حکومت کپاس پیداوار بڑھانے کیلئے پر عزم، سید فخر امام

      حکومت کپاس پیداوار بڑھانے کیلئے پر عزم، سید فخر امام

  

  ملتان ( سٹی رپورٹر)محکمہ زراعت پنجاب، ایم این ایس زرعی یونیورسٹی اور فاطمہ فرٹیلائزر گروپ کے زیر اہتمام ایک روزہ (کسان کنونشن) ''پیداواری مہم برائے(بقیہ نمبر2صفحہ6پر)

 گندم'' کا انعقاد زرعی یونیورسٹی کے سپورٹس گراؤنڈ میں کیا گیا۔ گندم فیلڈ ڈے اور کسان کنونشن کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام، وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی اور وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) تھے۔ (کسان کنونشن) اور ''پیداواری مہم برائے گندم'' کے حوالے سے سیمینار کروانے کا مقصد پنجاب اور دیگر اضلاع کے کسانوں میں جدید طرز سے گندم کی کاشت کر کے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی آگاہی فراہم کرنا تھا۔کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے کہاکہ ہمارے ملک کی معیشت کا کل عنصر ہمارے کسان ہیں پاکستان میں کسان اور زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بہت جلد گندم کی نئی قیمت کا تعین کیا جائے گا جس سے کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ تصدیق شدہ بیجوں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کسان کنونشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم ہماری خوراک کااہم ترین جزو ہے۔ ملکی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے گندم کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا وقت کا تقاضا ہے۔اس سلسلہ میں موجودہ حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی بھرپور فصل کی توقع رکھتے ہیں تاکہ ہماری خوراک کی ضروریات میں خودکفالت کا خواب پورا ہوسکے۔ وزیر زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب گندم کے زیر کاشت رقبہ اور پیداوار میں اضافہ کے لئے کاشتکاروں کوگندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت سبسڈی کی سہولت اور ترغیبات فراہم کر رہی ہے۔ حکومت کی کسان دوست پالیسیوں اور کاشتکاروں کی محنت کے باعث گزشتہ برس گندم کی فصل صوبہ پنجاب میں 1 کروڑ64 لاکھ ایکڑ پر کاشت کی گئی اور تاریخ میں پہلی مرتبہ2 کروڑ9 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ امسال صوبہ پنجاب کے لئے گندم کی کاشت کا ہدف1کروڑ67 لاکھ ایکڑ جبکہ پیداواری ہدف2 کروڑ20 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے300 ارب روپے کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت12 ارب59 کروڑ روپے کی لاگت سے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے ذریعے کاشتکاروں کوگندم کی منظور شدہ اقسام کے بیج و دیگرزرعی مداخل سبسڈی پرفراہم کئے جارہے ہیں۔ اس سال گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے کاشتکاروں کوگندم کی منظور شدہ اقسام کے10 لاکھ تھیلے1200 روپے فی بیگ سبسڈی پر فراہم کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت پنجاب نے کاشتکاروں کو کیش ٹرانسفر کی صورت میں براہ راست سبسڈی کی فراہمی کے لئے کسان کارڈ کا اجراء کیا جس کے تحت اب تک 5لاکھ سے زائد کاشتکار کسان کارڈ کے حصول کے لئے رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو گندم کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے متعلق آگاہی اور فنی رہنمائی کے لئے محکمہ زراعت توسیع کے عملے کے ساتھ پرنٹ،الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کا ہدف کا حصول یقینی بنایا جائے۔ وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ کسان کنونشن کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے جامعہ ہمیشہ سے کسان کی فلاح و بہبود کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرتی آئی ہے اور مستقبل قریب میں بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رکھے گی۔ کسان کنونشن سے فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کے تکنیکی خدمات کے شعبے کے سربراہ نصیر اللہ خان نے پنجاب میں گندم کی پیداوار میں اضافے کیلئے حکومتی اقدامات کو سراہا اور زرعی یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ کا پروگرام کے انعقاد میں تعاون کیلئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کاشتکار متوازن کھادوں کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے بارے آگاہی دی۔ کسان کنونشن میں ملکی زراعت میں کسان کے کر دار کو اجاگر کیا گیا۔ ملکی زراعت کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل کیلئے سفارشات مرتب کی گئیں۔ اس موقع پر ڈی جی زراعت توسیع پنجاب ڈاکٹر انجم علی بٹر، ڈی جی ریسرچ ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی، ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس بارک اللہ، ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب محمد رفیق اختر، چیئرمین کسان اتحاد خالد کھوکھر، آصف مجید، شفیق پتافی سمیت کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

انعقاد

کبیروالا(نامہ نگار) وفاقی وزیربرائے نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخرامام نے سید گروپ کے سینئررہنما اور چیئرمین یونین کونسل بلاول پورراؤ جمشیدعلی خاں کے ساتھ ملاقات کرنے(بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کپاس کی فصل کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،اس مقصد کے حصول کیلئے حکومت کپاس کی تحقیق اور ترقی کیلئے مستقل پالیسی پر عمل پیرا ہے، اس سال پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کافی حد تک بہتری محسوس ہورہی ہے حالانکہ ہمارے ہاں موسمی حالات بھی بہتر نہیں تھے، اس کے ساتھ کپاس کی فصل پر سفید مکھی اور دیگر مختلف بیماریوں کا حملہ بھی محسوس کیا گیا اس کے باوجود کپاس کی فصل و پیداوار بہتر رہی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ بہتر مینجمنٹ سے ہم کپاس کی پیداوار میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں اس مقصدکیلئے حکومت کسانوں اور کاشتکاروں کی ہر ممکن مدد کرے گی۔وفاقی وزیر قومی تحفظ خوراک سید فخر امام نے مزیدکہا ہے کہ حکومت درخت لگانے پر توجہ دے رہی ہے، پاکستان کو دیکھا جائے تو مختلف معیشتیں ہیں، موسمیاتی تبدیلی ہر طرح کی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے، پاکستان میں چاول اور گندم جیسی بڑی فصلیں بھی متاثر ہوئیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ  ہم اپنے لوگوں کو معیاری طرزِ زندگی مہیا نہیں کر پا رہے، پاکستان کے پاس 200 ملین لائیو اسٹاک ہے، ہمارے پاس اعلیٰ نسل کی لائیو اسٹاک موجود ہے، زراعت شمال سے جنوب تک معاشی حب ہے، آہستگی سے بڑھتا ٹمپریچر سائنسدانوں اور سب کے لئے چیلنج پیدا کر رہا ہے، حکومت درخت لگانے پر توجہ دے رہی ہے، حکومت نے ایک ارب درخت لگائے جو حیران کن فگر ہے، حکومت دس ارب درخت لگانے جا رہی ہے۔اس موقع پر،میاں حسن مشتاق سہو، راؤنفیس احمد،رانا ماجدمصطفےٰ،حفیظ سعیدی،محمد رفیق بھٹہ،سید ثقلین شاہ بھی موجود تھے۔

کپاس پیداوار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -