میں اور وزیراعظم کاکڑ

         میں اور وزیراعظم کاکڑ
         میں اور وزیراعظم کاکڑ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 چند دن پہلے سوشل میڈیا پر وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا ایک انٹرویو دیکھنے کا موقع ملا۔ انٹرویو عمر چیمہ اور اعتزاز سید نے کیا تھا۔ اِن دونوں کی شہرت Investigative جرنلسٹ کی ہے۔ میں پہلے بھی محسوس کرتا تھا اور اس انٹرویو سے کاکڑ صاحب کے لئے میری پسندیدگی میں اضافہ ہو گیاہے۔ نگران حکومت کے مقاصد اور طریق کار کے بارے میں تو میں زیادہ مطمئن نہیں اور میں اِس کا اظہار ایک کالم میں کر چکا ہوں تاہم اس دفعہ چند ایک کو چھوڑ کر ٹیم اچھی منتخب کی گئی ہے۔ ٹیم میں اتفاق سے ہمارے ایک دوست ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نسبتاً ایک نوجوان ہیں شاید ان سے پہلے نوجوان وزیراعظم کی مثال یوسف رضا گیلانی کی ہے اتفاق سے وہ ہمارے کلاس فیلو ہیں۔پھر کاکڑ صاحب کا تعلق بلوچستان سے ہے بلوچستان کا نام آتے ہی ذہن میں سرداری نظام آ جاتا ہے لیکن کاکڑ صاحب کا تعلق کسی سردار خاندان سے نہیں بلکہ ایک عام خاندان سے ہے۔ انہوں نے انٹرویو میں بغیر کسی جھجک کے اپنے خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالی اور اپنے آپ کو لوئر مڈل کلاس میں شمار کیا۔ انہوں نے سکول میں پڑھایا پھر ایک رشتے دار کی سٹیشنری کی دکان پر بھی پارٹ ٹائم کام کیا۔ پھر جرنلزم کا پیشہ اختیار کیا اور انگریزی اخبار بلوچستان ٹائمز میں کام کیا۔ ایک زمانے میں مجھے بھی پی ٹی وی کے کوئٹہ سنٹر پر تقریباً تین سال کام کرنے کا موقع ملا اور یوں بلوچستان کی یادیں میری یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہ بات زیربحث موضوع سے ذرا ہٹ کر ہے لیکن مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں کئی پڑھے لکھے  اور مالدار لوگوں نے دنیا کی سیر تو کر لی ہے لیکن بلوچستان نہیں گئے۔ اِسی طرح شاید بہت سارے دوست اندرون سندھ بھی کبھی نہیں گئے۔ میں مطمئن ہوں کہ پی ٹی وی کے طفیل دنیا دیکھنے کے علاوہ کراچی، کوئٹہ، فیصل آباد، پشاور  رہنے کا موقع ملا اور اسلام آباد میں تو مستقل قیام ہو گیا۔ بہرحال کاکڑ صاحب ہم سے کم عمر ہیں لہٰذا کوئٹہ میں اُن سے ملاقات نہیں ہو سکی اگرچہ ہمارے دور میں بلوچستان ٹائمز کے مرحوم ایڈیٹر فصیح اقبال کے علاوہ ڈان کے شمس الحق، پاکستان ٹائمز کے غلام طاہر اور مشرق کے رانا مقبول صاحب اور اے پی پی کے غنی صاحب کے علاوہ شاعر اور دانشور عطاء شاد سے ملاقاتیں رہیں افسوس کہ یہ سب دنیا چھوڑ چکے ہیں۔

کاکڑ صاحب ایک بڑے عہدے پر براجمان ہیں وہ بہت کچھ کریں گے لہٰذا یہ تو ممکن نہیں کہ میں اُن کے سارے فیصلوں سے اتفاق کروں تاہم میری پسندیدگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض باتوں میں میری اُن سے مشابہت ہے اُن کا تعلق بھی ایک دیہی علاقے سے ہے اور ایک نسبتًا معمولی خاندان سے ہے۔ میرا تعلق بھی پنجاب کے دیہی علاقے سے ہے اور زمیندار گھرانے سے ہے البتہ میرے والد ایک میڈیم کلاس زمیندار تھے۔ کاکڑ صاحب نے بھی خوش قسمتی سے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی ہمیں بھی پنجاب یونیورسٹی سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا لیکن خاص بات یہ ہے کہ ان کے حلیے،لباس اور گفتگو میں لسانی اورعلاقائی ٹچ نہیں ملتا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ان شناختوں سے بلند ہو گئے ہیں۔کچھ اور زبانوں کے علاوہ وہ انگریزی اور اُردو میں رواں ہیں۔میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوا اورمیٹرک تک تعلیم بھی وہیں حاصل کی لیکن مجموعی طور پر مجھ میں اُس ماحول کی کوئی جھلک نہیں ملتی بلکہ اگرمیں یہ بتاؤں کہ میں نے ساگ، گُڑ، اچار اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں کبھی نہیں چکھیں، لسی کبھی نہیں پی تو شاید بہت سارے لوگوں کو یقین نہیں آئے گا حتیٰ کہ میں شلوار قمیض بھی تقریباً ترک کر چکا ہوں۔ میری طرح کاکڑ صاحب کو بھی علم و ادب کا چسکا ہے۔ آجکل پنجاب کی قیادت ایک صحافی کر رہے ہیں اِس سے پہلے ایک اور صحافی نجم سیٹھی بھی پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ رہے ہیں درمیان میں ہمارے ایک ٹیچر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی صاحب نے بھی پنجاب میں اقتدار کی جھلکی دیکھی۔ کاکڑ صاحب صحافت میں سیاست کا تڑکا لگا کر وزیراعظم کے اعلیٰ منصب تک آ پہنچے ہیں۔ یہ رجحان نگران تک ہی سہی معاشرے کے لئے ایک اچھا شگون ہے۔

میں نے پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جرنلزم میں ایم اے کیا اور عملی طور پر بھی صحافت میں عمر گزاری لیکن زمانے سے ایک گلہ ہے جس کا میں پہلے بھی کسی جگہ اظہار کر چکا ہوں کہ افسر ہمیں افسرتسلیم نہیں کرتے کیونکہ ہماراقصور یہ ہے کہ ہماری تنخواہ اے جی پی آر سے نہیں آتی۔میں اسلام آباد کلب کا رکن ہوں لیکن وہاں ہمیں واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے افسروں کی کیٹیگری میں نہیں بلکہ عام آدمی ٹریٹ کیا جاتا ہے اور صحافی بھی ہمیں صحافی تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ہم پر سرکار کی چاکری کا ٹھپہ لگا ہوا ہے گویا ہم نے کوئی غلط کام کیا ہے۔آخر میں ایک غیرسنجیدہ بات۔ کاکڑ صاحب کو دو سال پہلے کسی نجومی نے بتا دیا تھا کہ وہ سیاست میں کسی اعلیٰ منصب پر پہنچیں گے مجھے کسی نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی اور نہ مجھے ایسی کوئی غلط فہمی ہے لہٰذا دوست تسلی رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -