چور کی دُعا!

چور کی دُعا!
چور کی دُعا!

  

حالیہ دِنوں میں سندھ ہائی کورٹ میں کسی مقدمے میں ملزم کے وکیل نے ملزم کے حق میں یہ دلیل دی کہ ملزم پانچ وقت کا نمازی ہے۔۔۔جواب میں فاضل جج نے دلیل رد کرتے ہوئے فرمایاکہ نمازی ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ایسا انسان جرائم میں ملوث نہیں ۔ آج کل اربوں روپے کی کرپشن کے بھی کچھ بڑے ملزم عدالت میں پیشیاں بھگتتے ہوئے ہاتھ میں تسبیح اور بڑے خشوع و خضوع سے دُعائیں مانگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کچہری میں کبھی جانا ہو تو مشاہدہ یہی ہے کہ پکڑا گیا ہر چور اور ڈاکو بھی دعا مانگ رہا ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہر گناہ گار کی دعا سنتا ہے، آپ اور ہم کون ہوتے ہیں ان چوروں اور ڈاکوؤں کی دُعاؤں پر تنقید کرنے والے۔دعا کا معاملہ ہے،انہوں نے چوری کرتے وقت، ملکی خزانے کو لوٹتے وقت بھی دُعا مانگی ہوگی کہ رب کریم،اس چوری اور ڈکیتی کو کامیاب کرنا، پولیس اور دیگر سبھی اداروں سے بچانا۔ دعا کے حوالے سے بات ہورہی ہے تو کچھ اپنی دعاؤں کا بھی ذکر ہوجائے۔آپ اگر متفق ہوں تو ’’آمین‘‘ کہتے جایئے۔

*۔۔۔یا پیارے پروردگار!ایسے اسبا ب پیدا کر کہ وطن عزیز میں عالمی بینک سے بھی بڑا ’’بینک الرزق الحرامیہ‘‘ بنا، جس میں دنیا بھر کے سابقہ اور موجودہ حکمران ،بڑے بڑے سمگلر، چھوٹے بڑے سبھی کرپشن کرنے والے اپنا اکاؤنٹ کھولیں اور اپنی عقل ، کرپشن یا قسمت سے حاصل کردہ ناجائز آمدنی کے ڈھیر لگا دیں تاکہ جب وہ ’’آنجہانی‘‘ ہو جائیں تو یہ پیسہ ہمارے حکمرانوں کے کام آئے ۔ عوام کے نصیب میں یہ کہاں، لیکن کم از کم اتنا تو فائدہ ہوجائے کہ ’’اوور بلنگ‘‘کی ڈکیتی سے حکومت باز آجائے۔اے پیارے اللہ یاں، اس کی برانچوں کو ’’آف شور کمپنیاں‘‘ بنانے کی بھی توفیق دے تاکہ وطن عزیز کے میٹھے میٹھے اسلامی سیاست دانوں کو دور نہ جانا پڑے۔پانامہ لیکس ہوں یا پاجامہ لیکس،ایسی رونقوں کا منبع وطن عزیز ہی کو بنا۔

*۔۔۔ یا باری تعالیٰ! ایسے اسباب پیدا کر کہ برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے سیاست دان پاکستان کی نیشنلٹی کو ترسیں۔ یا اللہ ان سب کو محروم نہ فرمانا، بلکہ چند ایک کو یہ نیشلٹی مل بھی جائے اور وہ پکے پکے ادھر ہی آجائیں۔ نہ صرف آجائیں،بلکہ ادھر بیٹھ کر اپنی جماعتوں کو بھی چلائیں۔ یااﷲان کو اتنی طاقت عطا فرما کہ جب چاہیں نیویارک، پیرس اور لندن کو ہڑتال کراکے بند کرادیں۔یااﷲ ان کی دہشت اتنی بڑھادے کہ نیویارک اور لندن کی سب مارکیٹیں ان کو چندہ اور کرسمس گفٹ بھیجیں۔ یااﷲان کے ’’نامعلوم افراد‘‘ کو بھی ہمت دے اور وہ لندن میں پندرہ ہزار افراد کو پھڑکا کر سکاٹ لینڈ یارڈ کو گھما دیں۔ یااﷲ ان کی رابطہ کمیٹیوں کو بھی اتنی طاقت عطاء فرماکہ بل گیٹس اور ملکہ برطانیہ بھی بنفس نفیس ان کے ہیڈ کوارٹر میں آکربغیر رسید کے پاکستان بھیجنے کے لئے ’’بھتا‘‘ جمع کرائیں۔ یا اﷲ ہماری اس وقت کی حکومت کو بھی اتنی طاقت عطا فرماکہ وہ جب چاہے، کسی بھی ایسے سیاست دان کی خون پسینے (پسینہ اور خون دوسروں کا)کی کمائی کو ’’منی لانڈرنگ‘‘ کہہ کر ضبط کرلے اور90 فیصد ذاتی اور10فیصد حکومتی خزانے میں جمع کر لے۔ 10 فیصد بھی عوام کے لئے بہت ہے۔

* ۔۔۔یا اللہ پاک !پاکستان میں کم از کم امریکی اور برطانوی نظام ہی نافذ کرادے، یعنی وہ نظام کہ یہ لوگ اپنے عوام کے لئے بڑے مہربان اور مخلص ہوتے ہیں، مگر غریب ممالک کے لئے پکے سازشی اور ظالم۔ نقاب پہنے ہوئے’’ڈبل فیس‘‘۔ یااﷲیہ نہیں ہوسکتا تو امریکہ اور برطانیہ کو لمبی ’’پسوڑیوں‘‘ میں ڈال دے تاکہ ان کا دھیان ہم سے ہٹ جائے۔۔۔’’تیرا کہڑا مل لگدا‘‘۔

*۔۔۔پیارے اللہ میاں! کبھی ہم بڑے خشوع و خضوع سے دُعا کیا کرتے کہ مغربی ممالک کی طرح ہماری اپوزیشن اور حکومت میں محبت پیدا کر دے، اتحاد پیدا کر دے تاکہ وہ مل کر پاکستان کی بہتری کے لئے کام کریں۔ دُعا تو قبول ہو گئی،مگر شاید وضو ٹھیک نہیں کیا تھا، بجائے پاکستان کی بہتری کے انہوں نے اپنی بہتری کے لئے کام شروع کر دیا۔ یا اللہ پاک یہ ’’زرداری مفاہمتی فارمولا‘‘ ہمیں ’’سوٹ نہیں کرتا، وارا نہیں کھاتا‘‘ ہم اپنی دعا واپس لیتے ہیں۔ یہ سب قوم اور ملک کے لئے اکٹھے نہیں ہوسکتے ،یہ اکٹھے ہوسکتے ہیں تو اپنی ایک لاکھ کی تنخواہ کو چھ لاکھ کرنے کے لئے۔ یااﷲ ہم باز آئے ان کے اتحاد سے ، ان سب کو آپس میں لڑا بھڑا دے، ان کو ’’آنے والی تھاں‘‘ پر پہنچا دے۔ یہی ہمارے اور مُلک کے لئے بہتر ہے ۔

*۔۔۔دوستو! دُعائیں تو بہت ہیں، لیکن کالم کا دامن چھوٹا ہے۔ویسے اصل بات یہ بھی ہے کہ ہماری کچھ خواہشات اور حسرتیں ،جو اب دُعاؤں کی شکل اختیار کر گئی ہیں، ’’قابلِ دست اندازی پولیس‘‘ہیں اور احاطہ تحریر سے باہر ہیں،کیونکہ امکان یہی ہے کہ کالم میں چھپتے ہی بندہ آپ کو ہاتھ میں تسبیح لئے ہوئے عدالتوں میں دکھائی دینا شروع ہوجائے گا لہٰذا ان کا ذکر جانے دیجئے، البتہ جاتے جاتے موضوع کی مناسبت سے آج سے نصف صدی قبل مرحوم راجہ مہدی علی خان کے قلم سے نکلی ہوئی ’’چور کی دُعا‘‘ سنتے جائیے ۔

اے خالق ارض و سما وقت دعا ہے

بندے پہ ترے آج عجب وقت پڑا ہے

پہلے بھی ہر آفت سے مجھے تو نے بچایا

دائم رہا مجھ پر تیرے الطاف کا سایہ

جب نام ترا لے کے کوئی نقب لگائی

ہر کام کی تدبیر مجھے تو نے سجھائی

سچ تو یہ ہے کتوں کو سلا رکھتا ہے تو ہی

میرے لئے دروازہ کھلا رکھتا ہے تو ہی

انصاف کے پنجے سے مجھے تو نے چھڑایا

اور دام حوالات میں اوروں کو پھنسایا

دل میں بہت ارمان لئے نکلا ہوں گھر سے

ایسا نہ ہو ناکام میں لوٹوں تیرے در سے

نامی کوئی ڈاکو نہیں، چھوٹا سا ہوں اک چور

رحم آتا ہے بندوں پہ بہت دل کا ہوں کمزور

مجھ سے کبھی گاڈریج کے تالے نہیں ٹوٹے

تیری ہی قسم میں نے کبھی بینک نہیں نہ لوٹے

چھ سات سو مل جائے تو بندے کو ہے کافی

وہ چور نہیں ہوں جو کرے وعدہ خلافی

اس چھت پہ کمند اپنی میں پھینکوں گا گھما کر

ہمت دے مجھے اتنی کہ چڑھ جاؤں میں فر فر

بسم اﷲ!ارے واہ میں قربان میں قربان کیا

خوب لگی ہے کمند!اﷲ تیری شان

مزید :

کالم -