹر اور عوام کے وسیع تر مفاد میں حکومت پولٹری کی ویلیو ایڈڈفروزن اور پیک مصنوعات کا زیرو ریٹڈ سٹیٹس بحال کرے کیونکہ اس کے خاتمے سے اس کی پیداواری لاگت میں 20سے 40 فیصد فی کلو گرام کمی آسکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ویلیو ایڈڈ پولٹری مصنوعات کی ان پٹس کی درآمد سے امپورٹ ڈیوٹی ختم کی جائے اور فنڈڈ پولٹری پراڈکٹس کی درآمد پر بھاری امپورٹ ڈیوٹی عائد کی جائے جس طرح ٹیکسٹائل سیکٹر کو بچانے کیلئے دھاگہ کی درآمد پرڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک کی پولٹری مصنوعات کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس سیکٹر کو حکومت کا مکمل تعاون حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سمیت کئی ممالک اپنے ایکسپورٹرز کو پولٹری کی برآمد پر سبسڈی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے سبسڈی کا مطالبہ تو نہیں کرتے لیکن ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے پولٹری پراسیسنگ پلانٹس کی پیداواری لاگت کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ بینکوں سے بھاری شرح سود پر حاصل کئے گئے قرضوں کے باعث پولٹری سیکٹر کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس کیلئے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ پولٹری سیکٹر کے قرضوں پر سود کا 50فیصد ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پولٹری سیکٹر کو فر یٹ پر کوئی سبسڈی نہیں ہے جبکہ ہمارا سب سے بڑا حریف بھارت 75سے 90 فیصد تک فریٹ سبسڈی ادا کرتا ہے۔انہوں نے تجویزپیش کی کہ پاکستان میں بھی پولٹری سیکٹر کو 25فیصد فریٹ سبسڈی دی جائے اور بجلی کے بلوں پر ود ہولڈنگ اور جنرل سیل ٹیکس کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ کی 300ارب ڈالر کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے اسلئے اگر حکومت حلال فوڈ انڈسٹری کو مراعات دے تو پاکستا ن عالمی مارکیٹ میں 60ارب ڈالر کی حلال فوڈ برآمد کر کے ملک کیلئے کثیر زر مبادلہ کما سکتا ہے۔

مزید : کامرس