آزادی مارچ کی گوجرخان سے روانگی مشاورت سے موخر کی گئی

  آزادی مارچ کی گوجرخان سے روانگی مشاورت سے موخر کی گئی

  



اسلام آباد(نعیم مصطفےٰ سے) جمعیت علمائے اسلام نے دو وجوہات کی بنا پر گوجر خان میں آزادی مارچ کے قیام میں اضافہ کر دیا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق جمعرات کی صبح اسلام آباد روانگی کے بجائے رات گئے قافلہ وفاقی دارالحکومت کی طرف روانہ ہوا ۔جے یو آئی کے ذرائع نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ جب ہمارا کاروا ں بدھ کی شب آخری پہر گوجر خان پہنچا تو امیر جمعیت مولانا فضل الرحمان کے کنٹینر میں قائدین کا غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا جس میں کراچی سے گوجر خان تک کے مارچ کے تمام مراحل پر باریک بینی سے غور کیا گیا اور کہا گیا کہ مارچ کی روانگی سے منزل کے قریب کے تمام معاملات خوش آئند اور تسلی بخش ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر سمیت ملک بھر سے قافلوں کی وفاقی دارالحکومت آمد کی جو اطلاعات ہیں وہ بھی خاصی حوصلہ افزاءہیں ۔امیر جمعیت نے بھی تمام انتظامات کو بہترین قرار دیا ۔اس غیر رسمی اجلاس کے دوران آئندہ کا لائحہ عمل بھی زیر غور آیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آزادی مارچ جمعتہ المبارک کو علی الصبح اسلام آباد پہنچنا چاہئے ، اس کے پیش نظر پہلی منطق تو یہ تھی کہ دور دراز علاقوں سے مارچ میں شرکت کیلئے آنے والے قافلے گزشتہ روز تک اسلام آباد نہیں پہنچے تھے ، بالخصوص بلوچستان اور سندھ سے آنے والے شرکاءکی بڑی تعداد ابھی راستے میں تھی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت مسلم لیگ ن کے کئی اہم رہنماءبھی جمعرات کے روز ذاتی مصروفیات کے باعث شرکت کی معذوری ظاہر کر رہے تھے ،دو تین اہم گرفتار سیاسی رہنماﺅں کی ضمانت کی درخواستیں بھی عدالتوں میں زیر سماعت تھیں اور جے یو آئی سمیت ان رہنماﺅں کی اپنی جماعتیں پرامید تھیں کہ وہ رہنماءضمانت پر رہائی پا سکتے ہیں اور یوں ان کی آزادی مارچ کے آخری جلسے میں شمولیت کا امکان بھی موجود ہے ۔ گوجر خان سے مارچ کی تاخیر سے روانگی کی دوسری وجہ دینی مدارس میں جمعتہ المبارک کی ہفتہ وار چھٹی ہے ، کہا گیا کہ مدارس کے بڑی تعداد میں طلباءکی اس تعطیل کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے اور راولپنڈی اسلام آباد سمیت متصل علاقوں سے بھی مدارس کے طلباءاور اساتذہ جلسہ گاہ پہنچ جائیں گے اسی طرح خیبرپختونخواہ اور بلوچستان سے جو قافلے جمعرات کے روز روانہ ہوئے ان کے لئے بھی اس طرح کی پالیسی اپنائی جائے کہ وہ جمعہ کوعلی الصبح اسلام آباد پہنچیں ۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعیت کے قائدین نے ان تمام تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے معاملات کو حتمی شکل دی اور آزادی مارچ جمعرات کی شب وفاقی دارالحکومت کو روانہ تاہم شرکاءکو ہدایت کی گئی کہ وہ رفتار سست رکھیں ۔

روانگی موخر

مزید : صفحہ اول