اسرائیلی بمباری میں 27لبنانی شہید، حزب اللہ کے حملوں میں 5صہیونی ہلاک
بیروت، تل ابیب، غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)لبنان سے شمال اسرائیل پر ہونیوالے راکٹ حملے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق جمعرات کے رو ز حزب اللہ کی جانب سے سرحد کے قریب واقع بستی المطلہ پر راکٹ داغے گئے جن کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک اسرائیلی شہری اور 4 غیر ملکی شامل ہیں۔ اسر ا ئیلی میڈیا کے مطابق حملے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا،دریں اثناء قابض صہیونی فوج کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے علاقے بقاع کے قصبوں یحمو، بدنایل اور بیت صلیبی“ پر کیے گئے تین حملو ں میں 27 افراد شہید اور 15 زخمی ہوگئے۔لبنانی میڈیا نے رپورٹ کیا سحمرپر قابض فوج حملوں میں 11 افراد شہید اور 15 زخمی ہوئے جبکہ بدنائیل پر بمباری میں نو افراد شہید ہوگئے۔ بیت صلیبی پر ایک مکا ن پر بمباری میں سات افراد شہید ہوئے۔دوسری طرف لبنان میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد اسرائیل جنگ بندی پر تیار ہوگیا اور معاہدے کا مسودہ بھی تیار کرلیا۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سکیورٹی حکام اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ لبنان میں جنگ بندی کا وقت اب آچکا ہے۔ نیتن یاہو کی زیر صدارت اعلی اسر ائیلی حکام کا اجلاس ہوا جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ لبنان میں لڑائی کے خاتمے کیلئے معاہدہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اسرا ئیلی سکیورٹی حکام نے نیتن یاہو کو لبنان میں بڑ ھتے ہوئے جانی و مالی نقصانات سے آگاہ کیا اور کہا حزب اللہ کی قیادت کو ختم کرنے کے بعد اب لبنان میں ٹھہرنے میں مزید نقصان ہی ہوگا۔ نیتن یاہو نے سکیورٹی حکام کے اس موقف کو قبول کرلیا۔اسرائیلی سرکاری میڈیا کی جانب سے جنگ بندی تجویز کا مسودہ نشر کردیا گیا، مسودے میں اسرائیل اور لبنان سے اقوام متحدہ کی قراردا د وں پر عملدرآمد کا مطا لبہ کیا گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مکمل عملدرآمد کو حتمی شکل دی جائیگی۔اسرائیل جنگ بندی کے 7 دن کے اندر لبنان سے اپنی افواج واپس بلالے گا، اسرائیلی افواج کے انخلا کے وقت لبنانی افواج کی تعیناتی شروع ہوجائیگی۔نگران لبنانی وزیراعظم نجیب مکاتی نے امید ظاہر کی کہ چند گھنٹے میں جنگ بندی ہوجا ئیگی۔ جنگ بندی کی خبروں پر وائٹ ہاوس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا اسرائیل لبنان جنگ بندی سے متعلق رپورٹس اور مسودے زیرگردش ہیں مگر یہ مذاکرات کی عکاسی نہیں کرتے۔ رپو ر ٹس کے مطابق اسرائیل بھاری جانی نقصان کے سبب حزب اللہ کو دریائے لطانی سے دور دھکیلنے سے دستبردار ہو رہا ہے۔فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے رواں ماہ لبنان اور غزہ میں حماس اور حزب اللہ کے ہاتھوں 62 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ادھر عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مصری صدر اور امر یکی حکام کی جانب سے پیش کی جانیوالی عا ر ضی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کردیا ہے، سینئر حماس رہنما نے کہا عارضی طور پر جنگ روکنے کی تجویز کا مقصد بعد ازاں دوبارہ حملے شروع کرنا ہے جس پر ہم پہلے سے ہی اپنا موقف واضح کرچکے ہیں، حماس عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل جنگ بندی کی حمایت کرتی ہے۔ واضح رہے غزہ میں جنگ بندی کیلئے گزشتہ چند روز سے قطر کی ثالثی میں نئی کوششوں کا آغاز ہوا تھا جس کے بعد مصری صدر اور امریکی ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی تجاویز سامنے آئی تھیں۔ دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نجیب میکاتی نے امید ظاہر کی ہے کہ 5 نومبر کو امریکی الیکشن سے قبل حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا امکان ہے۔
اسرائیل،لبنان
