ماتحت عدلیہ کے ججز سے پراسکیوشن کی جانب سے جمع کروائے چالانوں کی تفصیلات طلب
لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے صوبے بھر کی ماتحت عدلیہ کے ججز سے پراسکیوشن کی جانب سے جمع کروائے گئے چالانوں کی تفصیلات طلب کرلیں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیوں نہ چالان بروقت نہ بھجوانے والے تفتیشی افسران کو ایک ماہ کیلئے جیل بھجوایا جائے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ملزم عمران کی ضمانت سے متعلق درخواست پر سماعت کی دوران سماعت پراسکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور اعتراضی اور نامکمل چالان کاتمام ریکارڈ پیش کردیا جس میں کہا کہ سال 2017 سے سال 2024 تک پانچ لاکھ ستر ہزار مقدمات درج ہوئے تین لاکھ بیاسی ہزار مقدمات کے چالان زیر التواء تھے عدالتی حکم پر تمام مقدمات کے زیر التواء چالان عدالتوں کو بھجوا دئیے گئے چالان بروقت عدالتوں کو بھجوانے کیلئے میکنزم وضع کرکے تین درجاتی فارمولا بنالیا گیا مقدمہ درج ہوتے ہی اس کی کاپی پراسکیوشن کے کیس فلو مینجمنٹ سسٹم پر آجاتی ہے پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں متعلقہ ایس پی اور ضلعی پراسیکیوٹر چالان بھجوانے کے عمل کو مانیٹر کر
تے ہیں آئی جی اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب تمام مقدمات کے چالان کو پنجاب بھر میں چیک کرتے ہیں فرہاد علی شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس اور پراسکیوشن کے سافٹ وئیر کو عدالت کیساتھ لنک کیا جائے عدالت نے تینوں سافٹ وئیرز کو ون لنک کرنے کی ہدایت کردی چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بھجوائے گئے چالانوں کی تفصیلات میں کچھ فرق آرہا ہے چالان کی تفصیلات میچ ہونے پر کیس نمٹا دیاجائے گا ورنہ اس کیس میں ایک اور تاریخ پڑ سکتی ہے عدالت نے آئندہ سماعت پر چالانوں سے متعلق تفصیلات طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی۔
تفصیلات طلب
