ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا مقابلہ کرینگے: محمود خان 

  ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا مقابلہ کرینگے: محمود خان 

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ جو کوئی بھی ملک و قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا اس کا مقابلہ کرینگے، دیرپاء ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن سے نکلتا ہے، ہم اپنی آزادی اور امن کو ہر صورت میں قائم رکھیں گے، وزیراعظم عمران خان نے جس طرح کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا اس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، کشمیری مسلمانوں کے حق خود ارادیت پر سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے 83 ارب روپے کا خطیر بجٹ رکھا گیا ہے جو نئے اضلاع کیلئے صوبائی حکومت کی مخلصانہ سوچ کا عکاس ہے، 2 ارب 92 کروڑ روپے میران شاہ مارکیٹ کی زمین کے استعمال کی مد میں جاری کئے جاچکے ہیں، پیسکو کوبجلی کی بحالی کیلئے 6.9 ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں، 197.978 ملین روپے کی لاگت سے شمالی وزیرستان کے گریوم ایریا کو بجلی کی ترسیل کا منصوبہ شروع ہے جس کے تحت گیارہ کلو وولٹ فیڈر کی تنصیب مکمل کر کے آج افتتاح کیا گیا ہے جس سے 50 دیہات مستفید ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے دورہ کے دوران کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اراکین صوبائی اسمبلی میرکالام،اقبال وزیر،ملک شاہ محمدوزیر،قبائلی عمائدین اوردیگربھی اس موقع پرموجود تھے۔ وزیر اعلی نے عوام کے مسائل سنے اور موقع پر ہی ان کے حل کیلئے احکامت جاری کیے، اس موقع پر قبائلی عمائدین نے میران شاہ اور میر علی بازار کے تاجروں کے مسائل حل کرنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ قبائلی عوام بھی ترقیاتی منصوبوں کیلئے اچھی سوچ رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی عوام کو ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے اور یقین دلایا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے تمام اعلانات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھوں سے بندوقیں لے کر قلم دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب قبائلی اضلاع کے نمائندے صوبائی اسمبلی میں موجود ہیں جو بلاشبہ ایک بڑی تبدیلی ہے یہ نمائندے اپنے علاقے کی ترقی کی منصوبہ بندی میں براہ راست شریک ہونگے اور اپنے عوام کی نمائندگی کرینگے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیاکہ غلام خان اور انگور اڈہ بارڈر کو بھی طورخم کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا۔ جنوبی اضلاع کیلئے پشاور سے ڈی آئی خان ایکسپریس وے کی تعمیر سے ان علاقوں کی تقدیر بدل جائے گی۔ قبائلی اضلاع اور افغا ن راہداری کو بھی جنوبی ایکسپریس وے سے منسلک کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ شوال کو سیاحتی زون کا درجہ دیا جائے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ ٹل سے میر علی روڈ کی تعمیر کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جا چکا ہے، چک ڈیم کی فیزیبیلیٹی پر بھی کام شروع ہے۔قبائلی اضلاع کیلئے نیا مائنز اینڈ منرل قانون لارہے ہیں جس کے تحت مائنز کی تمامتر لیزمقامی افراد کو فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے اس موقع پر شمالی وزیرستان میں تھیلیسیمیا سنٹر کے قیام جبکہ میران شاہ پریس کلب کیلئے بھی 20 لاکھ روپے خصوصی گرانٹ کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے یقین دلایا کہ قبائلی اضلاع کیلئے کوٹہ موجود ہے جسے مزید بڑھانے کی کوشش کرینگے۔خطے میں گھوسٹ سکولوں کی حوصلہ شکنی کرینگے اور جہاں بھی ضرورت ہوگی وہاں مطلوبہ معیار کے مطابق سکول بمعہ مکمل سٹاف یقینی بنائیں گے۔ ریسکو 1122 کو تمام قبائلی اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے۔ میران شاہ اور میرعلی کے تاجروں کو معاوضہ دینے کی منظوری ہوچکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت انتہائی سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کسی نے بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی اس کا مقابلہ کرینگے۔محمود خان نے کہا کہ کچھ لوگ مذہت اور دیگر پرکشش نعروں کو بنیاد بنا کر امن اور ترقی کے درپے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اور واضح کیا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ آئین پاکستان کے مطابق بھی ختم نبوت کی شق کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کیا ہے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وزیراعظم عمران خان نے تاریخ میں پہلی بار کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور قوت اور دلائل سے اٹھایا ہے۔کشمیر پر سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک اس کے ساتھ کھڑے رہینگے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ نے رزمک گرڈ سٹیشن سے 11 کلو وولٹ فیڈر کا باضابطہ افتتاح کیا جس کے ذریعے علاقہ گریوم کے 50 دیہات کو بجلی مہیا کی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ مکمل ہونے والا فیڈر علاقہ گریوم کو بجلی کر فراہمی کے ایک جامع منصوبے کا حصہ ہے۔منصوبے پر مارچ 2017 ء سے کام شروع ہے جس کی مکمل تکمیل کی مدت جون 2020 ء ہے۔منصوبے کے تحت 1145 ہائی ٹینشن پول جبکہ 1210 لو ٹینشن پول نصب کئے جارہے ہیں۔2,82,240 میٹر طویل ہائی ٹینشن کنڈکٹر اور 3,04,920 میٹرطویل لو ٹینشن کنڈکٹر نصب کئے جارہے ہیں۔منصوبے کے تحت 50 کلو وولٹ ایمپئیر کے 80 ٹرانسفارمر جبکہ 100 کلووولٹ ایمپئیر کے 50 ٹرانسفارمر نصب کئے جارہے ہیں۔جن میں سے 100 ٹرانسفارمرز لگائے جا چکے ہیں جبکہ 30 ٹرانسفارمرز کی تنصیب بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔ 

مزید : صفحہ اول