ٓمارچ اسلام آباد پہنچ گیا ، اس میں دھرنے سمیت سب کچھ ہے : مولانافضل الرحمن ، معاہدہ توڑا گیا تو نتائج کے ذمہ دار ہم نہیں ہونگے ، حکومتی کمیٹی ، کفن باندھ کرآنیوالوں کوروکو گے تو نتیجہ کچھ اور ہو گا : جے یو آئی

  ٓمارچ اسلام آباد پہنچ گیا ، اس میں دھرنے سمیت سب کچھ ہے : مولانافضل الرحمن ، ...

  



اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )آزادی مارچ جمعرات کو رات گئے اسلام آبادپہنچ گیا کراچی سے شروع ہونے والے آزادی مارچ کے شرکاءنے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گوجر خان مین قیام کیا جہاں یہ مارچ ایکسپریس وے کے ذریعے اپنی منزل اسلام آباد پہنچ گیا۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور آزادی مارچ کے شرکاءنے 27 اکتوبر کو ملک کے مختلف حصوں سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کیا تھا اور انہیں 31 اکتوبر اسلام آباد میں داخل ہونا تھا۔گوجر خان سے اسلام آباد روانگی کے وقت خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آزادی مارچ، مارچ رہے گا، اس میں دھرنا بھی ہے ،سب کچھ ہے،عوام کے جذبے کا مقابلہ حکومت نہیں کر سکتی ، کارکن پر امن رہیں ، ناجائز اور نااہل حکومت کو پاکستان پر مسلط ہونے کا حق نہیں، ملک داﺅ پر لگا ہے، آزادی مارچ وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کے لیے ہے، جمہوریت کی آزادی اور قانون کی عملداری کی جنگ لڑ رہے ہیں،پوری قوم ایک صف میں ہے جو 25 جولائی 2018 کے انتخابات کو قبول نہیں کرتی، ہم ووٹ کی طاقت کو واپس لائیں گے۔ جلسہ موخر کر نے کی تردید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یہ ہمارا پروگرام ہے جس کے بارے میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کب اور کیا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ تمام قافلے اپنے وقت اور ترتیب کے مطابق اسلام آباد پہنچ رہے ہیں ، آزادی مارچ، مارچ رہے گا، اس میں دھرنا بھی ہے سب کچھ ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تیز گام کو پیش آنے والے حادثے پر بہت دکھ اور رنج ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، تحقیقات کی جائے کہ یہ حادثہ ہے یا دہشت گردی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے مغفرت کی دعا بھی کی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ عوام کے جذبے کا مقابلہ حکومت نہیں کر سکتی ،میرے ساتھ نو جوان ہیں اور پر امن ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اپنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ پر امن رہیں اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں ۔انہوںنے کہاکہ کوشش کی جائیگی کہ آزادی مارچ سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے ۔انہوں نے کہا کہ قوم کی دعاں کے ساتھ اللہ ہمیں کامیاب کرے گا، پورا پاکستان اپنا فیصلہ منوائے گا۔انہوں نے کہا کہکنٹینر ہمارا راستہ نہیں روک سکتے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے راستے بند ہیں، تصادم ہو سکتا ہے۔ زیرو پوائنٹ سے ڈی چوک تک بند کیا جاتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آزادی مارچ آج اسلام آباد میں جلسہ گاہ پہنچے گا لیکن سانحہ تیز گام ایکسپریس کی وجہ سے آج کا جلسہ کل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کا جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ مشترکہ اپوزیشن نے کیا ہے اور اب آزادی مارچ کا جلسہ کل جمعے کے بعد کیا جائے گا۔