فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے، وزیر اعظم عمران خان

فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے، وزیر اعظم عمران خان
فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے، وزیر اعظم عمران خان

  



گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے، ووٹ اورپیسے کےلئے اسلام کونقصان پہنچایاجاتاہے،کرپٹ حکمران سمجھتے ہیں مل کر دباوَ ڈالیں گے اور میں این آر او دے دوں گا،اللہ سے وعدہ کیا تھا ملک کو مقروض کرنے والوں کو جیلوں میں ڈلواوَں گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک آزادی مارچ اسلام آباد میں ہورہا ہے،اسلام آباد میں لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں،دیکھنا ہے یہ لوگ کس سے آزادی لینے آئے ہیں، اگر ان سے آزادی مارچ میں شرکت کی وجہ پوچھی جائے توپیپلزپارٹی والے کہیں گے مہنگائی ہوگئی ہے،مسلم لیگ ن والوں کو پتہ ہی نہیں وہ کیوں اسلام آباد آئے ہیں،جے یوآئی والے کہیں گے اسلام آباد پر یہودی قبضہ کررہے ہیں،فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے،ووٹ اورپیسے کےلئے اسلام کونقصان پہنچایاجاتاہے،ڈیزل کے پرمٹ پر فضل الرحمان کا اسلام بک جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں فضل الرحمان اسلام کا ٹھیکےدار ہے،سوشل میڈیا کازمانہ ہے چیزیں نہیں چھپتیں،لوگ جانتے ہیں اصلیت کیا ہے،جے یو آئی کی مخالفت کرنے والامحمود اچکزئی بھی آگیا ہے،ایسا لگتا ہے فضل الرحمان بھارتی شہری ہے،بھارتی میڈیا فضل الرحمان کودکھا کر خوش ہے،فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی سازش کی ضرورت ہی نہیں ہے،آپ نے جتنی مرضی بیٹھنا ہے بے شک بیٹھیں،جب آپ کا کھانا ختم ہوجائے گا ہم بھجوادیں گے،آپ کو این آر او نہیں ملے گا۔

انہوں نے مزید  کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ آپ کے کرپشن کیسز سامنے آگئے ہیں،ملک کے 3بار وزیراعظم کے بیٹے ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں،ان سے حساب مانگیں تو کہتے ہیں پاکستانی شہری نہیں،سابق وزیرخزانہ بھی ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں،شہبازشریف کے داماد بھی باہر بیٹھے ہوئے ہیں،آپ نے چوری نہیں کی تو باہر کیوں بھاگ گئے؟سب سے زیادہ مہنگائی تو پیپلزپارٹی کے دور میں تھی،میں نے 22 سال کرپشن کےخلاف جدوجہد کی ہے،یہ سمجھتے ہیں مل کر دباوَ ڈالیں گے اور میں این آر او دے دوں گا،اللہ سے وعدہ کیا تھا ملک کو مقروض کرنے والوں کو جیلوں میں ڈلواوَں گا،ان لوگوں نے6 ارب کا قرض 30 ارب ڈالر پرپہنچادیا،بلاول بھی لبرل کا لیبل لگاکر مارچ میں شرکت کرنے آیا ہے،اپوزیشن سے حساب مانگیں تو کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنے فلیٹ کا سپریم کورٹ میں حساب دیا، سیاسی یتیم سمجھ رہے ہیں میں استعفیٰ دے دوں گا،سن لیں ،عمران خان نے تمہیں نہیں چھوڑنا،مجھے سیاست کی ضرورت ہی نہیں تھی،مجھے اللہ نے سب کچھ دے رکھا تھا،ان چوروں کی وجہ سے ہم آج قرضے میں ڈوبے ہوئے ہیں،کرپشن کرنے سے قبل کرپٹ حکمران اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں،جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا اس کا آدھا قرض کی قسطیں ادا کرنے میں لگ گیا، جب تک ان کوسزائیں نہیں ملیں گی،لوگ چوری سے نہیں ڈریں گے،آپ نے چوری نہیں کی تو حساب دیں، پیسہ ملک سے باہر بھیجنے سے بجلی ٹرانسپورٹ مہنگی ہوجاتی ہے،کرپشن کےلئے ادارے تباہ کیے جاتے ہیں، ملک ڈوب جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کےساتھ یوم آزادی منانے آیاہوں، دلیر اور باشعور عوام نے ڈوگرہ راج کےخلاف جنگ لڑی، 52سال پہلے گلگت آیا تھا،سارا علاقہ جانتا ہوں،کوئی سیاستدان ایسا نہیں جو میری طرح گلگت بلتستان کا چپہ چپہ جانتاہو،عوام کے مسائل جانتا ہوں،گلگت بلتستان پروہ توجہ دی جائےگی، کسی حکومت نے سیاحت پر توجہ نہیں دی گئی،یہ علاقہ سوئٹزرلینڈ سے دوگنا ہے،سوئٹزرلینڈ میں انفراسٹریکچر اور سہولتیں ہیں جس کے باعث وہاں سیاح آتے ہیں،گلگت بلتستان کےلئے اسکیم بنا رہا ہوں،ہمارے پاسسہولتیں نہیں کہ لوگ باہر سے انفراسٹریکچر دے سکیں،سروس انڈسٹری کےلیے کالجز کے قیام پر بات ہورہی ہے، نوجوانوں کو نوکریاں ڈھونڈھنے بیرون ملک نہیں جانا پڑےگا،کابینہ سے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بات چیت کی ہے،کوشش ہے کہ عوام کو سردیوں میں بجلی کا کوئی مسئلہ نہ ہو،گلگت بلتستان میں فوڈ پروسیسنگ پلانٹ لگایاجائےگا۔

مزید : قومی