امام احمد رضا نے مختلف عنوانات پر کثیر کتب لکھی ہیں: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

      امام احمد رضا نے مختلف عنوانات پر کثیر کتب لکھی ہیں: اسپیکر قومی ...

  

        کراچی(اسٹاف رپورٹر)امام احمد رضا فاضل بریلوی عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت تھے، آپ نے مذہب،فلسفہ، قانون اور سائنسی عنوانات پر کثیر تعداد میں کتابیں تصنیف کی ہیں، عصرحاضر میں آپ کی تحریریں صوفی ازم کے سبب سار ی دنیا میں پھیل چکی ہیں اور اسلامی حوالوں سے عشق رسولؐ آپ کی تحریروں کا بنیادی عنصر ہے، ان خیالات کا اظہار اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ادارہ تحقیقات امام احمدرضا کراچی کے زیر اہتمام صد سالہ عرس رضوی کے موقع پر منعقد ہونے والی41 امام احمد رضا کانفرنس 2021ء کے نام ایک پیغام میں کیا۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری نے کہاکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی جیسی عظیم ہستیاں عالم اسلام کا عظیم سرمایہ ہیں، وہ نہ صرف ایک عالم و فقیہ تھے، بلکہ وہ علوم سائنس پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔مسلمان سائنسدانوں کی فہرست بہت لمبی ہے لیکن امام احمد رضا خاں محدث بریلوی ایک منفرد سائنسدان تھے۔مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن جو کہ کانفرنس کی صدارت فرما رہے تھے نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں امام احمد رضا فاضل بریلوی کو مجدد ماء ماضیہ،مجدد ماء حاضرہ،اور مجدد ماء مستقبلہ سب مانتا ہوں ان کے تجدیدی نقوش اتنے عمق اور محیط ہیں کی میرا ایمان ہے کہ آنے والی صدیوں تک بھی آپ اقامت کے ساتھ علمی دنیا میں کھڑے نظرآئیں گے، ایسی عظیم ہستی کی یاد میں کانفرنس کا انعقاد اورایک خوبصورت مجلہ کی اشاعت پر ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کی خدمات قابل تحسین ہے۔مہمان خصوصی عالمی شہرت یافتہ ممتازسماجی رہنمامولانا محمد بشیر فاروق قادری (سربراہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ انٹر نیشنل پاکستان)نیکہا کہ سیدنا اعلیٰ حضرت ایسی یگانہ روزگار ہستی ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف علم دین، فقہ و حدیث میں اعلیٰ خدمات انجام دیں بلکہ سائنسی علوم میں بھی اپنی تحقیقات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو حیران کر دیا‘آج عالم عرب کے بڑے بڑے ناشر ادارے خود سے امام احمد رضا کی کتب شائع کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھ رہے ہیں جس کاسارا کریڈٹ ادا رۂ تحقیقات امام احمد رضا کو جاتا ہے،ا علیٰ حضرت امام احمد رضا کی دیگر کتب کی طرح علوم سائنس پر تحقیقات کو جدیدانداز میں دنیا کے سائنسدانوں کے سامنے پیش کیا جائے تو ہمارے سر فخر سے مزید بلند ہو سکتے ہیں اور یہ کام اس ادارہ تحقیقات امام احمدرضاکے پلیٹ فارم سے ہورہا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پیش کش کی کہ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کے تحت اعلیٰ حضرت کے سائنسی علوم پر تحقیقات کے لیے ہم اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔اس سے قبل صدرِ ادارہ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے خطبہء استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ نے اردو اور عربی میں جدید علمی انداز کا کام کر کیامام احمد رضا کو برصغیر اور عرب دنیا میں خوب متعارف کرا دیا ہے اب یورپی ممالک میں تعارف کرانے کے لیے انگریزی میں کتب کی اشاعت کی اشد ضرورت ہے خاص کر امام احمد رضا کی سائنسی کتب کو انگریزی میں منتقل کر کے یورپی ممالک میں پھیلانے کی ضرورت ہیجس کے لیے ادار شب و روز تحقیقاتِ علمیہ میں مصروف ہے۔امام احمد رضاکانفرنس میں مقتدر اہل و فن نے مختلف موضوعا ت پرمقالات پڑھتے ہوئے امام احمد رضا کی شخصیت اور ا ن کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ چنانچہ پروفیسر ڈاکٹرسہیل شفیق (صدر شعبہ تاریخ اسلامی، کراچی یونی ورسٹی)نے کہا کہ امام احمد رضا اپنے عہد کے ممتاز عالمِ دین، محدث، فقیہ،مصنف اور نابغہء  روزگار شخصیت تھے۔ آپ نے تقریباً ایک ہزار کتب اور رسائل تصنیف کیے۔ کثرت تصانیف اور متعدد علوم پر آپ کو جوگرفت حاصل تھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔اسی طرح اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی سے متعلق لکھے گئے تحقیقی مقالات اور مطبوعہ کتابیں بھی کثیر تعداد میں ہیں جن کا شمارکرنا ایک مشکل امر ہے۔دنیا کی مختلف جامعات میں آپ کی شخصیت و علمی کمالات پر درجنوں تحقیقی مقالات لکھے گئے ہیں۔ جب کہ مطبوعہ کتابوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، ایسی لیے ”کتابیات رضا“مدون و شائع کی گئی ہے۔علا مہ مفتی علی اصغر قادری عطاری (مفتی دارالافتاء اہل سنت) نے کہا کہ ادارہ تحقیقات امام احمدرضا نے امام احمد رضا کے حوالے سے جو کام کیا وہ ایک ماں کا درجہ رکھتا ہے، جامعہ الازہر میں اما م احمد رضا کانفرنس و سیمینار کا انعقاد اور وہاں کے علماء  کو اعلیٰ حضرت کا تعارف پیش کرنا ادار ہ کا بڑا کارنامہ ہے جس کی بدولت الازہر کے مفتی آج اپنے فتاوٰی میں امام احمد رضا کے فتاوی رضویہ کے حوالے دے کر فتاوٰی جاری کر رہے ہیں۔ علامہ مفتی محمد شہزاد نقشبندی(استاد جامعۃ المدینہ لاہور) نے کہا کہ امام احمد رضا کے علوم و فنون پر جب بھی بات کی جاتی ہے تو صرف ان کی شاعری، ترجمہ قرآن اور فتاوٰی رضویہ کے حوالے سے ہی بات کی جاتی ہے دیگر علوم کی طرف توجہ نہیں کی جاتی، آج اگر ان علوم جدیدہ کو عام کیا جائے تو دنیا حیران رہ جائے کہ امام احمد رضا صرف عالم و فقہ ہی نہیں ایک عظیم سائنسدان بھی تھے۔ طارق آزاد(رکن مجلس ادارت اردو ڈکشنری بورڈ پاکستان)”اردو لغت تاریخی اصول پر اور مولانا احمد رضا کی شعری لفظیات“ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو لغت بورڈ کی 22 جلدی جامع اردو لغت پر نظر ثانی کے وقت فاضل بریلوی کی حدائق بخشش کے حوالے سے لا تعداد الفاظ شامل کیے جائیں گے،یوں اردو لغت امام احمد رضا کی احسان مند ہے۔ امام احمد رضا کانفرنس 2021 کی نظامت ادارہ کے جنرل سکریٹری مفتی سید زاہد سراج القادری نے کی۔ حافظ محمد اسامہ کی تلاوت قرآن کریم سے آغاز کے بعد محمد رضا خان قادری،محمد نعمان انصاری اور محمد زکریا اشرفی نے ھدیہ نعت پیش کیا۔اس موقع پر ادارہ کی طرف سے علامہ مفتی محمد عمر خلجی قادری کو ترجمہ قرآن کنزالایمان اورتفسیر نور العرفان کا سندھی ترجمہ کرنے اور مفتی عبدالغفار حلیمی کو ترجمہ قرآن کنزالایمان اور تفسیر خزائن العرفان کا بروہی زبان میں ترجمہ کرنے پرتعریفی ایوارڈ دیا گیا جبکہ دیگت مہمانوں کو بھی یادگاری شیلڈز دی گئیں۔ تمام شرکا ء کو ”مجلہ امام احمد رضا کانفرنس 2021“ اور دیگر کتب کا تحفہ و طعام پیش کیا گیا۔ مجلس استقبالیہ کے اراکین منظور حسین جیلانی، مفتی محمد ندیم صدیقی، محمد امتیاز فاروق، ڈاکٹرمحمد حسن امام،ڈاکٹر محمد یونس قادری، حامدحسین کریمی،مولانا محمد ندیم اخترالقادری،سید محمدخالد قادری،ڈاکٹر اقبال احمد اخترالقا دری،محمد مقصود حسین قادری اویسی، افضل حسین نقشبندی، سید محمد اطہر قادری،خان افسر خان قادری، محمد طحہٰ وغیرہ نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں علماء و مشایخ اور ارباب علم و دانش نے شرکت کی جن میں علامہ پروفیسر عامر بیگ، ڈاکٹر ناصر الدین صدیقی، ڈاکٹر ثاقب، ڈاکٹر داؤد عثمانی، ڈاکٹر عاطف اسلم، ڈاکٹر سلمان مغل،ڈاکٹر طاہر قیرشی، ڈاکٹر تاج محمد،ڈاکٹر لئیق، ڈاکٹر مرتضیٰ اور دیگرممتاز اہل علم و فن، دینی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔  

مزید :

صفحہ اول -