ڈاکٹر ندیم کی عبوری ضمانت کنفرم،ایک لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت

ڈاکٹر ندیم کی عبوری ضمانت کنفرم،ایک لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت

  



لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اسجد جاوید گھرال نے سابق بیوی کی طرف سے درج کروائے گئے مقدمہ میں ڈاکٹر ندیم کیانی کی عبوری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کا مچلکہ داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ڈاکٹرندیم کیانی کی سابقہ اہلیہ ذیشان ضیاء راجہ نے اپنے سابق شوہر پرجعلی دستاویزات تیار کر کے ان کے مشترکہ بزنس پر قبضہ کرنے کا الزام عائدکیااور سلسلے میں خاتون نے اپنے سابق شوہر کے خلاف ملک کے دو صوبوں میں ایک ہی نوعیت کے تین مقدمات درج کروائے،فاضل جج نے ڈاکٹر ندیم کیانی کی درخواست منظورکرتے ہوئے قراردیا کہ سندھ ہائی کورٹ وہاں درج کروائے گئے اسی نوعیت کے مقدمہ میں ڈاکٹر ندیم کیانی کی ضمانت بعد ازگرفتاری منظور کرچکی ہے،بادی النظر میں فریقین جب میاں بیوی تھے تویہ ان کامشترکہ کاروبار تھا،یہ2008ء اور2009ء کی بات ہے،ڈاکٹر ندیم کیانی 50فیصد کا حصہ دارتھا،درخواست گزارہی کاروبار کا منتظم تھا،اس نے اپنے بھائی سے 180ملین روپے ادھار لئے اور اس بزنس میں لگائے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعد میں درخواست گزار کے بھائی کو کاروبار کا پروپرائٹر مقرر کیا گیا،اس پس منظر میں یہ ظاہر ہورہاہے کہ درخواست گزار کے خلاف بدنیتی سے مذموم مقاصد کے تحت مقدمہ درج کروایا گیا،بادی النظر میں دو صوبوں میں ایک ہی معاملہ پر مقدمہ درج کروانے کا مقصد خاتون کی طرف سے اپنے شوہر کی تضحیک کرنا اور اسے دباؤ میں لاناہے،اس کاروباری تنازع کے دعویٰ جات سول عدالت میں زیرسماعت ہیں اور اس تنازع کے حل کا بہترین فورم سول عدالت ہی ہے،درخواست گزار کو اس کیس میں جیل میں رکھنا بے سود ہو گا، اس کی عبوری ضمانت پہلے ہی منظور ہوچکی ہے،اب ایک لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض یہ عبوری ضمانت کنفرم کی جارہی ہے۔فاضل جج نے جس مقدمہ میں ڈاکٹر ندیم کیانی کی ضمانت منظور کی ہے،وہ 30مارچ 2018ء کو ان کی سابق اہلیہ نے تھانہ غازی آباد میں درج کروایاتھا جس میں خاتون نے الزام لگایا تھا کہ اس کے سابق شوہر نے اس کے کاروبارامریکن لائف سٹف سکول سسٹم اور کالج کوہتھیانے کے لئے جعلی دستاویزات تیارکیں۔

عبوری ضمانت

مزید : صفحہ آخر