حکومتی پالیسی، امتحانی نتائج اور داخلے ! 

 حکومتی پالیسی، امتحانی نتائج اور داخلے ! 
 حکومتی پالیسی، امتحانی نتائج اور داخلے ! 

  

نوجوان قوم کا مستقبل، سرمایہ اور  قومی ترقی میں بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو قومیں اپنے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر بہتر توجہ دیتی ہیں، وہی دنیا میں کامیاب و کامران ہوتی ہیں۔ نوجوان قومی چمن کے سدا بہار پھول ہیں جن کی خوشبو سے چمن مہکتا ہے اور دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان بناتا ہے، یہ تب ہی ممکن ہے جب ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تربیت ہی درحقیقت اصل تعلیم ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم اپنے نوجوانوں کی تعلیم پر کسی حد تک توجہ دے لیتے ہیں لیکن تربیت ہمارے طلبہ کی حادثاتی طور پر ہوتی ہے، جب تک ہم اپنے طلبہ  کی تربیت پر توجہ نہیں دیں گے، اس وقت تک پڑھائی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

تعلیم، تربیت کے بغیر اور تربیت، تعلیم کے بغیر ادھوری ہے، بطور مسلمان تربیت تو ہماری تعلیم کا بنیادی جزو ہے، تعلیم و تربیت یہ ہے کہ جو کچھ سیکھا جائے اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ آج ہمارا معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہے اس کی اصل وجہ یہی اخلاقی انحطاط ہے، معاشرے سے اس انحطاط کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم بحیثیت شہری اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، یہ کوئی ایسی ذمہ داریاں نہیں جنہیں احسن طریقے سے نبھایا نہ جا سکے، ایک سادہ سا اصول ہے کہ بچے کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ اسے اس کے جملہ حقوق و فرائض سے آگاہ کیا جائے۔ یہ اس وقت ممکن ہو گا  جب معاشرے کا ہر شہری اپنے حقوق و فرائض کماحقہ ادا کرے گا۔ اس کے لئے سب سے پہلے والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا، والدین میں بھی پہلے  والدہ پھر والد، اس کے بعد گاہے بگاہے وہ افراد جن کا اس سے واسطہ پڑتا ہے، ان میں استاد، تعلیمی ادارہ، نصابی کتب، معاشرہ اور سب سے بڑھ کر امتحان، کیونکہ بچے نے جو کچھ سیکھا ہے، امتحان ہی اس کی قابلیت کو جانچنے کا واحد ذریعہ ہے، پہلی تربیت ماں کی گود، دوسری والد کی دیکھ بھال، تیسری  گلی محلے، چوتھی تعلیمی ادارہ، پانچویں استاد کی قابلیت اور اس کی توجہ، چھٹی استاد کی طرف سے  سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کہ آیا ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کر رہا  ہے اسی طرح درجہ بدرجہ ہوتے ہوئے امتحانات بالخصوص پرائمری، سیکنڈری، ہائی اور ہائر سیکنڈری وغیرہ ۔ 

   ہمارے ہاں جانچ پڑتال کے طریقے بھی ایسے ہی  ہیں جیسے ہم خود، اس میں اصل قصور انسان کا اپنا ہے، جب تک ہم میں سے ہر شخص جو جہاں ہے، جس جگہ پر ہے اور جس حیثیت، مقام اور عہدے پر ہے اسے اپنا احتساب خود نہیں کرے گا، جب تک ہم سب من حیث القوم اپنے جملہ حقوق و فرائض انجام نہیں دیں گے، معاشرہ کسی صورت خوشحال نہیں ہو گا۔ ابھی حال ہی میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے نتائج آئے ہیں، مقصد ان امتحانات کے نتائج پر تنقید کرنا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ جتنے " بہترین نتائج " ان امتحانات میں طلبہ کے دکھائے گئے، ان کو مدنظر رکھتے ہوئے بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں یقینا معاشرے کا ہر دوسرا شخص بقراط یا سقراط بنے گا  لیکن اس سے قبل کہ یہ سنہری دور آتا ہم نے اپنے مستقبل پر خود ہی سوالیہ نشان لگا لیا۔ ہمارے اپنے ہی اداروں نے ان ہونہار طلبہ کو اپنے اداروں میں داخلہ دینے کے لئے مختلف قسم کے ٹیسٹ رکھ لئے، ایک تو اس کی آڑ میں معقول آمدنی کی خواہش، دوسرا من مرضی کے طلبہ کو داخلے کے لئے اپنے ادارے میں اہل قرار دینے کا آسان نسخہ، ہینگ لگے نہ پھٹکری  رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں، واہ بھئی واہ 1100 میں سے گیارہ سو نمبر، سقراط بقراط بنے نہ بنیں، ہمارے اداروں کے کرتا دھڑتا اس سے بھی آگے نکل گئے۔ اس طرف حکومتی زعما کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سمیت صوبائی وزرا تعلیم اور این سی او سی کے ذمہ داران کو چاہئیے کہ وہ کورونا پالیسی پر سختی سے عمل کروائیں بعض پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور کالجوں نے میٹرک، انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا انتظار کئے بغیر از خود طلبہ کے ٹیسٹ لے کر انہیں میٹرک میں بہترین نمبروں کی بنیاد پر اپنی یونیورسٹیوں میں داخلے بھی دے دئیے، ان یونیورسٹیوں میں طلبہ کو خاص کر انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کرتے تین چار ماہ بھی ہو چکے ہیں، اب نتائج میں جو طلبہ کسی وجہ سے 60 فیصد نمبر حاصل نہیں کر سکے، ان طلبہ کو داخلوں سے بے دخل کرنے کے لئے ان پر دبا ڈالا جا رہا ہے جس سے ان کا مستقبل مخدوش ہونے کا اندیشہ ہے، دراصل حکومتی پالیسی کے نتیجے میں بعض ہوشیار چالاک طلبہ تو بڑے معقول نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن لائق طلبہ جن کا انحصار صرف اپنی قابلیت اور محنت پر ہوتا ہے ان میں سے اکثر طلبہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے، حالانکہ میٹرک میں ان طلبہ کے بہترین نمبر ہیں جن کی بنیاد پر نامور پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے انہیں اپنے ٹیسٹ میں کامیابی پر بورڈز کے نتائج آنے سے قبل ہی داخلے دے دیئے تھے، اصولی طور پر داخلے نتائج آنے کے بعد ہونے چاہئیں تھے، اب ان یونیورسٹیوں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کی شرائط ہیں کہ انٹرمیڈیٹ میں 60 فیصد نمبر ہونے چاہئیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان طلبہ کو بہترین ٹیسٹ اور میٹرک میں نمایاں نمبروں کی بنیاد پر داخلے دئیے گئے تھے تو انہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ طلبہ انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں بھی ہر صورت 60 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

ایک اور اہم بات یہ کہ حکومتی پالیسی کے تحت مشکل مضامین کے پرچے لئے گئے جن میں طلبہ کو سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کا اعلان بھی عین امتحانات سے چند ہفتے قبل کیا گیا اس کے باوجود بھی کورونا کی صورت حال کے پیش نظر حکومتی پالیسی گو مگو کا شکار رہی جبکہ آسان پرچے جن میں محنت کم اور نمبر زیادہ آتے ہیں مثال کے طور پر اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور لائق طلبہ کے لئے انگریزی  وغیرہ ، ان کا امتحان نہیں ہوا، جن میں محنتی طلبہ زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے نتائج بھی بری طرح متاثر ہوئے، لہٰذا ان حقائق کے پیش نظر انجینئرنگ اور میڈیکل میں داخلے لینے والے طلبہ کی داد رسی کے لئے کورونا پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کو اپنی پالیسی نرم کرنی چاہئے اور حکومت کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار نبھانا چاہئے۔

جزاکم اللہ خیرا کثیرا

٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -