”ہمارے پیغمبر کی سنت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے“

”ہمارے پیغمبر کی سنت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے“
”ہمارے پیغمبر کی سنت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے“

  

محمد فتح اللہ گلن معروف سکالر، مفکر، دانشور اور عالم دین ہیں۔ وہ1941ءمیں ترکی کے صوبے ارض روم کے شہر ” حسن قلعہ“ کے ایک گاﺅں ”کورو جک“ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قرآن پاک اپنی والدہ ماجدہ اور عربی ، فارسی اپنے والد سے سیکھی۔ آپ نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ روحانی اور سائنسی علوم کا بھی بغور مطالعہ کیا۔ آپ حیات ہیں اور60سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ 2008ءمیں ” فارن پالیسی“ میگزین نے آپ کو عہد حاضر کا صف اول کا عوامی دانشور یا ”پبلک انیٹلکچوئل“ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ عالم اسلام کی ایک مشہور و معروف شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔2011ءمیں پاکستان میں پنجاب یونیورسٹی نے آپ کی تعلیمی، سماجی اور فلاحی خدمات کے سلسلے میں ”ڈاکٹریٹ“ کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی ہے۔محمد فتح اللہ گلن عالم ِ باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مصنف، شاعر، ماہر تعلیم اور ایک معروف سماجی شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ آپ بہت سے اخبارات اور میگزینوں کے لئے ”خاص مضمون“ بھی لکھتے ہیں۔ آپ کو ”عصر حاضر کا رومی ؒ“ بھی کہا جاتا ہے۔وقتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر آپ لب کشائی کے ساتھ اپنے قلم کے ذریعے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر عصرِ حاضر میں پائے جانے والے مختلف اذہان میں مختلف سوالات کے بارے میں آپ کے مدلل جوابات اور افکار کو دُنیا میں بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ آپ عہد حاضر میں ایک عظیم فکری سرمائے کے علمبردار ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار فلاحی تنظیموں کے بانی بھی تصور کئے جاتے ہیں۔ اُردو سمیت آپ کی کتب کے تقریباً دُنیا بھر کی تمام بڑی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔محمد فتح اللہ گلن کا کہنا ہے کہ اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان باہمی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جس پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کا مزید کہنا ہے کہ اسلام کو ایسے انداز میں پیش نہیں کرنا چاہئے، جس سے اس پر دہشت گردی کا لیبل لگے۔ وہ اِس لئے مختلف جماعتوں، صحافیوں، تعلیم یافتہ طبقوں، معاشروں، ثقافتوں اور مذاہب و افکار کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور مکالمے کے زبردست حامی ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ ہم امن، مکالمے اور تعلیم کے ذریعے ہر قسم کے تعصبات، نفرت اور کشیدگی کو ختم کر سکتے ہیں۔پوری دُنیا ، خاص طور پر مسلم دُنیا کے عوام میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی متنازعہ فلم کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بلا شبہ اِس واقعہ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اِس سلسلے میں مسلم دُنیا میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اِس حوالے سے سب سے پہلے بیانات جو بین الاقوامی میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں سامنے آئے، وہ عالم اسلام کے معروف عالم، مفکر اور دانشور محمد فتح اللہ گلن کے تھے۔ یاد رہے یہ وہی واحد مسلمان سکالر تھے، جنہوں نے نائن الیون کے واقعات کے فوراً بعد سب سے پہلے ان حملوں کی شدید مذمت کی تھی اور اپنے بیان میں کہا تھا کہ” اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک دہشت گرد مسلمان نہیں ہو سکتا اور ایک مسلمان دہشت گرد نہیں ہو سکتا ہے“۔ ان کا یہ پیغام ”واشنگٹن پوسٹ“ اور ”نیو یارک ٹائمز“ سمیت عالمی میڈیا میں خصوصی طور پر شائع کیا گیا تھا۔ اب جبکہ یہ متنازعہ فلم اور اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے، عالمی میڈیا میں محمد فتح اللہ گلن کے بیانات، پیغامات، مضامین اور مقالے سب سے پہلے تواتر سے شائع ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ”فنانشل ٹائمز“ جیسے مشہور عالمی اخبار میں محمد فتح اللہ گلن کا ایک مضمون بعنوان” ہمارے پیغمبر کی سنت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے“ شائع ہواہے۔اپنے اس مضمون میں محمد فتح اللہ گلن نے جہاں اس متنازعہ فلم کی مذمت کی ہے اور اس کے پس پردہ عزائم کو بیان کیا ہے، وہاں وہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر بھی مضطرب نظر آتے ہیں۔ اپنے اس مضمون میں محمد فتح اللہ گلن نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ احتجاج ضرور ریکارڈ کرائیں، لیکن پُرتشدد مظاہروں، نفرت انگیز تقریروں اور جان و مال کے نقصانات اور جلاﺅ گھیراﺅ سے اجتناب کریں۔ انہوں نے لیبیا میں امریکی سفیر اور دیگر سفارتی عملے کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بلاشبہ اس وقت مسلمان آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں، مگر انہیں صبر سے کام لینا ہو گا اور تمام مسائل ڈائیلاگ اور پُرامن طریقوں سے حل کرنے ہوں گے۔ محمد فتح اللہ گلن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے پیچھے گہری سازشیں اور دُنیا کا امن تباہ کرنے کی کوششیں کار فرما ہو سکتی ہیں۔ مسلمانوں کو احتجاج کرتے وقت ایسے طریقے اختیارکرنے ہوں گے جو پُرامن اور مو¿ثر ہوں۔ خاص طور پر مسلم دُنیا کو جہالت ، نااتفاقی اور غربت جیسے مسائل کے خلاف جہاد کرنا ہو گا، تب جا کر دُنیا میں وہ باعزت مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ مسلم دُنیا کی اکثریت پس پردہ حقائق کو نہیں سمجھ سکی، جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی ملک، ہم وطنوں اور املاک کو نقصان پہنچا کر اسلام کا تصور اور امیج دُھندلا رہے ہیں۔ محمد فتح اللہ گلن سمجھتے ہیں کہ تبدیلی صرف پُرامن طریقے سے آ سکتی ہے۔ احتجاج، پُرتشدد مظاہروں اور طاقت کے بل بوتے پر صرف نقصان ہو سکتا ہے، کوئی انقلاب نہیں آ سکتا۔ اسلام کا پیغام امن و سلامتی، بھائی چارہ اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ یہ کسی قسم کی دہشت گردی اور انسانی جانوں کے ضیاع کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ پیغمبر اسلام حضور اکرم نے خود اپنے دشمنوں کے لئے بھی بددُعا تک نہیں کی اور ہمیشہ اُن کی خیر خواہی اور راہ راست پر لانے کے لئے زندگی بھر تگ و دود کی۔ تمام مسائل باہمی گفتگو، بات چیت اور مذاکرات سے حل کئے جا سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو اسلام کی سچی روح کو مدنظر رکھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہئے۔”فنانشل ٹائمز“ میں شائع ہونے والے محمد فتح اللہ گلن کے مضمون بعنوان ”ہمارے پیغمبر کی سنت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے“ کا اُردو ترجمہ اور خلاصہ قارئین کے لئے ذیل میں دیا جا رہا ہے:”مسلمان روزانہ اپنی نماز اور عبادت میں یوں دُعا کرتے ہیں....”اے اللہ! ہمیں صراطِ مستقیم پر چلا“۔ یہ دُعا ہمیںانتہا پسندی سے دُور اور ہماری زندگیوں میں توازن کو برقرارر کھتی ہے۔ ہمیں نہ تو اپنی جبلتوں کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور نہ ہی ہمیںاپنی اقدار اور عقائد کو بدنام کرنے والے نظام کے خلاف خاموشی اختیارکرنی چاہئے۔ اس توازن کو ہمیںہر حال میں برقرار رکھنا ہو گا، تاہم حالیہ دنوں میں پیغمبر اسلام حضرت محمد کے خلاف بننے والی فلم کے ردعمل میں یہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ پُرتشدد ردعمل اور مظاہرے غیر متوازن اور غیر منطقی صورت حال اختیار کر گئے جو درست نہیں تھے اور صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے اور اس کے برعکس تھے۔مسلمانوں میں حضرت محمد پر حملوں پر بلاشبہ رنج و غم پایا جاتا ہے۔ مسلمان اِس معاملے میں لاتعلق نہیں رہ سکتے تھے اور نہ ہی رہنا چاہئے، لیکن دوسری طرف اس کے برعکس ان کو انتہائی محتاط اور حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ شاید لوگ پیغمبر اسلام حضرت محمد کی ذات اقدس پر رقیق حملے کر کے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا چاہتے ہوں اور اسلام اور مسلمانوں کا امیج تباہ اور خراب کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کو تنہا کر کے ظلم و زیادتی، امتیازی برتاﺅ اور ملک بدری کا جواز پیش کر سکتے ہیں۔ اِس واقعہ کے پس پردہ بہت سے عوامل چھپے ہوئے ہیں۔ جان بوجھ کر مسلم دُنیا میں اس طرح کے بحران، کشمکش اور چپقلش پیدا کر کے مسلمانوں کے جذبات، احساسات اور عقائد و افکار پر حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں ہماری مقدس روایات پر ”کارٹون“ بنا کر حملہ کیا گیا اور آج یہ فلم بنا کر ہمارے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے،پھر فرانسیسی میگزین میں دوبارہ”کارٹون“ بنا کر ہمیں حقارت کا نشانہ بنایا گیا۔ ہو سکتاہے کہ کل کلاں کسی اور طریقے سے ہمارا مذاق اُڑایا جائے اور کوئی اور ذرائع استعمال کئے جائیں، یہ قرین قیاس ہے۔مسلمانوں کو اِس طرح کے واقعات کے پس پردہ محرکات اور کھیل سے آگاہ ہونا ہو گا۔ انہیں کسی بین الاقوامی سازش اور” گیم پلان“ کا حصہ نہیں بننا ہو گا۔ تاہم انہیں اس طرح کی سازشوں اور منصوبوں کے خلاف آسانی سے اس کا حصہ بننے، تشدد ، خطرناک اور نقصان دہ وغیر ضروری مظاہروں سے اجتناب کرنا ہو گا۔ مسلمانوں کو آسانی سے پُرتشدد مظاہرے کرنے پر اُکسانے والوں سے ہوشیار رہنا ہو گا اور اپنی صفوں میں موجود ان لوگوں پر بھی نظر رکھنی ہو گی، جو آسانی سے بھڑک اٹھتے ہیں اور آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ تشدد، جلاﺅ گھیراﺅ اور فتنے فساد سے دُور رہنا ہو گا۔ پیغمبر خدا حضرت محمد کی ذات اقدس پر جب بھی کبھی منفی تبصرہ، الفاظ یا کلمات کہے جائیں، چاہے یہ جتنے ہی معمولی کیوںنہ ہوں، ایک عام مسلمان کو بھی گہرے اور شدید دُکھ اور افسوس کرنا چاہئے، لیکن اس دُکھ اور افسوس کا اظہار ایک مختلف اور دوسرا معاملہ ہے۔ ایک غیر مناسب اور غیر ذمہ دارانہ اظہارِ اسلام کے پاک اور پُرامن تصور کو تباہ کر سکتا ہے۔ ایک پُرتشدد ردعمل اور مظاہرہ اسلام کا چہرہ گدلا اور میلا کر سکتا ہے۔ اس سے مسلمانوں کے عقائد و نظریات اور افکار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک غلط ردعمل سے اسلام کے دعوے کے دفاع کو غلط رنگ دیا جا سکتا ہے۔ایسی صورت حال، جبکہ تمام مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ، حقوق اللہ، حقوق قرآن، پیغمبر اسلام کے حقوق داﺅ پر لگے ہوں، تو ایسی صورت حال میں کسی کو لاپرواہی اور تشدد سے ردعمل ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔ ہر ایک کو صورت حال کا بغور مطالعہ و مشاہدہ کرنا ہو گا، ممکنہ صورت حال، حالات و واقعات کی جانچ پڑتال اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ہو گا، ہمیں ایسے مواقعوں پر اجتماعی اور منطقی حکمت عملی اپنانی چاہئے۔ہمیں بطور مسلمان اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہم نے حضرت محمد اور اسلام کے صحیح اور درست تصور کو دُنیا میں کس حد تک متعارف کروایا ہے؟ دُنیا میں ہم نے ذاتی، انفرادی اور اجتماعی سطح پر اسلام کے پیغمبر اور پیغمبر اسلام کی سیرت کو کس حد تک مناسب اور درست انداز میں اُجاگر کیا ہے اور اس پر کس حد تک خود عمل کیا ہے؟ کیا دُنیا میں ہم نے آپ کی سیرت و سنت پر عمل کر کے خود ایک قابل قبول، قابل تعریف اور مناسب مثالیں قائم کی ہیں؟ ہمیں اِس سلسلے میں الفاظ سے نہیں، بلکہ اپنے اعمال سے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ہم صحیح معنوں میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے حقیقی پیغام، سیرت اور سنت پر عمل پیرا قابل تقلید انسان اور مسلمان ہیں۔ اگر لوگوں کے ذہنوںمیں سب سے پہلے مسلمانوں کا تصور ایک خود کش بمبار کے طور پر آتا ہے تو وہ اسلام کے بارے میں کیا رائے قائم کر سکتے ہیں اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اُن کا تصور کیسا ہو گا، اِس لئے وہ اسلام کے بارے میں مثبت رائے کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ جیسے ماضی میں مسلمانوں پر تشدد اور زیادتی کی گئی، بالکل ایسے ہی آج معصوم انسانوںکو مارنا بھی بربریت ہے۔ ایک نفرت بھری فلم کی وجہ سے لیبیا میں امریکی سفیر اور دیگر سفارت کاروں اور عملے کی ہلاکت منطق سے بالاتر ہے۔ اِس فلم سے اُن کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ اگر امریکی قونصل خانے پر حملہ آور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو اسلام کیا ہے؟ اور اسلام کا پیغام کیا ہے؟ کو وہ بالکل نہیں جانتے، بلکہ اسلام کے نام پر بہت بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ وہ اسلام کے مکمل فلسفے، حکمت اور پیغام کو بالکل نہیں جانتے۔ ایک مسلمان کو اپنے اعمال اور الفاظ میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر وقت صراط مستقیم اور سیدھے راستے پر گامزن ہونے کی تگ دود کرنی چاہئے، اسے اپنے الفاظ و اعمال میں یکسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ایک مسلمان کو عیسائیوں، یہودیوں، بدھ مت اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے عقائد و افکار اور نظریات کا ہمیشہ احترام کرنا چاہئے۔ اسے دوسروں کی مقدس روایات اور اقدار کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ ایک مسلمانوں کو اپنے جذبات کا اظہار اور ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میانہ روی اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ ردعمل ظاہر کرنے کے اور بہت سے درست طریقے ہو سکتے ہیں۔ معاشرے کے اجتماعی ضمیر، بین الاقوامی برادری اور بہتر ذرائع سے اپنے مطالبات کو دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تشدد اور اشتعال انگیزی کو اُبھارنے کے لئے نفرت انگیز تقاریر آزادی¿ رائے کا غلط استعمال ہے۔ یہ حقوق کو پامال کر دیتی ہے، وقار اور دوسروں کی آزادیوں میں مداخلت ہے اور اِس طرح کی نفرت بھری تقاریر، الفاظ اور مظاہرے انسانیت کو خوفناک جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ آج کے دور میں ایسی کوشش کے انتہائی بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔دوسروں کو نفرت، تشدد اور نقصان پہنچانے کی بجائے ہمیں بین الاقوامی سطح پر موجود متعلقہ عالمی اداروں سے رجوع کرنا چاہئے۔ہمیں اِس سلسلے میں اسلامی تعاون کی تنظیم(او آئی سی) اور اقوام متحدہ(یو این او) سے مداخلت کی اپیل کرنی چاہئے۔ ہمیں ایسی تقاریر جو نفرت پر مبنی ہوں، اُن سے اجتناب کرناہو گا۔ ہمیں ایسے واقعات پر قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے، دوسروں کو نقصان پہنچانے اور غلط تصور قائم کئے بغیر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا ہو گا، نہ صرف حضرت محمد ، بلکہ دیگر ادیان و مذاہب کے رہنماﺅں اور شخصیات کا احترام کرنا سیکھنا ہو گا، اُن کی حقارت سے بالکل اجتناسب کرنا ہو گا۔آپ کی ذات ِ اقدس پر متعدد بار حملوں کی ہم نے کئی بار مذمت کی ہے، لیکن تشدد سے اس کا جواب درست طریقہ ¿ کار بالکل نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہمیںاس طرح کی تحریک چلانا ہو گی، جس سے تمام مذاہب کی مقدس روایات کی عزت اور احترام بڑھ سکے۔ ہمیں تمام مذاہب کے مقدس افکار کے احترام کو فروغ دینا ہو گا“۔نوٹ: مزید تفصیلات اور مطالعہ کے لئے قارئین WWW.f gulen.comجیسی ویب سائٹ سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔         ٭

مزید :

کالم -