اسی حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سانحہ تیز گام کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ کل جمعہ کے بعد جلسہ کیا جائیگا جو بہت بے مثال ہوگاادھر عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے بھی مریم اورنگزیب کے بیان پر شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ ایک بڑے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسفند یار ولی اسلام آباد پہنچگئے وہ جلسے سے خطاب کرینگے دریں اثنا بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اسلام آباد میں آزادی مارچ میں شریک ہوں گے۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف آج دوپہر لاہور سے اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں شریک ہوں گے اور جلسے سے خطاب بھی کریں گے۔جمعیت علماءاسلام (ف)کے سیکرٹری جنرل سینیٹر عبد الغفور حیدری نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ کفن باندھ کر آنے والوں کو روکو گے تو اس کا نتیجہ کچھ اور ہوگا، جمہوریت کے دعوےداروں نے خود سب کچھ بند کر دیا ،جلسے کے اطراف تمام راستے،موبائل نیٹ ورک اورپیٹرول بند کر دیا گیا ہے، ہمار آزادی مارچ پر امن ہے مگر حکومت قافلوںکو مزاحمت کے راستے دکھا رہی ہے،ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ رکاوٹیں بھی پیدا کریں اور بد امنی بھی نہ ہو،اگر کچھ ہوا تو اسکی ذمہ دار حکومت ہو گی،پورے ملک سے چلنے والے قافلوں کی وجہ سے کوئی شیشہ تک نہیں ٹوٹااب ہمیں مزاحمت کیلئے مجبور نہ کریں، عمران خان کابینہ سمیت استعفیٰ دے اوراسمبلیاں تحلیل کردی جائیں ،رحیم یار ٹرین واقعہ قومی المیہ ہے، تحقیقات کروائی جائیں یہ کسی سازش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، جلسہ منسوخی کے حوالے سے غلط فہمی پھیلائی گئی، مریم اورنگزیب سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا، جس نے جلسہ منسوخی کی بات کی اس کی لاج رکھنی چاہیے کیونکہ حقیقت میں 31اکتوبر کو کوئی جلسہ نہیں ہو رہا،آج کا دن تو گزر گیا۔۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد کی تمام اہم شہرائیں بند ہیں۔آج تک کسی کو بھی یہاں آنے کی اجازت نہیں تھی ،آج میں لاجز سے ایک بجے نکلا اور دو بجے یہاں پہنچا ہوں،ہر طرف سڑکیں بند کر دی گئی ہیں،جمہوریت کے دعوےداروں نے خود سب کچھ بند کر دیا ہے،۔ جلسے کے اطراف تمام راستے اور نیٹ ورک بند کر دیا گیا ہے ۔پیٹرول تک بند کر دیا گیا ہے ،آپ بتائیں آپ نے ہمیں کیا رعایت دی ہے میں نے ڈپٹی کمشنر کی بات پر لبیک کہا اور آج سب کچھ بلاک کر دیا گیا ہے ،راولپنڈی سے فیض آباد تک روڈ بند ہیںاگر کچھ ہوگا تو اسکی زمہ داری حکومت اور عمران نیازی پر ہوگی،عبد الغفور حیدری نے کہا کہ دھاندلی زدہ الیکشن کی پیداوار حکومت کو ختم کر کے چھوڑیں گئے۔ابھی بھی وقت ہے عمران خان استعفیٰ دے دے اوراسمبلیاں تحلیل کر دے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں اور یہ ہم سب کے متفقہ مطالبات ہیں، عمران خان کابینہ سمیت استعفی دےاسمبلیاں تحلیل کریں اور نئے انتخابات کی طرف جائیں۔خیبرپختونخوا سے بھی آزادی مارچ میں شرکت کے لئے قافلے اسلام آباد پہنچ گئے،عوامی نیشنل پارٹی،قومی وطن پارٹی اورمسلم لیگ ن کے رہنماءاورکارکنان کی ایک بڑی پشاور،چارسدہ ،مردان اوردیگر اضلاع سے پشاور پہنچ گئی

