ایک ہی تنازع کی 6 ایف آئی آر،آئی جی پنجاب ایس ایس پی گوجرانوالہ سے رپورٹ طلب

 ایک ہی تنازع کی 6 ایف آئی آر،آئی جی پنجاب ایس ایس پی گوجرانوالہ سے رپورٹ طلب

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہورہائی کورٹ کے جسٹس وحید احمد خان نے ایک ہی تنازع کی 6ایف آئی آرز درج کرنے کے خلاف دائر درخواست پرانسپکٹر جنرل پولیس اور ایس ایس پی (انوسٹی گیشن) گوجرانوالہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے،یہ درخواست محمد ابوبکر نامی شہری نے دائر کی ہے،جس میں موقف اختیا ر کیا گیا ہے کہ اس کے خلاف ایک ہی تنازع کی بنیاد پر تھانہ لدھے والا وڑائچ،قلعہ دیدار سنگھ وسول لائن ضلع گوجرانوالہ میں 6ایف آئی آرز درج کی لی گئی ہیں،یہ جھوٹی ایف آئی آرز درج کروانے میں سول سیکرٹریٹ کے سیکرٹری لیول کے افسر،چیف منسٹر پنجاب آفس کے ملازمین اوردیگر سیاسی شخصیات شامل ہیں جن کا مقصد درخواست گزار کو ہراساں کرکے اس کی جائیدادہتھیانا ہے،درخواست گزار نے ڈاکٹر عمر عادل وغیرہ سے 2011ء میں جائیدادخریدی،ڈاکٹر عادل عمر کے بھائی علی عدنان نے معاہدہ کے مطابق اپنے حصے کی جائیداد درخواست گزار محمد ابوبکر کے نام رجسٹری کرادی لیکن ڈاکٹر عمر عادل اپنے بینک اکاؤنٹ میں رقم وصول کرنے کے باوجود معاہدہ سے مکر گیا اس کے بعد محمد ابوبکرنے عدالت دیوانی گوجرانوالہ میں تعمیل مختص کا دعویٰ دائر کیااور وہ دعویٰ اب بھی سول عدالت گوجرانوالہ میں زیر سماعت ہے،اس کے بعد ڈاکٹر عمر عادل نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے فوجداری مقدمات کے ذریعے درخواست گزار کو ہراساں کرنا شروع کردیا،درخواست میں ان ایف آئی آرز کو کالعدم کرنے اور پولیس کو درخواست گزار کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

6  ایف آئی آر

مزید : صفحہ آخر