بداخلاقی کے افسوس ناک واقعات

بداخلاقی کے افسوس ناک واقعات
بداخلاقی کے افسوس ناک واقعات

  

                                وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ 5سالہ بچی سے بےہودگی کرنے والے درندے نہ صرف انسانیت بلکہ پوری قوم کے مجرم ہیں ، دلخراش واقعہ میں ملوث ملزمان کی جلد ازجلد گرفتاری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور درندہ صفت ملزموں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے انسانیت سوز واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے آئی جی پنجاب اور لاہور پولیس کو ہدایت کی کہ اصل ملزمان کی گرفتاری کے لئے مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ نظام کے تحت سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھایا جائے تاکہ مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے،لیکن تاحال ملزم گرفتار نہیں ہوئے۔

 سی سی پی او لاہور چودھری شفیق کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے بنائی گئی ٹیموں نے 50 سے زائد افراد کو شامل تفتیش کر کے ان کے بیانات قلمبند کئے جبکہ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔ پولیس گنگارام ہسپتال کے سی سی ٹی وی یونٹ کو فرانزک کے لئے بھجوائے گی۔ دوسری جانب درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔

ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، جو پولیس کے لئے لمحہ ¿ فکریہ ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے معصوم بچوں کے ساتھ کھلوار کرنے والے آخر قانون کی گرفت سے بچ کیوں جاتے ہیں؟ کیوں ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ اب تو بچے ہی نہیں بلکہ بڑے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ بد اخلاقی کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں، بے راہ روی بھی بڑھ رہی ہے اس کی اصل وجہ ٹی وی اور انٹرنیٹ ہیں۔ انٹرنیٹ پر جو بے ہودگی دکھائی جاتی ہے اس تک رسائی بہت آسان ہے جس وجہ سے معاشرتی رویے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ ان تمام کا سدباب بہت ضروری ہے اگر ایسا فوری طور پر نہ کیا گیا تو حالات مزید گھمبیر ہو جائیں گے، پھران کے آگے بند باندھنا ممکن نہیں ہو گا۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کی روک تھام کے لئے قوانین میں ترمیم کرے اور ایسے ملزموں کے لئے سخت سزائیں تجویز کی جائیں نیز انٹرنیٹ پر بے ہودہ مواد کے خاتمے کے لئے اقدامات اور ٹی وی چینلوں کو بھی اخلاقیات کا پابند بنایا جائے تب جا کر ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔   ٭

مزید :

کالم -