سپریم کورٹ نے دہشتگردی کی تشریح کر کے اس قانون کا غلط استعمال روکدیا: سینئر وکلاء 

سپریم کورٹ نے دہشتگردی کی تشریح کر کے اس قانون کا غلط استعمال روکدیا: سینئر ...

  



لاہور(کامران مغل)سپریم کورٹ کی طرف سے دہشت گرد ی کی تشریح کئے جانے کے معاملہ پر سینئر وکلاء اورقانونی ماہرین نے اسے لینڈ مارک ججمنٹ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی حلقے گزشتہ 22سال سے ایسے فیصلے کے منتظر تھے، پاکستان بارکونسل کے رکن اعظم نذیرتارڑ نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء میں نافذ کیا گیا جس میں مختلف ادوارمیں وقتا ًفوقتاً ترامیم ہوتی رہیں لیکن دہشت گردی اصل میں ہے کیا یہ معاملہ تشنہ رہا،دہشت گردی کی تعریف کے معاملے پر عدالتی فیصلوں میں بھی تضاد تھا،وکلاء کی طرف سے بھی متعدد بار عدلیہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی تاکہ قانون کایکساں نفاذ ہوسکے،سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے اس قانون کاغلط استعمال نہیں کیا جا سکے گا،اس سے قبل ذاتی لڑائی جھگڑوں کے مقدمات میں بھی دہشت گردی کی دفعات لگادی جاتی تھیں، اب صرف ان ہی جرائم کو دہشت گردی تصور کیا جائے گا جس کی نشاندہی عدالت عظمیٰ نے کی ہے،پاکستان بار کونسل کے رکن محمد احسن بھون نے اس حوالے سے کہا کہ پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈولز کے استعمال کواپناصوابدیدی اختیار بنا رکھا تھا،وہ معاملے کی سنگینی بڑھانے کے لئے عام مقدمات میں بھی دہشت گردی کی دفعات شامل کردیتی تھی،اب لوگوں کی اس اذیت سے جان چھوٹ جائے گی۔سپریم کورٹ بار کے سابق سیکرٹری آفتاب باجوہ نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں قائم فل بنچ کے فیصلے سے ماضی میں دیئے گئے عدالتی فیصلوں کا تضاد ختم ہوگیاہے،ماضی میں پیسے لے کر دہشت گردی کی دفعات مقدمات میں شامل کی جاتی رہی ہیں، دہشت گردی ناقابل راضی نامہ جرم ہے جس کے لئے موت کی سزا مقررہے،لوگ عام مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرواکے قانون کا غلط استعمال کررہے تھے،سپریم کورٹ کے فیصلے سے قانون کا غلط استعمال رک جائے گا۔

سینئر وکلا

مزید : صفحہ آخر