غازی علم الدین شہیدؒ نے عشق رسولؐ کی لازوال مثال قائم کی،حافظ عثمان

  غازی علم الدین شہیدؒ نے عشق رسولؐ کی لازوال مثال قائم کی،حافظ عثمان

  



لاہور (جنرل رپورٹر) غازی علم الدین شہیدؒ نے ناموس رسالتؐ پراپنی جان قربان کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مسلمان کٹ تو سکتا ہے لیکن پیارے نبیؐ کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ ان خیالات کااظہار حافظ عثمان احمد نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، لاہور میں عظیم عاشق رسولؐ غازی علم الدین شہیدؒ کے88ویں یوم شہادت کے موقع پر منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔ اس لیکچر کا اہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔حافظ عثمان احمد نے کہا تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ برصغیر خطہئ عشق رسول ہے جب بھی کسی بدبخت نے پیارے نبی کریمؐ کی شان میں کوئی گستاخی کی تو عشاقان مصطفیؐ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے حرمت رسولؐ کا تحفظ کیا۔ 1923ء کے آخر میں ہندو آریہ سماج تنظیم کے سرگرم رکن راجپال نے ایک ایسی دل آزار کتاب شائع کی جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کی گئیں۔ کتاب کی اشاعت سے پورے ملک میں کہرام مچ گیا، مسلمانوں نے احتجاجی جلسے اور جلوس نکالے۔ ایسے میں غازی علم الدینؒ جیسا بہادر اور سچاعاشق رسولؐسامنے آیاجنہوں نے 6 اپریل 1929ء کو نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کرنیوالے گستاخ راجپال کو سرعام جہنم واصل کردیا۔ اس اقدام پر انگریز حکومت نے غازی علم الدین کو گرفتار کر لیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ جیسے عظیم لیڈر نے ان کا مقدمہ لڑنے کو اپنے لئے قابل فخر محسوس کیا اور علامہ محمد اقبالؒ جیسے مفکرنے ان کی قسمت پر رشک کیا۔ 22 مئی 1929ء کو غازی علم الدین شہیدؒ کو سزائے موت کا حکم سنا یاگیا اور 31 اکتوبر 1929 ء کو میانوالی کی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

حافظ عثمان

مزید : میٹروپولیٹن 1