ایس ای سی پی کا پی ٹی وی کی کرپشن کے بارے میں لیاگیاایکشن خوش آئند

  ایس ای سی پی کا پی ٹی وی کی کرپشن کے بارے میں لیاگیاایکشن خوش آئند
   ایس ای سی پی کا پی ٹی وی کی کرپشن کے بارے میں لیاگیاایکشن خوش آئند

  



شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (کمپنی لاء ڈویژن)کی جانب سے پی ٹی وی کی کرپشن اور بدعنوانیوں کے بارے میں جو ایکشن لیا گیا ہے وہ انتہائی خوش آئند ہے اس سلسلے کو اب رکنا نہیں چاہیے کیونکہ پی ٹی وی ہمارا قومی چینل ہے اور اس میں ہونے والی ہر قسم کی خرابی ہمارے لئے دکھ کا باعث ہے۔شابز شخصیات نے کہا کہ اس عظیم قومی چینل کو جس طرح مفاد پرستوں اور ابن الوقت لوگوں نے لوٹا ہے اس کی مثال کسی بھی شعبہ میں نہیں ملتی۔ وزیر اعظم عمران خان کو اپنی ساکھ بچانے کیلئے فوری اور جنگی بنیادوں پر ایکشن لینا ہوگا تبھی پی ٹی وی کو بچایا جاسکے گا۔آغا شاہد رشید چیئرمین آل پاکستان ریٹائرڈ ایمپلائز یونین آغا شاہد رشید کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے قائم کردہ شکایت پورٹل،ایف آئی اے اور نیب میں پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی مالی اور انتظامی بدعنوانیوں،چیئر مین ارشد خان،ممبر راشد علی خان کی تقرری سے لے کر گروپ 3تک کی جانے والی غیر قانونی بھرتیوں، دیگر پرائیویٹ اداروں کے ساتھ کاروبار کے دوران کروڑوں کی کرپشن اور کمیشن کے حوالے سے ثبوتوں اور دستاویزات کے ساتھ شکایت درج کروائی گئی تھی۔اس پر کارروائی کا آغاز بارش کا پہلا قطرہ ہے اور اب بدعنوان عناصر کا ٹھکانہ جیل کے سوا کچھ نہیں۔ یاد رہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی وی عطاء الحق قاسمی کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق موجودہ چیئرمین پی ٹی وی ارشد خان مذکورہ عہدہ کی اہلیت نہیں رکھتے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی ان کے ایم ڈی پی ٹی وی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر کی تقرری کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔دوسری جانب ارشد علی خان آئین پاکستان اور کمپنیز ایکٹ کے تحت پی ٹی وی ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز بننے کی اہلیت نہیں رکھتے وہ پہلے ہی 11کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں اور قانون کی رو سے کوئی بھی پاکستانی شہری 5سے زیادہ کمپنیوں کا ڈائریکٹر نہیں بن سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسا شخص ممبر بننے کے اہل نہیں ہے جس کی کمپنی کا پی ٹی وی کے ساتھ کاروباری تعلق ہو۔راشد علی خان کی کمپنیوں کا پی ٹی وی سے کاروباری تعلق سب کو معلوم ہے۔ آغا شاہد رشید ہی کی طرح عبدالمتین باجوہ چیف آرگنائزر آل پاکستان پی ٹی وی ایمپلائز اینڈ ورکرز یونین(سی بی اے)نے بھی پی ٹی وی میں ہونے والی لاقانونیت اوربے قاعدگیوں کے خلاف درخواست دی ہوئی ہے۔پی ٹی وی کی کرپشن کی انکوائری جب ایف آئی اے کے افسر ماجد نیازی نے شروع کی اور اس حوالے سے شواہد اکٹھا کئے تو ایک ماہ بعد ہی ان کو کسی دوسری جگہ ٹرانسفر کردیا گیا اور اب یہ انکوائری چیئرمین نیب کے حکم پر سید محمد حسنین کے پاس ہے۔شاہد حمید،شان،معمر رانا،شاہدہ منی،میگھا،ماہ نور،مسعود بٹ،اچھی خان،جرار رضوی،نادیہ علی،ہانی بلوچ،مایا سونو خان،عامر راجہ،آغا قیصر عباس،سہراب افگن،حاجی عبد الرزاق،یار محمد شمسی صابری،بینا سحر،ثناء بٹ اور رضی خان نے کہا کہ نے کہاکہ ہمارے ملک میں ماضی میں بھی بہت ساری انکوائریاں ہوئی ہیں۔

لیکن ان پر ایکشن بہت کم ہوا ہے اس بار ماضی کی روایت کو ختم ہونا ہوگا۔

،سدرہ نور،بی جی، عباس باجوہ،ندا چوہدری،ہنی شہزادی،اسد نذیر،نادیہ جمیل،عقیل حیدر،گلفام،طاہر انجم،طاہر نوشاد،ڈاکٹر اجمل ملک،ملک طارق،ارشد چوہدری،ڈیشی راج،آفرین خان،آشا چوہدری،احسن خان،نیلم منیر،رزکمالی،وہاج خان،اسد مکھڑا،گڈوکمال،جہانزیب علی،صوبیہ خان،ثمینہ بٹ،ناصر چنیوٹی،تابندہ علی،بابرہ علی،قیصر لطیف،ذیشان جانو،سلیم بزمی، لاڈا،ظفر عباس کھچی،مومنہ بتول،عائشہ جاوید،عارف بٹ،عاصم جمیلِ،آغا حیدر اور رضی خان نے کہا کہ نے کہاکہ ہمارے ملک میں ماضی میں بھی بہت ساری انکوائریاں ہوئی ہیں لیکن ان پر ایکشن بہت کم ہوا ہے اس بار ماضی کی روایت کو ختم ہونا ہوگا۔

لاہور(فلم رپورٹر)ڈائریکٹر محسن مرزا نے نئے پراجیکٹ کا آغاز کردیا ہے جس میں دیگر فنکاروں کے ساتھ ساتھ فیصل قریشی اور اعجاز اسلم بھی طویل عرصہ بعد اکٹھے نظر آئیں گے۔فیصل قریشی اور اعجاز اسلم دونوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنے اس پراجیکٹ کا اعلان کرنے کے ساتھ چند تصاویر شیئر کی۔اعجاز اسلم کا کہنا تھا کہ آخر کار ہم دونوں ایک ایسے پراجیکٹ میں اکٹھے ہورہے ہیں جس کی کہانی نہایت شاندار انداز میں تحریر کی گئی۔ڈرامے کی کہانی صوفیہ خرم نے تحریر کی۔’لوگ کیا کہیں گے’میں فیصل قریشی اور اعجاز اسلم کے ساتھ صحیفہ جبار، سکینہ سموں، افشاں قریشی اور حمیرہ ظہیر اہم کرداروں میں نظر آئیں گی۔یاد رہے کہ محسن مرزا کے کریڈٹ پر بے شمار سپرہٹ سیریلز ہیں۔

مزید : کلچر