کرکٹ کا جنون 

 کرکٹ کا جنون 
 کرکٹ کا جنون 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اظہار الحق صاحب فیڈرل سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے لیکن اُن کا ذہنی سرمایہ یہیں تک محدود نہیں تھا بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد گویا ایک نیا عہد شروع ہو گیا انہوں نے لکھنے پڑھنے کا کام شروع کر دیا، ملازمت کے تجربے کے ساتھ اگر علم و ادب کی دولت بھی شامل ہو جائے تو شخصیت میں بہت گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اظہارالحق صاحب کے معاملے میں یہی ہوا، اُن کا تعلق پوٹھوار کے ایک گاؤں سے ہے لیکن اس پس منظر سے وہ کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئے بلکہ دیہی وزڈم بھی اُن کی شخصیت اور تحریروں میں رچ بس گئی۔ اظہار صاحب دنیا اخبار میں کالم لکھتے ہیں لیکن اُن کے کالموں میں علم و ادب کی چاشنی کے علاوہ موضوعات کی رنگارنگی بھی ہوتی ہے، عام طور پر بہت سارے کالم نگار تازہ ترین کسی سیاسی واقعے یا بیان پر کالم میں تبصرہ کر دیتے ہیں کئی لحاظ سے یہ آسان ترین طریقہ ہے کالم لکھنے کا۔ آپ کو زیادہ سوچنا نہیں پڑتا۔ روز کوئی نیا واقعہ یا بیان آ جاتا ہے لیکن اظہار صاحب کی دلچسپی صرف سیاست تک محدود نہیں اُن کا کینوس وسیع ہے کیونکہ زندگی میں اور بہت کچھ بکھرا پڑا ہے۔


25 اکتوبر کو اظہارالحق صاحب نے ”کھیل یا جنگ“کے عنوان سے ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے سپورٹس خصوصاً کرکٹ کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات پر دلچسپ پیرائے میں اظہار خیال کیا۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات صرف 1947ء سے شروع نہیں ہوئے بلکہ اِن کے پیچھے صدیوں کی ہندومسلم تاریخ ہے اور خصوصاً ہندوؤں کے ذہن میں مسلمانوں سے نفرت صرف حالیہ تعلقات کا شاخسانہ نہیں بلکہ اِس کی جڑیں صدیوں تک اِس خطے میں مسلمانوں کی حکمرانی میں پنہاں ہیں۔ خیر یہ ایک ایسا قضیہ ہے جس کا کوئی حتمی جواب نہیں ہندوؤں کے اس رویے میں تو اُن کے احساس کمتری کی جھلک ہے لیکن پاکستانیوں کا رویہ بھی بعض دفعہ عجیب و غریب صورت اختیار کر جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کی تو کوئی پرواہ نہیں کہ بھارت ترقی کی دوڑ میں ہم سے بہت آگے نکل گیا ہے اُن کی خوش قسمتی کہ نہرو جیسے لوگ تقسیم کے بعد دیر تک زندہ رہے اور انہوں نے بنیادی مسائل سیٹل کر لئے لہٰذا اُن کا سیاسی نظام ہماری طرح کسی رخنے کا شکار نہیں ہوا۔ وہاں غربت ہے، بیماری ہے، تعلیم کی کمی ہے، کرپشن ہے لیکن مجموعی طور پر بہت سے شعبوں میں وہ ہم سے بہت آگے ہیں، دنیا کے امیرترین لوگوں میں سے کئی بھارتی باشندے ہیں۔ٹیکنالوجی کے شعبے میں وہ بہت آگے ہیں، فیس بک اور گوگل جیسے اداروں کے سربراہ بھارتی ہیں،غیرملکوں میں مقیم بھارتیوں نے کمالات دکھائے ہیں۔

ہم تو اب تک دوہری شہریت کے جھگڑے سے باہر نہیں نکلے۔ ہمارے لوگ غیرملکوں میں پارٹیاں بنا کر ایک دوسرے کو ننگا کرنے میں لگے ہوتے ہیں لیکن بھارتی نژاد کملا ہیرس امریکہ جیسے ملک میں نائب صدر ہیں اور برطانیہ میں ایک بھارتی نژاد رشی سونک وزیراعظم بن چکا ہے لیکن ہمیں اِن باتوں کی کوئی پرواہ نہیں بیشک وہ جتنی ترقی کریں۔ ہمیں اقتدار کی جنگ سے فرصت نہیں البتہ سپورٹس اور خصوصاً کرکٹ کے معاملے میں ہم ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے اس شعبے میں اُن کی برتری ہمیں قبول نہیں، کرکٹ ہماری جان ہے اس میدان میں ہم آخری وقت تک جنگ لڑیں گے۔ یہ پاکستانیوں کی عجیب ذہنیت ہے۔ بھارت کو تو چھوڑیں ہم بنگلہ دیش سے بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں لیکن ہماری غیرت صرف کرکٹ کے معاملے میں جاگتی ہے۔ میں نے زمانہ طالب علمی میں نوائے وقت میں کرکٹ کے اس Craze پر ایک کالم لکھا تھا اور یہ سوال اُٹھایا تھا کہ آخر ہم اپنے معاشرے میں کس کو ہیرو بنانا چاہتے ہیں؟ سپورٹس مین کو سائنسدان کو یا دانشور کو، ڈاکٹر کو یا پروفیسر کو،سپورٹس کی اہمیت سے انکار نہیں اور خصوصاً ہمارے ہاں جہاں تفریحی مواقع کی کمی ہے، سپورٹس کا فروغ بھی ضروری ہے لیکن ہر چیز میں توازن رکھنا ضروری ہے۔ ہم  نے کھیل خصوصاً کرکٹ کو زندگی موت کا مسئلہ بنایا ہوا ہے اور اہم قومی موضوعات کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے۔


یہ قومی سطح پر ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہماری نئی نسل کے نظریات اور اہداف کیا ہیں۔ اِن حالات میں آجکل جو سیاسی جنگ چھڑی ہوئی ہے یہ ہماری نئی نسل کو کہاں پہنچائے گی یہ صورتحال پریشان کُن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -