پنجاب میں فضائی آلودگی میں اضافہ، کیا واقعی یہ بھارت کی وجہ سے ہے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

پنجاب میں فضائی آلودگی میں اضافہ، کیا واقعی یہ بھارت کی وجہ سے ہے؟ اصل حقیقت ...
پنجاب میں فضائی آلودگی میں اضافہ، کیا واقعی یہ بھارت کی وجہ سے ہے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

  



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور میں سموگ نے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں اور ایئر کوالٹی انڈیکس پر اس کا سکور 550سے تجاوز کر گیا ہے جو کہ انتہائی سنگین سطح ہے۔ اس سکور کے ساتھ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہر نئی دہلی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ گزشتہ سال لاہور میں 250سے 300تک سکور گیا تھا۔ ڈیلی ڈان کے مطابق لاہور کے علاقے گلبرگ میں یہ سکور 600تک پہنچ چکا ہے اور ماہرین اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔لاہور میں سموگ کے حوالے سے بھارتی پنجاب کو موردالزام ٹھہرایا جاتا تھا کہ وہاں کے کسان بڑی مقدار میں فصل خریف کی باقیات کو آگ لگاتے ہیں جس کا دھوں نئی دہلی سے لے کر لاہور تک سموگ کا سبب بنتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں سموگ پاکستان کی اپنی فضائی آلودگی کے سبب ہوتی ہے۔

ماحولیاتی پالیسی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے ڈاکٹر عمران خالد کا کہنا ہے کہ ”اگرچہ بارڈر کے دونوں اطراف جلائی جانے والی فصلوں اور دیگر فضائی آلودگی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن لاہور میں آنے والی سموگ کی سب سے بڑی وجہ مقامی آلودگی ہے۔ اس میں لاہور کی ٹریفک اور لاہور کے اندر اور گردونواح میں موجود انڈسٹریز کا دھواں سب سے بڑا سبب ہے۔ پنجاب میں فضائی آلودگی میں 43فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کا ہے۔ دوسرے نمبر پر انڈسٹری آلودگی میں 25فیصد حصے دار ہے جبکہ تیسرے نمبر پر زراعت کا حصہ 20فیصد ہے۔حکومت کی طرف سے سموگ اور آلودگی کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ اس سال لاہور میں انڈیکس کا 550سے اوپر چلے جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ برسوں میں صورتحال تباہ کن ہو سکتی ہے۔“

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور