کپتان کا احسان مگر……! 

کپتان کا احسان مگر……! 
کپتان کا احسان مگر……! 

  

کپتان نے بڑی مہربانی فرمائی کہ اس بار اوگرا کی سمری منظور نہیں کی، پٹرولیم مصنوعات کو مزید مہنگا کرنے سے انکار کر دیا۔ اسے کہتے ہیں عوام دوست اور عوام کا درد رکھنے والا وزیر اعظم اب کوئی یہ نہ کہے پچھلی بار اوگرا نے تو کم قیمت بڑھانے کی تجویز بھیجی مگر وزیر اعظم نے یکمشت دس روپے فی لٹر کا اضافہ کر کے چھکا لگا دیا تھا، اس لئے اگر اس بار سمری مسترد کر دی ہے تو اس کی کسر پندرہ دن پہلے ہی نکال دی تھی۔ بس ہمارا یہی مسئلہ ہے ہم کسی حال میں خوش نہیں ہوتے۔ ایک روپے کی رعایت مل جائے تو دو روپے کی مانگتے ہیں۔ اب وزیر اعظم چاہتے تو اس بار تیرہ روپے کا اضافہ کر کے قیمت 150 روپے فی لٹر پر لے جاتے تاکہ سیدھا سیدھا حساب بن جاتا لیکن انہوں نے عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے خود بوجھ برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب کوئی کہے گا یہ سب کچھ ٹی ایل پی کے مارچ کی وجہ سے ہوا، کوئی اسے اپوزیشن کی مہنگائی کے خلاف تحریک سے جوڑے گا، مگر یہ کوئی نہیں مانے گا کہ کپتان کے دل میں خود بھی عوام کا خیال آ سکتا ہے، درد جاگ سکتا ہے۔ ٹی ایل پی کا احتجاج پٹرول مہنگا نہ کرنے سے تو ختم نہیں ہو جانا، اس کے تو عوامل ہی اور ہیں۔ علماء کی کمیٹیاں بن رہی ہیں اور بات چیت کے ذریعے یہ معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پٹرول مزید مہنگا کر بھی دیا جاتا تو صورت حال کا ڈیڈ لاک اسی طرح برقرار رہنا تھا۔ جہاں تک اپوزیشن کے مہنگائی کے خلاف احتجاج کا تعلق ہے کپتان کی صحت پر ایسی چھوٹی موٹی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بس یہ بات مان لی جائے کہ انہوں نے از خود اپنی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے انکار کیاہے۔ یہ شاید کرکٹ ٹیم کی مسلسل جیت کا نتیجہ بھی ہو کیونکہ کپتان کو اس کی بہت خوشی ہے اور انہوں نے عوام کو اس خوشی میں قیمتیں نہ بڑھا کر ایک تحفہ دیا ہے۔

اب کچھ لوگ کہیں گے قیمت نہ بڑھا کر کون سا احسان کیا ہے، احسان تو تب ہوتا اگر قیمتیں کم کر دی جاتیں۔ مہنگائی کا جو عالم ہے اس میں ریلیف یہ نہیں کہ مزید مہنگائی نہ کی جائے بلکہ ریلیف تو یہ ہوگا کہ بڑھی ہوئی قیمتوں کو واپس لایا جائے ایسے لوگوں نے وزیر اعظم کا یہ بیان غالباً نہیں پڑھا کہ عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کا رجحان ہے مگر حکومت نے مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے ریلیف دینے کو ترجیح دی ہے۔ اس کا دوسرے لفظوں میں مطلب یہ ہے جو مہنگائی بڑھ چکی ہے اسے خوش دلی سے قبول کیا جائے اور زیادہ غمزے نہ دکھائے جائیں۔ نہ ہی اپوزیشن کی مہنگائی کے خلاف احتجاجی مہم پر کوئی توجہ دی جائے بلکہ سر جھکا کر جو ہے جیسے ہے کی بنیاد پر حقائق کو تسلیم کر لیا جائے۔ مگر جب ناشکرا پن آ جائے تو پیارے کپتان کی ایسی باتیں بھی لوگوں کو چبھتی ہیں۔ وہ یہ رونا لے کر بیٹھ جاتے ہیں مہنگا صرف پٹرول ہی تو نہیں ہوا، سب کچھ ہی مہنگا ہو گیا ہے۔ پٹرول پر تو حکومت کا کنٹرول ہے کہ اس کی قیمت نہ بڑھانے کی منظوری دے سکتی ہے، مگر یہ باقی اشیاء جن سے عوام کی زندگی کا پہیہ چلتا ہے بے لگام مہنگائی کی زد میں رہتی ہیں اور کوئی اسے روکنے کی استعداد نہیں رکھتا۔ ان کی قیمتوں کو کیسے روکا جائے گا۔ وزیر اعظم کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری مسترد کرنے پر ایک ستم ظریف نے اس بادشاہ کا واقعہ سنایا جو ہر بار رعایا کو جوتے مارنے کی تعداد میں اضافہ کر دیتا تھا۔ ایک بار اس کے من میں نجانے کیا آئی، اس نے جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھائی اور نہ جوتے مارنے کی گنتی میں اضافہ کیا۔ لوگ بادشاہ کی اس دریا دلی اور رحم دلی پر حیران رہ گئے اور اس بات پر شکر ادا کرنے لگے، ہر شخص کو پانچ پانچ جوتے مارے جا رہے ہیں، بادشاہ سلامت چاہتے تو دس دس جوتے بھی مروا سکتے تھے۔ بعض اوقات ایسی باتیں بھی حکمرانوں کی طرف سے احسان کے زمرے میں آتی ہیں اور پیارے کپتان نے اس بار ایسا ہی احسان کیا ہے۔