مارچ پہنچ گیا

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) آزادی مارچ کے لیے حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ مارچ والوں نے معاہدہ توڑا تو نتائج کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہو گی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے لیے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ و وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت دیگر رہنماو¿ں نے میڈیا سے گفتگو کی۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نے جلسے کی اجازت دے کر رسک لیا ہے لیکن معاہدہ توڑا گیا تو نتائج کی ذمہ داری ہم پر نہ ہو گی۔انہوں نے کہا کہ جلسے کی جگہ کا انتخاب بھی جے یو آئی نے کیا، ایچ نائن ان کی ریڈ لائن ہے۔پرویز خٹک نے بتایا کہ پشاور، سوات میں بسیں روکی جا رہی ہیں تویہ ہماری مرضی سے نہیں ہو رہا، خیبرپختونخوا کے کچھ علاقوں میں انتظامیہ اپنے طور پر کارروائی کر رہی ہے مگر امید ہے رہبر کمیٹی وعدہ نہیں توڑے گی۔مذاکراتی کمیٹی کے رکن شفقت محمود نے کہا کہ ہم نے پریڈ گراو¿نڈ تجویزکیا تھا لیکن انہوں نے پشاور موڑ پر آمادگی ظاہر کی، ڈی چوک میں کسی کو نہیں آنے دیں گے، رہبر کمیٹی کی جانب سے معاہدہ توڑا گیا تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہو گی۔قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ رہبرکمیٹی نے کہا تھا کہ ہم ہر وعدہ پورا کریں گے، ہمیں امید ہے معا ملات نہیں بگڑیں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ جے یو آئی والے جب تک چاہیں اسلام آباد میں بیٹھیں، بس قانون نہ توڑیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ کو قانون پر عمل درآمد کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، ہم نے یہ شق ڈالی کہ ملک میں کہیں بھی خلاف ورزی ہوئی تو معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جے یو آئی کے مطالبات میں ابہام ہے، فضل الرحمان معاہدے کی پاسداری کریں، امید ہے اپوزیشن جمہوری رویہ برقرار رکھے گی۔و انہوں نے کہا کہ کہا اگر ہر سال کے بعد انتخابات ہونا شروع ہو جائیں تو ملک اور معیشت نہیں چل سکتی، تھوڑا انتظار کرلیں، حکومتیں ایسے نہیں گرتیں، آزادی مارچ پر حکومت کا رویہ جمہوری تقاضوں کے مطابق ہے، حکومت کو پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ابھی تو ایک سال ہوا ہے دوسری طرف وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جمعیت علماءاسلام کو آزادی مارچ اور جلسے کی اجازت دے کر ان جماعتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جو مولانا فضل الرحمن کا کندھا استعمال کرکے ملک میں انتشار پھیلانا چاہتہ تھیں ‘ جمعیت علماءاسلام کو جلسے کیلئے ان کی پسند کی جگہ دی‘ کراچی سے چلنے والے آزادی مارچ کو اسلام آباد تک پانی‘ بجلی اور ٹریفک روٹ سمیت ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں‘ مارچ کے شرکاءکی طرف سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی تو قانون حرکت میں آئے گا‘ مولانا فضل الرحمن کی جان کو خطرہ ہے اس سے انہیں آگاہ کردیا گیا ہے‘ وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ جلسہ کے شرکاءکو فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی ہے‘ جبکہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سیاست کے میدان میں کسی کا مقابلہ کرنے میں کوئی عار نہیں‘ مولانا فضل الرحمن کا پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں جلسہ کرنے کی اجازت دی‘سفارتخانوں اور سفارتکاروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے ‘ جمعیت علماءاسلام کے مارچ کا پی ٹی آئی کے2014 کے دھرنے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ جمعرات کو یہاں پی آئی ڈی میں وفاقی وزیرِداخلہ اعجاز شاہ اور وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ میں نے اسلام آباد میں ہونے والے سیاسی مارچ کی پوری فہرست تیار کی ہے ۔یہ مارچ سکندر مرزا کے زمانے سے شروع ہوئے ۔قاضی حسین احمد کے مارچ کو نہ آنے دیا گیا اور اس میں جانی نقصان ہوا ‘اسلام آباد میں ایک بار سپریم کورٹ پر یلغار ہوئی ۔عوامی تحریک ، تحریک انصاف اور تحریک لبیک نے اسلام آباد میں مارچ کئے۔ سابق دور حکومت میں جب چوہدری نثار وزیر داخلہ تھے تو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی کے پی کے سے ریلی کو اسلام آباد نہیں آنے دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے 19جولائی کو پہلی اے پی سی میں حکومت کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا 3اکتوبر کو مولانا فضل الرحمن نے فیصلہ کیا کہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنا چاہئے۔ پہلے مولانا فضل الرحمن کا ایک مطالبہ تھا پھر دو‘ پھر چار اور پھر چھ مطالبات رکھے۔ مارچ یا دھرنا دینا یہ صرف مولانا فضل الرحمن کو معلوم تھا اس کے لئے 27اکتوبر کی تاریخ رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جب مولانا فضل الرحمن کو عدالتی فیصلے کی روشنی میںمارچ یا جلسے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تو اس وقت وہ لوگ جو مولانا فضل الرحمن کا کندھا استعمال کرنے ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے تھے ان کا منہ بند ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمن سے جو معاہدہ کیا تھا اس کے مطابق حکومت نے مارچ کو سہولیات فراہم کرنا تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ اس کو نہیں روکیں گے چاہے وہ سمندر سے شروع کریں‘ جہاز سے شروع کریں یا دوبئی سے شروع کریں۔ چار روز کے مارچ میں 20سے 25ہزار لوگ سندھ سے چلتے ہوئے گوجر خان پہنچ چکے ہیں۔ حکومت نے ان کو سہولیات فراہم کی ہیں پانی‘ بجلی اور ٹریفک پلان دیئے روات سے ایکسپریس ہائی وے سے فیض آباد اور وہاں سے نائنتھ ایونیو سے کشمیر ہائی وے اور پھر جلسہ گاہ پہنچ جائیں گے۔ مولانا کا کنٹینر انتہائی مہنگا ہے اس کے لئے بھی ایک الگ روٹ بنایا تاکہ اس کو جھٹکا نہ لگے اور اس کی کوئی کمانی نہ ٹوٹ جائے۔ جلسہ گاہ میں صفائی کی گئی ہے پانی‘ بجلی اور واش روم کی جگہ دی گئی جلسہ گاہ میں تمام تر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ جب شرکاءجلسہ گاہ پہنچ جائیں گے تو پھر ان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرینگے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کوئی پکڑنے والا کام کرے گا تو پکڑ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ میرے بہت اچھے تعلقات ہیں ۔مولانا کے آتے ہی ان سے پوچھوں گا کہ وہ کب تک ٹھہریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ صحافیوں سے کہا کہ آپ ان سے پوچھیں وہ کیوں آرہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ میں کیا ایسا کروں جس سے معلوم ہوگا کہ میں گھبرایا ہوا نہیں ہوں۔کیا میں ڈانس کرنا شروع کردوں۔ یہ بنانا ریپبلک نہیں۔ میں اچھے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتا وزیر داخلہ نے استفسار کیا کہ کون گھبرایا ہوا ہے ؟ جو ڈر گیا وہ مرگیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے نوازشریف کی صحت سے متعلق بیانات سے منع کیا ہے نوازشریف کا نام ای سی ایل پر ہے ‘سیاست اور احتساب ایک طرف ہے جبکہ صحت اور زندگی ایک طرف ہے اللہ تعالی سب کو صحت اور زندگی دے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تصادم ہوگا تو اگلا وزیراعظم بھی عمران خان ہوگا۔ یہ آزادی مارچ نہیں مولانا کا مارچ ہے ۔ ۔ اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اسلام آباد کے اندر 81 ممالک کے سفارتخانے اور سات ہزار سفارتکار موجود ہیں سفارتخانوں اور سفارتکاروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ملا فضل الرحمان کے مارچ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سات ہزار سفارتکاروں کے ذریعے پاکستان کا چہرہ دنیا تک پہنچتا ہے ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیاست کے میدان میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے میں کوئی عار نہیں ۔ حکومت نے مولانا کے پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں اجازت دی ہے ۔ وہ کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے پاکستان کی سلامتی اور دنیا میں پاکستان کا وقار مجروع ہو ۔

حکومتی کمیٹی

مزید : صفحہ اول