فاطمہ گروپ نے صف اول کی چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کرلئے

فاطمہ گروپ نے صف اول کی چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کرلئے

  



لاہور(پ ر)فاطمہ گروپ نے پاک چائنا ایگریکلچرل کو آپریشن فورم میں چین کی تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنی چائنا مشینری انجینئرنگ کوآپریشن (سی ایم ای سی) اور جدید انداز سے آبپاشی و ڈرپ آبپاشی کی ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والے چینی کاروباری ادارے سنکیانگ ٹیانے گروپ کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ یہ اہم پروگرام اسلام آباد میں 30 اکتوبر کو منعقد ہوا۔ اس قابل ذکر پروگرام میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور چینی سفیر یاؤ جنگ سمیت دونوں حکومتوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ زراعت کے شعبے سے منسلک کاروباری اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس اہم پروگرام کے دوران زراعت کے شعبے میں پاکستان اور چین کی زرعی کمپنیوں کے مابین تعاون کو فروغ، باہمی تعلقات اور شراکت داریوں میں اضافہ لانے پر اتفاق ہوا تاکہ جدید ترین آبپاشی کی ٹیکنالوجیز اور فارمنگ کے طریقے اختیار کرکے زراعت کے انفراسٹرکچر میں جدت اور اس سے منسلک تکنیکی مہارتوں کے ذریعے پاکستان کی زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ لایا جائے۔ اس معاہدے کے بارے میں فاطمہ گروپ کے اعلیٰ حکام نے بتایا، "اس معاہدے سے گہری شراکت داری، جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی منتقلی اور پاکستان میں بہتر زرعی پیداوار کی بنیاد قائم ہوگئی ہے۔ اس کا عزم صرف یہی نہیں کہ مقامی پاکستانی کاشتکاروں کو جدید آبپاشی کی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز فراہم کی جائیں بلکہ ان کی مجموعی پیداوار میں بھی بہتری لائی جائے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آبپاشی کے مقصد کے لئے قیمتی قدرتی نعمت یعنی پانی کا موثر استعمال بنایا جائے۔" دونوں ملکوں کے درمیان یہ تعاون سی پیک کا حصہ ہے اور اس اہم اشتراک سے پاکستان کو معاشی ترقی اور بہتری لانے کے لئے اپنی ٹیکنالوجیکل اور مالیاتی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ ایک زرعی ملک کے طور پر پاکستان کو زراعت کے شعبے میں جدت لانے کے لئے یہ اشتراک اور اسکے مقاصد نہایت اہم ہیں۔ زراعت سب سے زیادہ اہم شعبہ ہے جس میں جدید تبدیلیاں لاکر پیداوار اور مہارت میں اضافہ لایا جاسکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ غربت کے دائرے سے نکل کر ملکی معیشت کے دھارے میں آسکتے ہیں جو فی الوقت پاکستان کی سب سے اہم ترجیح ہے۔

مزید : کامرس