یہ بات تو سب مانتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو صرف مہنگائی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول کر کے مہنگائی کے خلاف سچ جیت جائیں تو پھر ان کے خلاف اپوزیشن کے پاس کوئی ایشو ہی نہ رہے۔ ٹی ایل پی کا احتجاج ایک وقتی چیلنج ہے جو آج نہیں تو کل ٹل جائے گا۔ ویسے بھی اس کا حکومت کی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ ہاں بعض وزراء کی بے تدبیری ضرور اس کا باعث بنی ہے۔ یہ لطیفہ بھی اس دور میں ہوا کہ ٹی ایل پی سے حکومت کا جو معاہدہ ہوا تھا، اس کا وزیر اعظم کو علم ہی نہیں تھا۔ جب اس پر ہر طرف سے تنقید ہوئی تو حکومتی زعماء کو ہوش آیا۔ اب مسلسل اس بات کی وضاحت کئے جا رہے ہیں کہ وزیر اعظم کو معاہدے کا علم تھا مگر اب بھی کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ معاہدہ وزیر اعظم کی منظوری سے ہوا تھا۔ اصل مسئلہ بھی یہی ہے کہ موجودہ حکومت حقیقی مسائل کو تو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تاہم جو نان ایشوز آ جاتے ہیں انہیں بھی ہینڈل کرنا اس کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ معاملات کو لٹکانا کوئی موجودہ حکومت کے ذمہ داروں سے سیکھے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو انہیں ہوش آتا ہے۔ اپریل میں معاہدہ ہوتا ہے، درمیان میں رابطوں کی بجائے لمبی تان کے سو جانے والے اس وقت ہڑبڑا کر اٹھتے ہیں جب بارہ ربیع الاول کو ٹی ایل پی دوبارہ دھرنا دیتی ہے۔ یہ حکومت کی کیسی انٹیلی جنس ہے جو اسے وقت سے پہلے حالات کی خبر ہی نہیں دیتی۔

اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔ اس ضمن میں تھوڑی سی توجہ بھی حکومت کو کئی مسائل سے نجات دلا سکتی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حکومت کا کنٹرول ہے اس لئے وہ سوئچ آن آف کر سکتی ہے لیکن جو مصنوعی مہنگائی اس ملک میں کرپشن اور لالچی مافیا نے پھیلا رکھی ہے۔ اس کا تدارک تو صرف گڈ گورننس ہی سے ہو سکتا ہے۔ آج ہی ملتان کی ڈیٹ لائن سے ایک خبر چھپی ہے کہ ملتان میں اسسٹنٹ کمشنر خواجہ عمیر نے ایس ایم فوڈز نامی ایک بسکٹ بنانے والی کپمنی کے گودام پر چھاپا مار کر 40 ہزار کلو سرکاری چینی برآمد کرلی ہے۔ جو صرف عوام کو دینے کے لئے بیرون ملک سے برآمد کی گئی تھی۔ اب ظاہر ہے اس میں جو لوگ ملوث ہیں وہ حکومت کی صفوں میں بیٹھے ہیں اور عوام جو ایک ایک کلو چینی کے لئے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں انہیں تو ملتی نہیں اور ایک با اثر فیکٹری مالک کو چالیس ہزار کلو فراہم کر دیتے ہیں۔ دیگر اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کا بھی یہی حال ہے اور حکومتی گرفت کہیں نظر نہیں آتی۔ کپتان اگر ایک احسان یہ کریں کہ مصنوعی مہنگائی پھیلانے والے مافیاز پر گرفت کر کے انہیں ریلیف دیں۔ مگر یہ کام وہ اکیلے نہیں کر سکتے اور ان کا ساتھ دینے والوں میں کئی کھوٹے سکے موجود ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -