سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان مؤثر ترین شخصیت

سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان مؤثر ترین شخصیت
سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان مؤثر ترین شخصیت

  

امریکی نیوز ایجنسی ’’بلومبرگ‘‘ کی جانب سے دنیا کی 50 موثرترین شخصیات کی ایک فہرست شائع کی گئی ہے، جس میں سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ ’’بلومبرگ‘‘ کی رپورٹ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی، بالخصوص اخبارات کے ایڈیٹروں، صحافیوں، معیشت کے شعبے سے وابستہ شخصیات، تاجروں اور سیاست دانوں کو شامل کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 100 عالمی موثر شخصیات کی ایک فہرست مرتب کی گئی تھی جن میں چھان پھٹک کے بعد 50 شخصیات کی حتمی فہرست جاری کی گئی۔ ان میں شہزادہ محمد بن سلمان 42 ویں موثر ترین عالمی شخصیت قرار دیئے گئے ہیں۔ یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد بے چینی کے دور سے گزرنے والے برطانیہ کی وزیراعظم تھریسا مے اس فہرست میں سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن بھی شامل ہیں، کیونکہ دونوں دنیا کی سپر پاور کا صدر بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ مشرق میں چین کے صدر کو اس فہرست میں شامل کیا گیاہے۔ عالمی بحرانوں کا سامنا کرنے کے باوجود چینی قیادت نے اپنے ملک کو اقتصادی طور پرمتاثر ہونے سے بچالیا۔ پوری عرب دنیا سے شہزادہ محمد بن سلمان اس فہرست کا حصہ بنے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا "اکنامک ویژن" دنیا بھر میں پسند کیا گیا اور اس کے سعودی عرب، خطے اور پوری دنیا پر گہرے اور دور رس سیاسی، اقتصادی اور تجارتی اثرات مرتب ہوں گے۔ فہرست میں گیارہ خواتین میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ مرکل کو دو صدیوں کے بدترین بحرانوں اور پناہ گزینوں کے قضیہ کے حل کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنے پر اس فہرست میں شامل کیا گیا۔

حسب معمول روس کے صدر ولادی میرپبوٹن کو بھی اپنے ملک کو سیاسی اور اقتصادی استحکام سے ہم کنار کرنے پر پچاس موثر ترین شخصیات میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ دیگر موثر شخصیات میں چین اور برطانیہ کے مرکزی بینکوں کے گورنر اور امازون کمپنی سمیت کئی دوسری عالمی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہیں۔سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 28 اپریل 2015ء کو اپنے نئے شاہی فرمان کے ذریعے شہزادہ محمد بن نایف کو ولی عہد اور اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقررکیاتھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نائب ولی عہد کے ساتھ نائب وزیراعظم، وزیردفاع اور اقتصادی ترقی کونسل کے صدر بھی ہیں۔ محمد بن سلمان نے ریاض میں سکول کی تعلیم حاصل کی۔ وہ سکول کی سطح پر سعودی عرب بھرمیں سرفہرست 10 مقامات حاصل کرنے والے طلباء میں رہے۔ دوران تعلیم انہوں نے مختلف پروگراموں کے اضافی کورسز بھی کئے اور قانون میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی۔ جامعہ الریاض کے لاء کالج میں گریجوایشن میں قانون اور سیاسیات میں ان کا دوسرا مقام تھا۔10اپریل 2007ء کو شاہی فرمان کے تحت محمد بن سلمان کو سعودی کابینہ میں ماہرین کونسل کا مشیر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 16 دسمبر 2009ء تک اس عہدے پر کام کیا۔ 16 دسمبر 2009ء کو انہیں شاہی فرمان کے تحت امیر ریاض کا خصوصی مشیر مقرر کردیا گیا۔

3 مارچ 2013ء کوانہوں نے ریاض کے مسابقتی مرکز کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور ساتھ ہی ساتھ شاہ عبدالعزیز دفاعی ترقی کی اعلٰیٰ کمیٹی کے بھی رکن رہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو شاہ سلمان کا مشیر اس وقت مقرر کیا گیا جب وہ امیر ریاض کے عہدے پرتھے۔ ولی عہد کے دفتر کے انچارج اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کے طورپربھی خدمات انجام دیں۔ 3 مارچ 2013ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں ولی عہد کے شاہی دیوان کا منتظم مقرر کیا گیا اورانہیں ایک وزیر کے برابر رتبہ دے دیا گیا۔13 جولائی 2013ء کو انہیں وزیردفاع کے دفتر کا سپروائزرمقرر کیا گیا۔ 25 اپریل 2014ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں وزیر مملکت، پارلیمنٹ کارکن، 18 ستمبر 2014ء کو شاہ عبدالعزیز بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین کا اضافی چارج بھی سونپا گیا۔23 جنوری 2015ء کو شاہی فرمان کے تحت شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو خادم الحرمین الشریفین کا مشیر خاص اور شاہی دیوان کا منتظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔جب محمد بن سلمان کی عمر صرف 12 سال تھی تو وہ اپنے والد سلمان بن عبد العزیز کی زیر قیادت ہونے والے اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے، جب وہ سعودی عرب کے صوبہ ریاض کے گورنر تھے۔ 17 سال بعد، 29 سال کی عمر میں وہ دنیا کے نوجوان ترین وزیر دفاع کی حیثیت سے یمن میں ایک جنگ میں ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان اس وقت بالکل نوعمر تھے جب انہوں نے حصص و املاک کی تجارت کا آغاز کیا۔ اپنے بڑے بھائی کی طرح وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک نہیں گئے، بلکہ ریاض ہی میں مقیم رہے اور شاہ سعود یونیورسٹی سے قانون میں گریجوایشن کیا۔ ان کے تعلیمی ساتھی انہیں ایک سنجیدہ نوجوان قرار دیتے ہیں جو نہ تو تمباکو نوشی کرتے اورنہ ہی شراب پیتے تھے اور نہ ہی انہیں پارٹیوں سے کوئی دلچسپی تھی۔2011ء میں ان کے والد نائب ولی عہد بنے اور وزارت دفاع حاصل کی اور 2012ء میں ان کے ولی عہد بننے کے بعد نجی مشیر کی حیثیت سے محمد بن سلمان شاہی دربار میں فیصلہ کن کردار بن گئے۔ راستے کے ہر ہر قدم پر شہزادہ محمد اپنے والد کے ساتھ ہوتے ہیں جو خاندان سعود میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے چہیتے بیٹے کو ساتھ رکھنے لگے تھے۔ جب شاہ سلمان جنوری 2015ء میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تو وہ پہلے ہی سے بیمار تھے اور ان کا زیادہ تر انحصار اپنے بیٹے پر تھا۔ اپنے والد کے نگہبان کی حیثیت سے محمد بن سلمان اس وقت مملکت کے سب سے طاقتور آدمی بن چکے ہیں۔ شاہ سلمان کے عہد کے ابتدائی چند ماہ میں ہی محمد بن سلمان کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ شہزادے کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا، قومی توانائی کمپنی آرامکو کا سربراہ بنایا گیا، نئی اور طاقتور مجلس کونسل برائے اقتصادی و ترقیاتی امور کا سربراہ مقرر کیا گیا جو ہر وزارت کی نگرانی کرتی ہے۔

مملکت سعودی عرب کے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ انہیں نائب ولی عہد بنایا گیا اور یقین دہانی کروائی گئی کہ ولی عہد ، وزیر داخلہ اور اپنے حریف محمد بن نائف پر فوقیت دی جائے گی۔سعودی عرب میں ایک کاروباری شخص کا کہنا ہے کہ ’’وہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ وہ محنت کرتے ہیں، ان کے پاس اقتصادی اصلاحات کے لئے ایک منصوبہ ہے۔ وہ کھلے دل کے ہیں اور عوام کو سمجھتے بھی ہیں‘‘۔۔۔ نوجوانوں میں محمد کی مقبولیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے، کیونکہ سعودی عرب کی 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے ۔ جب محمد بن سلمان نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لئے 34 ملکی اتحاد کا اعلان کیا، تو ان کے ذہن میں واضح طور پر ایران موجود تھا۔ ایران نے بڑی خوبی سے، براہ راست اور حزب اللہ کے ذریعے، شام کے صدر بشار الاسد کی پشت پناہی کی ہے۔ سعودی عرب شام کے لئے امن مذاکرات کے آغاز سے پہلے بشار کو اقتدار سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔

مزید :

کالم -