آسٹریا میں کل سے کوئی بھی کورونا بوسٹر ویکسین لگوا سکے گا 

آسٹریا میں کل سے کوئی بھی کورونا بوسٹر ویکسین لگوا سکے گا 
آسٹریا میں کل سے کوئی بھی کورونا بوسٹر ویکسین لگوا سکے گا 

  

ویانا(اکرم باجوہ) منگل 2 نومبر سے ویانا میں ہر کوئی پہلی ویکسینیشن کے چھ ماہ کے بعد کورونا وائرس کے خلاف بوسٹر ویکسینیشن حاصل کر سکتا ہے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے میئر مائیکل لڈوِگ نے ایک نشریاتی ادارے میں اس کا اعلان کیا۔ کل سے ویانا میں ہر کوئی چھ ماہ کے بعد تیسرا ویکسینیشن لے سکتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ستمبر کے آغاز سے اب تک 50000 سے زیادہ بوسٹر ویکسینیشنز لگائی جا چکی ہیں مثال کے طور پر نرسنگ ہومز اور ریٹائرمنٹ ہومز میں۔

 میئر نے تمام ویانایوں سے اپیل کی کہ وہ چھ ماہ کے بعد دوبارہ ویکسین لگوائیں کیونکہ تب ہی ہم وبائی مرض سے محفوظ طریقے سے نکل سکتے ہیں۔ میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر تھامس سیکیرس نے بھی تمام ویانایوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ویانا شہر اور پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کی طرف سے دی جانے والی ویکسینیشن سے فائدہ اٹھائیں۔ دوسری ویکسینیشن کے چھ ماہ بعد بوسٹر ویکسینیشن ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔ مزید کہا کہ یہ خاص طور پر بوڑھے لوگوں نرسنگ ہوم کے رہائشیوں کچھ پچھلی بیماریوں یا کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کے لیے ہے بلکہ صحت کے پیشوں سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی ہے جنہیں سال کے آغاز میں پہلی بار ویکسین لگائی گئی تھی۔ سٹی کونسلر برائے ہیلتھ پیٹر ہیکر (SPÖ) کے مطابق ستمبر کے آغاز میں ویانا میں بوسٹر ویکسینیشن شروع ہونے کے بعد، 90 سال سے زیادہ عمر والوں میں سے 22 فیصد، 80 سال سے زیادہ عمر والوں میں سے 20 فیصد اور 70 سال سے زیادہ عمر والوں میں سے چھ فیصد کو کووڈ 19 ملا ہے۔ اگلے چند دنوں میں ویانا کے ہر گھر کو تازگی کے لیے بذریعہ ڈاک تحریری معلومات موصول ہو جائیں۔

مزید :

بین الاقوامی -