ایک سال کے دوران 80ٹرین حادثات میں درجنوں افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی ہوئے 

  ایک سال کے دوران 80ٹرین حادثات میں درجنوں افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی ہوئے 

  



لاہور(رپورٹ:  یو نس باٹھ)پا کستان ریلوے میں حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں،جولائی 2018ء سے جولائی 2019ء تک چھوٹے بڑے 80 کے قریب ٹرین حادثے ہو چکے ہیں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے اگست 2018 سے وزیر ریلوے کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک   80 ٹرین حادثات و واقعات میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، محکمہ ریلوے کوکروڑوں روپے کا مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا،ریلوے ریکارڈ کے مطابق جولائی 2018ء سے جولائی 2019ء تک چھوٹے بڑے 80 کے قریب ٹرین حادثے ہو چکے ہیں۔سب سے زیادہ جون میں 20 حادثات ہوئے جس میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، یکم جون کو لاہور یارڈ میں ریلیف ٹرین ڈی ریل ہوگئی۔ 3 جون کو عید سپیشل ٹرین لالہ موسی سٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی۔5 جون کو فیصل آباد اسٹیشن کے قریب شاہ حسین ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں، 5 جون کو ہی کراچی ڈویڑن میں کینٹر ٹرین کو حادثہ پیش آیا اور تھل ایکسپریس کی 5 بوگیاں کندھ کوٹ کے قریب پٹڑی سے اترگئیں۔ 20 جون کو حیدرآباد سٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس مال بردار گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔18 جون کو ملتان ڈویڑن میں ہڑپہ سٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کی ڈائننگ کار کو آگ لگ گئی، 22 جون کو لاہور ریلوے سٹیشن کے یارڈ میں کراچی جانے والی تیزگام کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔11 جولائی 2019 کو صادق آباد کے قریب راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی ٹرین اور مال گاڑی میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں کم سے کم 11 افراد جاں بحق جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے اور مسافر ٹرین کا انجن اور کئی بوگیاں تباہ ہوگئیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران  80 ٹرین حادثا ت ریکارڈ ہوئے  ہیں۔

ٹرین حادثا ت

لاہور (کرائم رپورٹر)وزارت ریلوے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مئی 2013 سے مارچ 2017 تک ملک بھر میں ٹرینوں کے 304 حادثات پیش آچکے ہیں جن میں 20 خطرناک حادثات بھی شامل ہیں۔سینیٹ میں وزارت ریلوے کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق کہ مئی 2013 سے تاحال ٹرینوں کے 304 حادثات رونما ہوچکے ہیں۔ 2013 میں 46 حادثات، 2014 میں 72، 2015 میں 110 اور 2016 میں 72 حادثات رونما ہوئے جب کہ2018میں کے پہلے 3 ماہ میں ٹرینوں کے 4 اہم حادثات شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان حادثات میں 20 خطرناک حادثات بھی شامل ہیں جس میں 112 افراد لقمہ اجل بنے اور 425 افراد زخمی بھی ہوئے، مئی 2013 سے دسمبر 2016 تک 17 بڑے حادثات میں 94 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔روپورٹ میں حادثات کی وجوہات میں بتایا گیا کہ 4 برسوں میں 88 واقعات ٹرین کے پٹری سے اترنے کی وجہ سے رونما ہوئے اور مال بردار ٹرین کے پٹری سے اترنے کے 96 واقعات پیش آئے۔ ٹرینوں میں آگ لگنے کے مجموعی واقعات 34 ہیں جب کہ ریلوے کراسنگ پر حادثات کی تعداد 62 ہے۔سینیٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں 4 برسوں کے دوران 25 انتہائی خطرنا ک حادثات کی وجہ ایک حادثہ موسم کی خرابی، تخریب کاری کے باعث 7 اور  17 حادثات پاکستان ریلویز کے ملازمین کی غفلت کے باعث پیش آئے جب کہ 9 ٹرین ڈرائیورز کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔غفلت برتنے والے 2 افسران سمیت 37 ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی، ایک چیف کنٹرولر اور ایک ڈپٹی چیف کنٹرولر کی 4 سال کی تنخواہ روکی گئی اور 4 اسٹیشن ماسٹرز اور اسٹنٹ اسٹیشن ماسٹرز کی تنخواہوں میں اضافہ روک دیا گیا جبکہ اسپکٹرز، سگنل انسپکٹر، سگنل انجینئر اور ٹرین کی جانچ پڑتال کرنے والے عملے سمیت ادارے کے دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی روکا گیا۔وزارت ریلوے کی جانب سے 2013 میں ٹرین حادثات میں جاں بحق ہونے والے ورثا کو 2 لاکھ روپے فی کس، 2014 میں 17 جاں بحق افراد کے لواحقین کو مجموعی طور پر 90 لاکھ، 2015 میں ٹرین حادثات میں ہلاک ہونے والے 38 افراد کے ورثا کو مجموعی طور پر 3 کروڑ 4 لاکھ جب کہ 2016 میں جاں بحق ہونے والے 34 افراد کے لواحقین کو 2 کروڑ 15 لاکھ روپے ادا کئے گئے۔

وزارت ریلوے

مزید : صفحہ اول