کمزرو تفتیش سے کیس میں تاخیر ناقابل برداشت: چیئر مین نیب 

      کمزرو تفتیش سے کیس میں تاخیر ناقابل برداشت: چیئر مین نیب 

  



سکھر (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین قومی احتساب بیورو(نیب) جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانا، بد عنوان عناصر سے لوٹی ہوئی رقوم کی واپسی اولین ترجیح ہے۔ جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا آج وہ جیل میں ہیں، اگر کسی کے پیچھے ہمالیہ بھی کھڑا ہے تو میرے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں، اگر کیس بنتا ہوگا تومیں ضرور کیس بناوں گا، ہمارا کام کسی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا نہیں، حکومت اور ریاست الگ الگ چیز ہیں، نیب کے کلرک سے لیکر افسر تک کسی اہلکار کا کسی جماعت کیساتھ کوئی تعلق نہیں، ہونا تویہ چاہیے کہ ہمارے آئی اوز عدالتوں کو گائید لائن فراہم کریں۔جمعرات کو سکھر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کامزید کہنا تھا نیب کرپشن ریفرنسز کے جلد فیصلوں کیلئے کوشاں ہے، نیب نے خود کو آزاد اور خود مختار ادارہ ثابت کیا ہے جبکہ نیب نے دو سال میں 600سے زائد ریفرنسز فائل کئے ہیں، جبکہ لوٹے گئے 71ارب روپے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرانے گئے ہیں، جب سے چیئرمین نیب بنا ہوں اور دو سال میں ثابت کیا ہے نیب ایک آزد ادارہ ہے، ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہیں جائیگا، جبکہ یہ منفی تاثر ہے نیب کا احتساب نہیں ہو رہا،ججز کی تعداد کم ہونے کے باعث فیصلوں میں تاخیر ہے، نیب وائٹ کالر کرائم کو ڈیل کرتا ہے۔ہماری مالی حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں جبکہ نیب میں بدنیت اہلکاروں کی گنجائش نہیں، چند تفتیشی افسر ایسے ہیں جن کو تفتیش کی اے بی سی کا بھی نہیں پتا، کیس میں کبھی خوف سے کام نہیں ہوتا، نیب کے تفتیشی افسرا کی مالی حالات بہتر ہوئی ہے انہیں کارکردگی بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، نیب نے بہت سے وزراء اور سابق وزراء اعلیٰ کیخلاف بھی کیس کا حکم دیا، اگر کسی پر بھی کیس بنتا ہو گا میں ضرور کیس بناؤں گا جبکہ کسی کو گرفتار کرتے ہیں تو نیب کا احتساب پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے۔سکھر ریجن میں کچھ افسران کی جانب سے بے ایمانی کی شکایات ملی ہیں،وہ اپنا قبلہ درست کر لیں بصورت دیگر احتساب کیلئے تیار رہیں، کمزور تفتیش سے عدالتوں میں کیس میں تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔ میں کسی دھمکی، لالج اور دباؤ میں نہیں آتا،صرف کیس ریزلٹ کو دیکھتا ہوں، کسی تفتیشی افسر کی وجہ سے نیب کی ساکھ پرحرف نہیں آنا چاہیے، نیب افسران سیاسی و ذاتی مفا د ا ت سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں کام کریں۔ نیب میں روایتی پولیس کلچر کی کوئی گنجائش نہیں۔

چیئرمین نیب

مزید : صفحہ اول