ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کا سوتی دھاگے کی بر آمدات میں کمی پر اظہار تشویش

  ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کا سوتی دھاگے کی بر آمدات میں کمی پر اظہار تشویش

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرزایسوسی ایشن نے سوتی دھاگے کی برآمدات میں مسلسل کمی پر اظہار تشویش سمیت ایکسپورٹ کی مالیت اور کاٹن فیکٹریوں میں کپاس کی گانٹھوں کی کم آمد پر بھی اضطراب کااظہارکیاہے اور کہاہے کہ حکومت اس ضمن میں سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے فوری اقدامات یقینی بنائے اور بجلی و گیس کی مسلسل فراہمی سمیت مہنگی بجلی، گیس، پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے بھی مناسب اقدامات کئے جائیں تاکہ پیداواری لاگت میں کمی لا کر بین الاقوامی منڈیوں میں کم لاگت کے حامل ممالک کا مقابلہ ممکن بنایا جاسکے۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایاکہ گزشتہ تین ماہ اگست، ستمبر، اکتوبر میں سوتی دھاگے کی برآمد میں 19فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایاکہ رواں سال کے دوران گزشتہ تین ماہ میں مجموعی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے جس کے باعث حالیہ تین ماہ میں یہ برآمدات 5ارب 15کروڑ ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال انہی تین ماہ کے دوران یہ شرح 6ارب 17کرو ڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ موسمیاتی تغیرات اور مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث کپاس کی پیداوار میں بھی تشویشناک حد تک کمی ہوئی ہے اور یکم نومبر تک ملک بھر کی کاٹن جننگ اینڈ پراسیسنگ فیکٹریوں میں 64 لاکھ 65 ہزار 600گانٹھ کپاس لائی گئی ہے جو گزشتہ سال 83 لاکھ 82 ہزار 419گانٹھ تھی۔ انہوں نے بتایاکہ مذکورہ تناسب سے کپاس کی پیداوار میں 22فیصد کے قریب کمی نوٹ کی گئی ہے جس سے ملکی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین، بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ اور دیگر اہم ممالک اپنی کم پیداواری لاگت کی حامل ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں اضافہ کے باعث دنیا بھر پر چھاتے جارہے ہیں لیکن اس کے برعکس انتہائی مہنگی بجلی، گیس و پٹرولیم مصنوعات کے باعث پاکستان کا انڈسٹریل سیکٹر بالخصوص ایکسپورٹ سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹرز نے کئی بیرون ممالک کی منڈیوں میں شدید مقابلہ بازی کے بعد انتہائی کم پرافٹ مارجن پر کرسمس و نیو ایئر کے بین الاقوامی آرڈرز حاصل کئے ہیں لیکن مسلسل 24 گھنٹے بجلی و گیس نہ ملنے کے باعث ان کی بروقت تکمیل ممکن نظر نہ آرہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرصنعت و تجارت اور زراعت ترقی کرے گی تو ملک خوشحال ہو گا لیکن اس کیلئے سستی بجلی، گیس و پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک و دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے بھی نکلنا ہو گا جس کے بغیر سستی بجلی، گیس و پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی ممکن نہیں۔ 

مزید : کامرس