معذور مکاؤ پالیسی آخر کب تک 

 معذور مکاؤ پالیسی آخر کب تک 

  

پاکستان کو بنے ہوئے تقریباً پچھتر برس سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس دوران کئی حکومتیں آئی اور گئیں۔ جس طرح ہر حکومت نے عوام کو ووٹ لینے کے لئے بیوقوف بنایا اور اُن سے جھوٹے وعدے کئے تحریک انصاف نے تو ووٹ حاصل کرنے کے لئے پچھلی تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دئیے۔ خان صاحب یوٹرن لینے کے ماہر ہیں۔ عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان اور ان کے تمام وزراء اس مہارت سے جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی صوبائی حکومت کے وزیر اعلیٰ کے پی کے(K.P.K) جناب محمود خان صاحب نے تو معذور افراد کو بھی نہیں بخشا۔

ایبٹ آباد کی صوبائی حکومت نے معذور افراد کو بھی نہیں بخشا کبھی غریب مکاؤ، کبھی ملازمین مکاؤ تو کبھی معذوری کی بجائے معذور افراد مکاؤ پالیسیاں۔ چند ماہ قبل وزیر اعلیٰ کے۔پی۔کے کے احکامات پر تمام محکمہ جات نے دو سال سے زائد ایک ہی جگہ یا اسٹیشن پر ڈیوٹی کرنے والے ملازمین کو ٹرانسفر کیا جس میں معذور افراد کو بھی نہ بخشا گیا اور ان کو بھی میلوں دور دوسرے اضلاع میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ معذور افراد تو پہلے ہی اپنی روزمرہ زندگی کو بسر کرنے کے لئے اس سنگدل معاشرے کے ہاتھوں نہ جانے کتنی ہی تکالیف سہہ رہے ہوتے ہیں نہ صرف ایبٹ آباد میں بلکہ تمام صوبائی اور فیڈرل حکومتوں میں معذور افراد کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی معذور فرد صوبے کے گورنر کے پاس اپنی بیماری کے علاج کے لئے جائے یا اپنی ملازمت کے حصول کے لئے درخواست دے تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ یہی تمام صوبائی گورنروں اور وزراء اعلیٰ کا حال ہے۔ صدر پاکستان اور وزیر اعظم کا تو حال نہ ہی پوچھیے تو اچھا ہو گا اُن کے تو یہ احکامات لگتے ہین کہ وہ معذوری نہیں معذور مکاؤ پالیسی چاہتے ہیں۔

آخر معذوری ہوتی کیا ہے۔ معذوری کے وسیع درجات اور کیفیات ہوتی ہیں۔ جن میں کچھ واضح ہیں اور کچھ غیر واضح۔ ہو سکتا ہے کہ کسی حادثے کی وجہ سے معذوری پیدائش کے وقت سے ہی موجود ہو یا وقت کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوئی ہوں۔اس جسمانی، دماغی اور سیکھنے کی معذوریاں شامل ہیں۔ معذور افراد کو پہلے ہی سے اس بے حس معاشرے میں اتنی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے شروع میں ہی گھر(خاندان) کے افراد ہی ان کو قبول نہیں کرتے اور ان کو دوسرے بچوں اور افراد سے دور رکھا جاتا ہے پھر سکول کالج وغیرہ میں ان کے ساتھ یہ ہی رویہ برقرار رہتا ہے۔ اب اس بے حس معاشرے کا روپ آپ کے سامنے لانا ضروری سمجھتا ہوں کچھ(این۔جی۔اوز) اپنی شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئے کچھ معذور افراد کو مختلف چینلز پر دیکھا کر اپنا بزنس چمکاتی ہیں۔ اس میں بگ برادر ڈاکٹر خالد جمیل کا نام سرفہرست ہے۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ اسمبلی سے ایک ایسا قانون پاس کروائے جس میں معذور افراد کو واقعتا فائدہ ہو صرف پیپر ورک تک ہی محدود نہ ہو۔ اُن کے ورکنگ ٹائم کو کم کر کے آٹھ سے چھ گھنٹے کیا جائے۔ اُن کی پوسٹنگ(تعیناتی) اُن کے ہی ضلع میں کی جائے اور اُن کے علاقے میں ہی ہو۔ اور اُن کو وہی کام دیا جائے جو وہ آسانی سے کر سکیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی محکمہ یا آرگنائزیشن ان کو نکال ناسکے۔ نہ ہی ان کا عہدہ یا تنخواہ کم کر سکے۔ جہاں سو یا اس سے زیادہ افراد ملازمت کر رہے ہوں وہاں کم از کم پانچ معذور افراد کی ملازمت کو یقینی بنایا جائے اور اگر کسی محکمہ یا آرگنائزیشن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ملازمت کر رہے ہوں وہاں کم از کم پچاس افراد کی ملازمت کو یقینی بنایا جائے اور ان کو درپیش مشکلات کو جلد از جلد دور کیا جائے۔ 

تحریک انصاف کی حکومت پہلے ہی معذور افراد کو ریلیف فراہم کرنے کی بجائے اُن کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ پہلے ہی اس حکومت نے معذور افراد کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کئے۔ معذور افراد کی ٹرانسفر جو کہ کے۔پی۔ کے کے وزیراعلیٰ کے احکامات پر کی گئی تھیں اُن کو روکا جائے کیونکہ معذور افراد کا روزانہ ایک اضلاع سے دوسرے اضلاع میں جا کر کام کرنا نا ممکن ہے۔ معذور افراد کو گورنمنٹ کی طرف سے گھر کی سہولت دی جانی چاہیے جو کہ ان کے نام ہی ہونا چاہیے اور ٹرانسپورٹیشن کا مسئلہ حل کرنا بھی گورنمنٹ آف پاکستان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -