محرم الحرام کے دوران وزیر اعلی پنجاب کا سیکورٹی پلان

 محرم الحرام کے دوران وزیر اعلی پنجاب کا سیکورٹی پلان
 محرم الحرام کے دوران وزیر اعلی پنجاب کا سیکورٹی پلان

  

وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے محرم الحرام کے سلسلہ میں جو سیکیورٹی پلان پولیس کو دیا ہے۔

اس پلان سے انشاء اللہ امن و امان کی صورت حال بہتر ہو گی اور پلان پر عمل درآمد کر کے پیدا شدہ مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ وزیر اعلی پنجاب کے ہمراہ جو ٹیم کام کر رہی ہے وہ امن عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانے کا عزم رکھتی ہے۔ امن و امان قائم رکھنے کے لئے شہر کو حساس قرار دے کر فوج اور رینجرز طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

9/10محرم کو موٹر سائیکل پر ڈبل سواری اور موبائل فون سروسز بند رہے گی اور دفعہ144نافذ کر دی جائے گی ۔ اس ٹیم میں آئی جی پنجاب کپٹن (ر) عارف نواز خان، تمام آر پی او ، ڈی پی او اپنے ڈویژن اور ضلع کے حساس جلوسوں اور مجالس کا سیکیورٹی پلان خود تشکیل دیں گے، اس ٹیم میں ڈی آئی جی انویسٹی کیشن ، چیف ٹریفک آفیسر رائے اعجاز احمد، ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف اور سی سی پی او لاہور امین وینس اور دیگر افسران شامل ہیں ۔ جوایک عزم اور ولولے کے ساتھ مصروف عمل ہیں ۔

پنجاب پولیس کا اصل مقصد ملک و سماج دشمن عناصر کی سر کوبی کرنا اور امن عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے تا ہم وزیر اعلی پنجاب، چیف سیکرٹری ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے چیکنگ کا سخت انتظام کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی کے لیے حکومت نے سراغ رساں کتے اور سی سی ٹی وی کیمرے خریدنے کے لیے بھی فنڈز جار ی کر دیئے ہیں ۔

پولیس کمانڈوز، ریزور پلاٹون ، ایلیٹ فورس کے چاک و چو بند دستے اور ریگولر پولیس کے ایک لاکھ 25ہزار نوجوانوں کو جدید سہولیات دے کر علاقوں میں گشت کو یقینی بنانے کا عزم کر رکھا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق محرم الحرام میں سیکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں سی سی پی اور، چیف ٹریفک آفیسر طیب حفیظ چیمہ نے پولیس وارڈنز کی10محرم تک چھٹیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور تمام ڈویژن کے ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ صرف انتہائی ایمرجنسی میں کسی ملازم کو چھٹی دی جائے ۔ 10محرم کے بعد چھٹیاں دی جائیں گی۔

سی ٹی او کے مطابق محرم میں لیڈی وارڈنز بھی خواتین کی سیکیورٹی کے لئے ڈیوٹی کریں گے۔

محرم الحرام میں امن و امان بر قرار رکھنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو باقاعدہ لائحہ عمل بنانا ہوگا ۔ جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی کے سلسلے میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہر افسر اور اہلکار کو اپنی اپنی جگہ نہایت جانفشانی اور ذمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دینا ہوں گے۔ کسی بھی غفلت کی صورت میں سماج دشمن عناصر فائدہ اُٹھا کر شہر کا امن تباہ کر سکتے ہیں ، ایس پی آپریشن اقبال ٹاؤن ، ڈی ایس پی رانا اشفاق اقبال ٹاؤن ، ڈی ایس پی ذوالفقار بٹ مصری شاہ ،ایس ایس پی سٹی انویسٹی گیشن نے اہم چورا ہوں اور چوکوں میں سفید کپڑوں میں پولیس کو بھی الرٹ کر دیا ہے کہ وہ عوام کے اندر گھوم پھر کر مشکوک افراد کی نگرانی کریں ۔ سٹریٹ کرائم کے خاتمہ کے لئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

ڈائریکٹر واسا سید زاہد عزیز نے تمام ٹاؤنز کے ڈائریکٹر ز کوہدایت کی ہے کہ محرم الحرام کے دوران آپریشن سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی جائیں ۔ واساسے متعلقہ تمام سہولیات ، مساجد اور امام بارگاہوں کے ارد گرد سیورج کی کارکردگی کاخصوصی جائزہ لیا گیا ، تاکہ جلوسوں کے روٹس پر کسی جگہ سیوریج کا پانی کھڑا نہ ہو۔ وزیر اعلی پنجاب میاں محمد نوازشریف نے عوام الناس کے مفاد کے تحفظ کا عزم کر رکھا ہے۔

محرم الحرام کی پلاننگ بابت سیکیورٹی اپنی مثال آپ ہے رینجرز اور آرمی کے دستے بھی محرم الحرام میں گشت کریں گے۔ گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں ایس پی اقبال ٹاون ، ڈی ایس پی اقبال ٹاؤن ، ڈی ایس پی گلبرگ ، ایس پی نیو انا ر کلی ، ڈی ایس پی اسلام پور ہ، ڈی ایس پی شفیق آباد اور دیگر ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے قابل ستائش قرار دیا مذکورہ افسران نے سماجی، مذہبی اور ہر حلقہ کے چیئرمین وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر خواجہ احمد احسان نے پولیٹکل سیکرٹری توصیف شاہ و معززین علاقہ پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے کر امن کی فضا بحال رکھنے پر زور دیا اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمہ کا بھی عزم کیا گیا محرم الحرام میں فوج اور رینجرز طلب کرنے کے ساتھ سراغرساں کتوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال کرنے کا فیصلہ اچھا اقدام ہے اس سے یقیناًسیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور شر پسند عناصر کی بھی کڑی نگرانی کی جا سکے گی ۔ مساجد اور امام بارگاہوں میں لاؤڈ سپیکر پر مکمل پابندی پر سختی سے عملد رآمد کروایاجارہا ہے۔

ان اقدامات کے حوالے سے مکینوں میں اطمینان پایا جاتا ہے، ہم سب کو مل جل کرحکومت کا ہاتھ بٹانا ہوگا اور ہر عقیدے کا قانون اور اسلامی تعلیمات کے مطابق احترام کرنا ہوگا اتحاد ، تنظیم ، یقین محکم اور اتفاق میں برکت ہوتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی بہتری کے لیے مل کرکام کرنا چاہیے۔

مزید :

کالم -