’’اگر ’’سلیکٹڈ ‘‘ کا استعفیٰ چاہتے ہیں تو آزادی مارچ میں یہ کام کریں ورنہ سب ڈرامہ ہو گا‘‘سینئر صحافی کامران خان نے اپوزیشن جماعتوں کو سخت مشکل میں ڈال دیا

’’اگر ’’سلیکٹڈ ‘‘ کا استعفیٰ چاہتے ہیں تو آزادی مارچ میں یہ کام کریں ...
’’اگر ’’سلیکٹڈ ‘‘ کا استعفیٰ چاہتے ہیں تو آزادی مارچ میں یہ کام کریں ورنہ سب ڈرامہ ہو گا‘‘سینئر صحافی کامران خان نے اپوزیشن جماعتوں کو سخت مشکل میں ڈال دیا

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف صحافی اور سینئر تجزیہ کار کامران خان نے مسلم لیگ ن،پاکستان پیپلز پارٹی جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت سے وزیر اعظم عمران خان سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایسا مطالبہ کر دیا ہے کہ شہباز شریف،بلاول بھٹو زرداری ،مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی خان سمیت ساری اپوزیشن قیادت سر پکڑ کر بیٹھ جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق سینئر اینکر پرسن اور معروف صحافی کامران خان نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نواز شریف، شہبازشریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا  فضل الرحمن ’’سلیکٹڈ‘‘ سے چھٹکارا چاہتے اور نئے الیکشن آزادی مارچ کا مطالبہ ہے تو اسی وقت آزادی مارچ کےجلسے میں مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی ،جمعیت علمائے اسلام ف اور عوامی نیشنل پارٹیسینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کر کے اپنے استعفے مولانا کے ہاتھ پر رکھ دیں، مسئلہ کا یہ سادہ حل ہے ورنہ یہ سب ڈرامہ تصور ہوگا۔

واضح رہے کہ آزادی مارچ کے جلسے میں اپوزیشن رہنماؤں نے ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ دہرا دیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کے مستعفیٰ ہونے کے لئے دو دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کہیں نہیں جائیں گے اور یہیں بیٹھیں گے ۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی