پپو تم پریشان نہ ہو۔۔۔

پپو تم پریشان نہ ہو۔۔۔
 پپو تم پریشان نہ ہو۔۔۔
کیپشن:   noon lege سورس:   

  

ن لیگ کا متوپپو پرنس آج بہت پریشان تھا۔

پوچھنے پر کہنے لگا کہ ن لیگ کی قیادت کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ؟تو کہنے لگا کہ ایک طرف اعلیٰ عدالت میں وزیر اعظم کے خلاف نااہلی کی درخواست کی سماعت ہورہی ہے۔ تو دوسری طرف ان کے خلاف تیسرا مقدمہ بھی درج ہوگیا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ کہیں وزیر اعظم کو نااہل قرار نہ دیدیا جائے یا قتل جیسے مقدمات ان کے لئے مصیبت کھڑی نہ کردیں۔

اس پر میں نے پپو کو تسلی دی کہ اللہ سے خیر مانگو ۔ایسا کچھ نہیں ہوگا۔

لیکن پپو پریشان تھا کہنے لگا ہونے کو سب کچھ ہوسکتا ہے۔سیاست بڑی کتی چیز ہے کون جانتا تھا ذولفقار علی بھٹو جیسا ملک کا طاقتور ترین وزیر اعظم تختہ دار پر چڑھا دیا جائیگا۔

اس پر میں نے اسے ایکبارپھر سے تسلی دی کہ سیاست دانوں کے خلاف 90فیصد سے بھی زائد مقدمات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوجاتے ہیں۔ حزب اقتدارکی طرف سے ہردور میں حزب اختلاف کے خلاف قتل اور دہشت گردی سے لیکر اغوا ، کرپشن اور غداری جیسے مقدمات درج کروائے جاتے ہیں۔ لیکن مقدمات میں ملوث سیاستدان اپنی باری آنے پر ان مقدمات کو جھوٹا اور سیاسی ثابت کرکے بچ نکلتے ہیں۔ایسے میں ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی جیسے کیس صرف مثال کی حد تک ہی رہ جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں سیاسی مخالفین کو دبانے اور کارنر کرنے کے لئے ایبڈو، پوڈو ،پروڈااور احتساب جیسے قوانین بھی بنائے جاتے رہے ہیں۔بہت سے نامور سیاستدانوں کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی بچ نکلتے ہیں۔

پپو کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے میں نے اسے بتا یا کہ احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم بے نظر بھٹو، ان کے شوہر اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایس جی ایس ریفرنس میں سزا سنائی۔بے نظر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو ۔آصف علی زرداری کے والد حاکم زرداری ، وزیر اعظم نوازشریف، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم حسین شہدسہروردی،سابق وزیر اعظم ملک معراج خالد،نیپ کے رہنما خان عبدالولی خان، مولانا عبدالستار نیازی ،مسلم لیگ کے صدرخان عبدالقیوم خان ،باغی کے لقب سے پہچانے جانے والے مخدوم جاوید ھاشمی، ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین ،سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو، سابق وزرااعلیٰ مہتاب احمد خان، سردار عارف نکئی،ایو ب کھوڑو،الہیٰ بخش، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ،سابق گورنر پنجاب سردار ذولفقار کھوسہ ، سابق

گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر، ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما فارو ق ستار ،سابق وفاقی وزرا، انور سیف اللہ، میاں غلام محمد احمد مانیکا،حفیظ اللہ چیمہ ملک معراج محمد،، سابق صوبائی وزیر محمد سرمد خان کاکڑخالد ملک، ایم پی اے ملک محمد اعظم، محمد اعظم ہوتی،فاروق عزیز ، میاں منیر ،چودھری تنویر احمد خان ، اختر رسول اور دیگر بہت سے سیاستدانوں کو مختلف ادوار میں سزائیں سنائی گئیں۔لیکن ان میں 90فیصد کی سزائیں بعدازاں کالعدم قرار پائیں۔

میری باتوں سے پپو کے چہرے پر رونق آنے لگی۔ وہ ٹوکے بغیربڑے اشتیاق سے سن رہا تھا۔

میں نے اسے بتایا کہ سیاستدان ایک دوسرے کو مقدمات سے بچانے کے لئے بعض اوقات قوانین کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ جیسے 5اکتوبر2007کوسابق صدر پرویز مشرف نے قومی مصالحتی آرڈیننس متعارف کروایا۔تو اس قانون کے تحت سابق صدر آصف علی زرداری ، ان کے عزیز نواب یوسف تالپور، ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین،گورنر سندھ عشرت العباد، چوہدری شوکت علی، حاجی کبیر ، چوہدری ذولفقار ،جہانگیر بدر، ملک مشتاق احمد اعوان ، رانا نذیر احمد،میاں رشید، طارق انیس ،چوہدری عبدالحمید، آغاسراج درانی، غنی الرحمن، حاجی گلشیر، میر باز محمد خان کھیترانی، سردار منصور لغاری اور دیگر بہت سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے فائدہ اٹھایا۔اگرچہ سپریم کورٹ نے 16دسمبر2009کو یہ قانون کالعدم قرار دیدیا تھا۔لیکن متذکرہ افراد کے خلاف درج مقدمات یا توکسی نتیجے کے بغیر ہی اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ یا پھر برسوں کی دھول تلے دب چکے ہیں۔

لہذاتم پریشان نہ ہو۔۔۔۔

آج وزیر اعظم نوازشریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، حمزہ شہباز ، وفاقی وزرا،چوہدری نثار علی خان، خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق ، پرویز رشید ، عابد شیر علی اور رانا ثنااللہ کے خلاف لاہور یا اسلام آباد میں قتل اور اقدام قتل جیسے مقدمات ہوں یاتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، شاہ محمود قریشی،جہانگیر ترین،اورعوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف غداری جیسا مقدمہ۔ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف اکبر بگٹی قتل کیس سے لیکرآئین شکنی جیسا سنگین مقدمہ ہو یاایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف فوجداری اور کرپشن کے الزامات پر مبنی کیس۔ عملی طورپر ایسے سب مقدمات یتیم ہوتے ہیں۔یہ طوفان کی طرح اٹھتے ہیں۔ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ اور دھول کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔

پپو تم پریشان نہ ہو۔۔

مزید :

کالم -