وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا   

                                    وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا   

  



مولانا الطاف حسین حالی نے اس نعت میں سرکار کریمﷺ کے جو اوصاف بیان کئے ان کو عملی طور پر اپنانے کی آج بہت ضرورت ہے۔

وہ نبیوں  میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

خطا کار سے درگزر کرنے والا

بد اندیش کے دِل میں گھر کرنے والا

مفاسد کا زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

مس خام کو جس  نے کندن   بنایا

کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا

پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا  ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا

اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا

دُنیا بھر میں مسلمانوں کے لئے عید میلاد النبیؐ کا دن ایک تہوار یا خوشی کا دن ہے، جس کی وجہ حضورانور سرور کونین حضرت محمدؐ کی اس جہان میں آمد مبارک ہے ربیع الاول کے مہینے میں امت مسلمہ جس طرح گھروں،بازاروں، چوکوں اور چوراہوں پر چراغاں کرتی ہے وہ قابل ِ دید ہے اس ماہِ مبارک میں جہاں ہم آپؐ کے ظہور کا جشن مناتے ہیں وہیں پر ہمارے لئے یہ بھی لازم ہے کہ آپؐ کی تعلیمات پر عمل کریں تبھی ہم آپ ؐ سے محبت کا دعویٰ کرسکتے ہیں، آج کے اس پر فتن دور میں اس امر کی بہت ضرورت ہے کہ ہم ملت اسلامیہ اور خصوصی طور پر پاکستان کے عظیم مفاد میں اپنے ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اکٹھے ہو جائیں۔ آپؐ کی اسوہ حسنہ ہمارے لئے مشعل ِ راہ ہے زندگی کا کوئی شعبہ یا اس کے مسائل ایسے نہیں، جن سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمیں نبی کریم ؐ نے آگاہی نہ دی ہو۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی قوم بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ سرکارؐ کی آمد کی خوشیاں منائے گی اور عیدمیلادالنبی ؐکے جلوس نکالے جائیں گے اب یہ ہمارے علماء کرام کا فرض بنتا ہے کہ وہ قوم کورسول اللہ ؐکی تعلیمات بارے تفصیل سے آگاہ کریں کہ کس طرح ہم آپ ؐکے اسوہئ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے ایک بہترین انسان دوست معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں رسول اللہ ؐکی مبارک زندگی میں عفو و درگزر،رحم و کرم، محبت و شفقت اورپیار ہی پیارنظر آتاہے۔آپؐنے پوری زندگی کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔کسی پر ہاتھ نہیں اٹھا یا۔ کسی کو برابھلا نہیں کہا۔اُم المومنین حضرت عا ئشہ صدیقہؓ ارشاد فرماتی ہیں۔آپؐ کی عادتِ شریفہ کسی کو بُرا بھلا کہنے کی نہیں تھی،آپ ؐبرائی کے بدلے میں کسی کے ساتھ برائی نہیں کرتے،بلکہ اسے معاف فرما دیتے تھے۔آپ ؐکی زبان مبارک سے کبھی بھی کوئی غلط الفاظ نہیں نکلے۔آپ ؐنے غلام،لونڈی، عورت،بچہ یا خادم یہاں تک کہ کسی جانور کوبھی کبھی نہیں مارا۔فتح مکہ کے موقع پر ان تمام دشمنوں کو معاف فرمادیا، جنہوں نے  13سال تک  آپ ؐ کے صحا بہ کرامؓ کو طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی تھیں۔ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے اور آپؐ کو مکہ چھوڑ کے مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔لیکن جب مکہ فتح ہوتا ہے تو نبی کریمؐ فرماتے ہیں ”اے قریش کے لوگو”آج تم لوگوں پر کوئی لعنت و ملامت نہیں، تم لوگ آزاد ہو۔“رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ہم مظلوم کی تو مدد کرسکتے ہیں، لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپؐ نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔اس حدیث کی رو سے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کیا ہم معاشرے میں ہونے والے مظالم کو روکنے کے لئے ظالم کا ہاتھ روکتے ہیں چاہے وہ ظالم ہمارا حکمران یا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو ہمارے معاشرے میں زیادہ تر مسائل کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جب انسانیت کے لئے ہم لوگوں کو آواز اٹھانی چاہئے وہاں ہم چپ سادھ لیتے ہیں اور جب ذاتی مفادات کا معاملہ آتا ہے تو ہم ہر حد پار کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں یہ رویہ کسی صورت اسلامی نہیں کہ کوئی اچھا کرے یا برا ہمیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں،معاشرہ ایک کشتی کی طرح ہوتا ہے اگر اس میں کوئی ایک شخص بھی سوراخ کرنا شروع کردے تو کشتی کو ڈوبنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہمارے معاشرے میں لوگوں کے رویے بھی کچھ اس طرح کے ہو گئے ہیں کہ ہم بلا جھجک کہہ رہے ہیں کہ کوئی کچھ بھی کرے ہماری بلا سے، لیکن یہی وہ رویہ ہے جو ہمارے معاشرے کی کشتی میں متواتر سوراخ کئے جارہاہے اور معاشرے میں اسی لئے کوئی بھی شخص کرپشن، جھوٹ، بے راہ روی، الزام تراشی، حسد، لالچ،چغلی اور عیاری و مکاری کے خلاف بھرپور طریقے سے آواز اٹھانے کے لئے تیار نظر نہیں آتا۔عوام الناس کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے ان کے لئے مسائل کے انبار اکٹھے کئے جارہے ہیں۔کسی نے پوچھا یا رسولؐ اللہ رستے کا کیا حق ہے آپؐ نے فر مایا نگاہ نیچی رکھنا اور راہ گیروں کو نہ ستانا اور سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کا حکم دینا بری بات سے منع کرنا۔ ہمیں ضابطہ حیات نبی کریم ؐ جیسی ایسی شخصیت سے ملا، جنہوں نے لفظوں کی بجائے اپنے اعمال سے ہمیں نصیحت کی جس طرح خالق کائنات نے آپ ؐسے عشق کیا ایسا کسی دوسرے نبی سے نہیں تھا۔حضرت ابن ِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز جناب جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اوپر سے دروازہ کھلنے کی زوردار آواز سْنی اپناسر اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ یہ آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا اس سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے جو آج سے پہلے کبھی زمین پر نازل نہیں ہوا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وعلی وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا اور کہا ہے کہ آپؐ  کو دو نور مبارک ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یہ نور کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے وہ یہ ہیں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیات ہیں۔ مزید فرمایا کہ جو شخص یہ دو آیات پڑھے گا اسے اس کی مانگی ہوئی چیز ضرور دی جائے گی۔ نبی کریمؐ کی حیات مبارکہ دنیا کے ہر شخص ہر مکتبہ فکر کے لئے مینارہئ نور ہے اب جو جتنا چاہے آپ ؐ کی حیات مبارکہ سے رہنمائی پا کر اپنی زندگی کو اتنا ہی روشن کر سکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1